مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. حَدِیث عَبدِ الرَّحمَنِ بنِ عَوف الزّهرِیِّ رَضِیَ اللَّه عَنه
حدیث نمبر: 1664
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَتَوَجَّهَ نَحْوَ صَدَقَتِهِ فَدَخَلَ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَخَرَّ سَاجِدًا، فَأَطَالَ السُّجُودَ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَبَضَ نَفْسَهُ فِيهَا، فَدَنَوْتُ مِنْهُ، ثُمَ جَلَسْتُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا"، قُلْتُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَجَدْتَ سَجْدَةً خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَبَضَ نَفْسَكَ فِيهَا، فَقَالَ" إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام , أَتَانِي فَبَشَّرَنِي، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , يَقُولُ: مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ، وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَسَجَدْتُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ شُكْرًا".
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے، (میں بھی پیچھے پیچھے چلا) نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہو گئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کر دی اور اتنا طویل سجدہ کیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں آپ کی روح تو قبض نہیں ہو گئی۔ میں دیکھنے کے لئے آگے بڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر فرمایا: ”کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: عبدالرحمن ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبدالرحمن! کیا ہوا؟“ میں نے اپنا اندیشہ ذکر کر دیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرئیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے خوشخبری سنائی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو شخص آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر اپنی رحمت نازل کروں گا، اور جو شخص آپ پر سلام پڑھے گا میں اس پر سلام پڑھوں گا، یعنی اسے سلامتی دوں گا، اس پر میں نے بارگاہ الٰہی میں سجدہ شکر ادا کیا ہے۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1664]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبد الواحد بن محمد مجهول، ولعله لم يسمع من جده عبدالرحمن بن عوف
حدیث نمبر: 1665
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ الْهَيْثَمِ بْنِ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ ، أَنَّه سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، فَأَدْرَكَهُمْ وَقْتُ الصَّلَاةِ، فَأَقَامُوا الصَّلَاةَ فَتَقَدَّمَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ خَلْفَهُ رَكْعَةً فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ:" أَصَبْتُمْ أَوْ أَحْسَنْتُمْ".
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے، اتنی دیر میں نماز کا وقت ہو گیا، لوگوں نے نماز کھڑی کر دی اور سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر امامت فرمائی، پیچھے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی آگئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ ان کی اقتداء میں ایک رکعت ادا کی اور سلام پھیر کر فرمایا: ”تم نے اچھا کیا۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1665]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، رشدين بن سعد ضعيف عندالجمهور.
حدیث نمبر: 1666
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِذَا كَانَ الْوَبَاءُ بِأَرْضٍ وَلَسْتَ بِهَا، فَلَا تَدْخُلْهَا وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَأَنْتَ بِهَا، فَلَا تَخْرُجْ مِنْهَا".
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جس علاقے میں یہ وبا پھیلی ہوئی ہو، تم وہاں مت جاؤ، اور اگر تم کسی علاقے میں ہو اور وہاں یہ وبا پھیل جائے تو وہاں سے نہ نکلو۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1666]
حکم دارالسلام: إسناده قوي، خ: 5729، م: 2219 .
حدیث نمبر: 1667
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ،" أَنَّ قَوْمًا مِنَ الْعَرَبِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَأَسْلَمُوا وَأَصَابَهُمْ وَبَاءُ الْمَدِينَةِ حُمَّاهَا، فَأُرْكِسُوا فَخَرَجُوا مِنَ الْمَدِينَةِ , فَاسْتَقْبَلَهُمْ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعْنِي: أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا لَهُمْ: مَا لَكُمْ رَجَعْتُمْ؟ قَالُوا: أَصَابَنَا وَبَاءُ الْمَدِينَةِ، فَاجْتَوَيْنَا الْمَدِينَةَ، فَقَالُوا: أَمَا لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: نَافَقُوا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَمْ يُنَافِقُوا , هُمْ مُسْلِمُونَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا سورة النساء آية 88.
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عرب کی ایک قوم مدینہ منورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی اس لئے وہ شدید بخار میں مبتلا ہو گئے اور ان پر یہ مصیبت آ پڑی، چنانچہ وہ لوگ مدینہ منورہ سے نکل گئے، راستے میں ان کا آمنا سامنا کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ہو گیا، انہوں نے ان سے پوچھا کہ تم لوگ کیوں واپس جا رہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں وہاں کی آب و ہوا موافق نہیں آئی اور ہمیں پیٹ کی بیماریاں لاحق ہو گئی ہیں، انہوں نے کہا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں تمہارے لئے نمونہ موجود نہیں ہے؟ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں دو گروہ ہو گئے، بعض نے انہیں منافق قرار دیا اور بعض کہنے لگے کہ یہ منافق نہیں ہیں بلکہ مسلمان ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: « ﴿فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللّٰهُ أَرْكَسَهُم بِمَا كَسَبُوا﴾ [النساء: 88] » ”تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقین کے بارے دو گروہوں میں بٹ گئے، حالانکہ اللہ نے انہیں ان کی حرکتوں کی وجہ سے اس مصیبت میں مبتلا کیا۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1667]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن اسحاق مدلس وقد عنعن وأبو سلمة لم يسمع من أبيه.
