مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. حَدِیث عَبدِ اللَّهِ بنِ جَعفَرِ بنِ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللَّه عَنهمَا
حدیث نمبر: 1741
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ".
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تر کھجور کے ساتھ ککڑی کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1741]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5440، م: 2043 .
حدیث نمبر: 1742
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ لِابْنِ الزُّبَيْرِ:" أَتَذْكُرُ إِذْ تَلَقَّيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَنْتَ وَابْنُ عَبَّاسٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَحَمَلَنَا وَتَرَكَكَ؟ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً: أَتَذْكُرُ إِذْ تَلَقَّيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَنْتَ وَابْنُ عَبَّاسٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَحَمَلَنَا وَتَرَكَكَ.
ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں، آپ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تھی؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اٹھا لیا تھا اور آپ کو چھوڑ دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1742]
حکم دارالسلام: إسناد صحيح، خ: 3082، م: 2427.
حدیث نمبر: 1743
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، تُلُقِّيَ بِالصِّبْيَانِ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، قَالَ: وَإِنَّهُ قَدِمَ مَرَّةً مِنْ سَفَرٍ، قَالَ: فَسُبِقَ بِي إِلَيْهِ، قَالَ: فَحَمَلَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ جِيءَ بِأَحَدِ ابْنَيْ فَاطِمَةَ، إِمَّا حَسَنٍ، وَإِمَّا حُسَيْنٍ، فَأَرْدَفَهُ خَلْفَهُ، قَالَ: فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ ثَلَاثَةً عَلَى دَابَّةٍ".
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی سفر سے واپس آتے تو اپنے اہل بیت کے بچوں سے ملاقات فرماتے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس تشریف لائے، سب سے پہلے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اٹھا لیا، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے کسی صاحبزادے سیدنا حسن یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو لایا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا، اس طرح ہم ایک سواری پر تین آدمی سوار ہو کر مدینہ منورہ میں داخل ہوئے۔ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1743]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2428.
حدیث نمبر: 1744
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ فَهْمٍ، قَالَ: وَأَظُنُّهُ يُسَمَّى مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: وَأَظُنُّهُ حِجَازِيًّا، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ , يُحَدِّثُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، وَقَدْ نُحِرَتْ لِلْقَوْمِ جَزُورٌ أَوْ بَعِيرٌ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَالْقَوْمُ يُلْقُونَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّحْمَ، يَقُولُ:" أَطْيَبُ اللَّحْمِ لَحْمُ الظَّهْرِ".
ایک مرتبہ ایک اونٹ ذبح ہوا تو سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ انہوں نے ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو - جبکہ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوشت لا کر پیش کر رہے تھے - فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”بہترین گوشت پشت کا ہوتا ہے۔“ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1744]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، محمد بن عبد الرحمن مجهول.
حدیث نمبر: 1745
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ، فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُخْبِرُ بِهِ أَحَدًا أَبَدًا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ فِي حَاجَتِهِ هَدَفٌ، أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ، فَدَخَلَ يَوْمًا حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْأَنْصَارِ، فَإِذَا جَمَلٌ قَدْ أَتَاهُ فَجَرْجَرَ، وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، قَالَ بَهْزٌ , وَعَفَّانُ: فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَنَّ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَاتَهُ وَذِفْرَاهُ، فَسَكَنَ , فَقَالَ:" مَنْ صَاحِبُ الْجَمَلِ؟" , فَجَاءَ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: هُوَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" أَمَا تَتَّقِي اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهِيمَةِ الَّتِي مَلَّكَكَهَا اللَّهُ، إِنَّهُ شَكَا إِلَيَّ أَنَّكَ تُجِيعُهُ وَتُدْئِبُهُ".