حدیث نمبر: 1668
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ:" سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَوْتَ ابْنِ الْمُغْتَرِفِ، أَوْ ابْنِ الْغَرِفِ الْحَادِي فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، وَنَحْنُ مُنْطَلِقُونَ إِلَى مَكَّةَ، فَأَوْضَعَ عُمَرُ رَاحِلَتَهُ حَتَّى دَخَلَ مَعَ الْقَوْمِ، فَإِذَا هُوَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَلَمَّا طَلَعَ الْفَجْرُ، قَالَ عُمَرُ: هَيْءَ الْآنَ، اسْكُتْ الْآنَ، قَدْ طَلَعَ الْفَجْرُ , اذْكُرُوا اللَّهَ، قَالَ: ثُمَّ أَبْصَرَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ خُفَّيْنِ، قَالَ: وَخُفَّانِ؟ فَقَالَ: قَدْ لَبِسْتُهُمَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، أَوْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا نَزَعْتَهُمَا، فَإِنِّي أَخَافُ، أَنْ يَنْظُرَ النَّاسُ إِلَيْكَ، فَيَقْتَدُونَ بِكَ".
عبداللہ بن عامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مکہ مکرمہ جا رہے تھے، آدھی رات کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کانوں میں ابن مطرف - جو اونٹوں کا حدی خوان تھا - کی آواز پڑی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری کو بٹھایا اور لوگوں میں داخل ہو گئے، وہاں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، جب طلوع فجر ہو گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: اب بس کرو، اب خاموش ہو جاؤ کیونکہ طلوع فجر ہو چکی، اب اللہ کا ذکر کرو۔ پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نگاہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے موزوں پر پڑی تو فرمایا کہ آپ نے موزے پہن رکھے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ تو میں نے اس ہستی کی موجودگی میں بھی پہنے ہیں جو آپ سے بہتر تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ ان موزوں کو اتار دیجئے، اس لئے کہ مجھے خطرہ ہے کہ اگر لوگوں نے آپ کو دیکھ لیا تو وہ آپ کی پیروی کرنے لگیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1668]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، شريك بن عبدالله ضعيف، سوء حفظه وعاصم بن عبيدالله ضعيف.
حدیث نمبر: 1669
قَالَ: وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ، وَقَالَ: لَبِسْتُهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1669]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، راجع ما قبله.
حدیث نمبر: 1670
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ , أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، قَال:" أَقْطَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا"، فَذَهَبَ الزُّبَيْرُ إِلَى آلِ عُمَرَ، فَاشْتَرَى نَصِيبَهُ مِنْهُمْ، فَأَتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ زَعَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهُ، وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا، وَإِنِّي اشْتَرَيْتُ نَصِيبَ آلِ عُمَرَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ جَائِزُ الشَّهَادَةِ لَهُ وَعَلَيْهِ.
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زمین کا فلاں فلاں ٹکڑا عنایت کیا تھا، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے آل عمر کے پاس جا کر ان سے ان کا حصہ خرید لیا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہنے لگے کہ عبدالرحمن کا یہ خیال تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زمین کا فلاں ٹکڑا عنایت فرمایا تھا اور میں نے آل عمر کا حصہ خرید لیا ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عبدالرحمن کی شہادت قابل اعتبار ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1670]
حکم دارالسلام: رجاله ثقات إلا أن في سماع عروة من عبدالرحمن بن عوف وقفة.
حدیث نمبر: 1671
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ , يَرُدُّهُ إِلَى مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ ، عَنِ ابْنِ السَّعْدِيِّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا دَامَ الْعَدُوُّ يُقَاتَلُ". رقم الحديث: 1604 (حديث موقوف) (حديث مرفوع) فَقَالَ مُعَاوِيَةُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ الْهِجْرَةَ خَصْلَتَانِ إِحْدَاهُمَا، أَنْ تَهْجُرَ السَّيِّئَاتِ وَالْأُخْرَى، أَنْ تُهَاجِرَ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَلَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا تُقُبِّلَتْ التَّوْبَةُ، وَلَا تَزَالُ التَّوْبَةُ مَقْبُولَةً، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنَ الْمَغْرِبِ، فَإِذَا طَلَعَتْ، طُبِعَ عَلَى كُلِّ قَلْبٍ بِمَا فِيهِ، وَكُفِيَ النَّاسُ الْعَمَلَ".
ابن سعدی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہجرت اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک دشمن قتال نہ کرے۔“ سیدنا امیر معاویہ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہجرت کی دو قسمیں ہیں، ایک تو گناہوں سے ہجرت ہے اور دوسری اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت ہے، اور ہجرت اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک توبہ قبول ہوتی رہے گی، اور توبہ اس وقت تک قبول ہوتی رہے گی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے، اور جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو ہر دل پر مہر لگا دی جائے گی اور عمل سے لوگوں کی کفایت کر لی جائے گی (یعنی اس وقت کوئی عمل کام نہ آئے گا اور نہ اس کی ضرورت رہے گی)۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1671]
حکم دارالسلام: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 1672
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ:" لَمَّا خَرَجَ الْمَجُوسِيُّ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهُ فَأَخْبَرَنِي، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَيَّرَهُ بَيْنَ الْجِزْيَةِ وَالْقَتْلِ، فَاخْتَارَ الْجِزْيَةَ".
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک مجوسی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے نکلا، میں نے اس سے اس مجلس کی تفصیلات معلوم کیں، تو اس نے مجھے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ٹیکس اور قتل میں سے کوئی ایک صورت قبول کر لینے کا اختیار دیا تھا جس میں سے اس نے ٹیکس والی صورت کو اختیار کر لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1672]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، سعيد بن عبدالعزيز اختلط بأخرة وسليمان بن موسى لم يدرك عبدالرحمن بن عوف.
حدیث نمبر: 1673
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَاجِشُونُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي لَوَاقِفٌ يَوْمَ بَدْرٍ فِي الصَّفِّ , نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي، فَإِذَا أَنَا بَيْنَ غُلَامَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ، حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا، تَمَنَّيْتُ لَوْ كُنْتُ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا، فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا، فَقَالَ: يَا عَمِّ، هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، وَمَا حَاجَتُكَ يَا ابْنَ أَخِي، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّهُ سَبَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ رَأَيْتُهُ لَمْ يُفَارِقْ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا، قَالَ: فَغَمَزَنِي الْآخَرُ، فَقَالَ لِي مِثْلَهَا، قَالَ: فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ، قَالَ: فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَزُلْ جُولُ فِي النَّاسِ، فَقُلْتُ لَهُمَا: أَلَا تَرَيَانِ؟ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تَسْأَلَانِ عَنْهُ، فَابْتَدَرَاهُ، فَاسْتَقْبَلَهُمَا، فَضَرَبَاهُ حَتَّى قَتَلَاهُ، ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَاهُ، فَقَالَ:" أَيُّكُمَا قَتَلَهُ؟" فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: أَنَا قَتَلْتُهُ، قَالَ:" هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا؟"، قَالَا: لَا، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّيْفَيْنِ، فَقَالَ:" كِلَاكُمَا قَتَلَهُ" , وَقَضَى بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، وَهُمَا مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ، وَمُعَاذُ ابْنُ عَفْرَاءَ.
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن میں مجاہدین کی صف میں کھڑا ہوا تھا، میں نے دائیں بائیں دیکھا تو دو نوعمر نوجوان میرے دائیں بائیں کھڑے تھے، میں نے دل میں سوچا کہ اگر میں دو بہادر آدمیوں کے درمیان ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا؟ اتنی دیر میں ان میں سے ایک نے مجھے چٹکی بھری اور کہنے لگا: چچاجان! کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں! لیکن بھتیجے! تمہیں اس سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا: مجھے پتہ چلا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا ہے، اللہ کی قسم! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میں اس وقت تک اس سے جدا نہیں ہوں گا جب تک کہ ہم میں سے کسی کو موت نہ آجائے۔ مجھے اس کی بات پر تعجب ہوا، اور ابھی میں اس پر تعجب کر ہی رہا تھا کہ دوسرے نے مجھے چٹکی بھری اور اس نے بھی مجھ سے یہی بات کہی، تھوڑی دیر بعد مجھے ابوجہل لوگوں میں گھومتا ہوا نظر آگیا، میں نے ان دونوں سے کہا: یہی ہے وہ آدمی جس کا تم مجھ سے پوچھ رہے تھے، یہ سنتے ہی وہ دونوں اس پر اپنی تلواریں لے کر ٹوٹ پڑے یہاں تک کہ اسے قتل کر کے ہی دم لیا، اور واپس آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ”تم میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے؟“ دونوں میں سے ہر ایک نے کہا کہ میں نے اسے قتل کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اپنی تلواریں صاف کر لیں ہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا کہ ”تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے“، اور اس کے ساز و سامان کا فیصلہ معاذ بن عمرو بن الجموح کے حق میں کر دیا، ان دونوں بچوں کے نام معاذ بن عمرو بن الجموح اور معاذ بن عفراء تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ بَاقِي الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ/حدیث: 1673]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3141، م: 1752.