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے اپنی سواری پر بٹھایا اور میرے ساتھ سرگوشی میں ایسی بات کہی جو میں کسی کو کبھی نہیں بتاؤں گا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ قضاء حاجت کے موقع پر کسی اونچی عمارت یا درختوں کے جھنڈ کی آڑ میں ہو جاتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی انصاری کے باغ میں داخل ہوئے، اچانک ایک اونٹ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں لوٹنے لگا، اس وقت اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کمر پر اور سر کے پچھلے حصے پر ہاتھ پھیرا جس سے وہ پرسکون ہو گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس اونٹ کا مالک کون ہے؟“ یہ سن کر ایک انصاری نوجوان آگے بڑھا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! یہ میرا اونٹ ہے، فرمایا: ”کیا تم اس جانور کے بارے میں - جو اللہ نے تمہاری ملکیت میں کر دیا ہے - اللہ سے ڈرتے نہیں؟ یہ مجھ سے شکایت کر رہا ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو، اور اس سے محنت و مشقت کا کام زیادہ لیتے ہو۔“ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1745]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 342.
حدیث نمبر: 1746
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي رَافِعٍ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ".
حماد بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی رافع کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہن رکھی ہے، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کو دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنے ہوئے دیکھا ہے، اور ان کے بقول نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1746]
حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 1747
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ ، أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ شَيْبَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ".
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص کو نماز میں شک ہو جائے، اسے چاہیے کہ وہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے۔“ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1747]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عبدالله بن مسافع لا يعرف بجرح ولا تعديل ومصعب بن شيبة لين الحديث. عقبة والصواب: عتبة بن محمد بن الحارث ليس بمعروف. ثم هو مضطرب، يقول مرة: «وهو جالس» ، ويقول مرة أخرى: «بعد مايسلم.» ويغني عنه حديث أبى هريرة ، خ: 1231 ، 1232، م: 389.
حدیث نمبر: 1748
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ أُمِّ كِلَابٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، قَالَ أَحَدُهُمَا: ذِي الْجَنَاحَيْنِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا عَطَسَ حَمِدَ اللَّهَ، فَيُقَالُ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَيَقُولُ:" يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ".
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کسی شخص کو چھینک آئے تو وہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہے، سننے والا «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» کہے اور چھینکنے والا پھر «يَهْدِيكُمُ اللّٰهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» کہے۔“ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1748]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف ، ابن لهيعة ضعيف وعبيد بن أم كلب لم يذكر فيه جرح ولا تعديل.
حدیث نمبر: 1749
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ آخِرَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِحْدَى يَدَيْهِ رُطَبَاتٌ، وَفِي الْأُخْرَى قِثَّاءٌ، وَهُوَ يَأْكُلُ مِنْ هَذِهِ وَيَعَضُّ مِنْ هَذِهِ، وَقَالَ:" إِنَّ أَطْيَبَ الشَّاةِ لَحْمُ الظَّهْرِ".
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری کیفیت جو میں نے دیکھی، وہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ہاتھ میں تر کھجوریں تھیں اور دوسرے میں ککڑی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کھجور کھاتے اور اس سے ککڑی کاٹتے، اور فرمایا کہ ”بہترین گوشت پشت کا ہوتا ہے۔“ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1749]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً. نصر بن باب ضعيف جداً وحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن وقتادة لم يسمع من أحد من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم إلا من أنس وأبي الطفيل.
حدیث نمبر: 1750
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي يَعْقُوبَ يُحَدِّثُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا اسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ , وَقَالَ:" فَإِنْ قُتِلَ زَيْدٌ أَوْ اسْتُشْهِدَ فَأَمِيرُكُمْ جَعْفَرٌ، فَإِنْ قُتِلَ أَوْ اسْتُشْهِدَ فَأَمِيرُكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ"، فَلَقُوا الْعَدُوَّ، فَأَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ جَعْفَرٌ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَأَتَى خَبَرُهُمْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ إِلَى النَّاسِ , فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ:" إِنَّ إِخْوَانَكُمْ لَقُوا الْعَدُوَّ، وَإِنَّ زَيْدًا أَخَذَ الرَّايَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوْ اسْتُشْهِدَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ بَعْدَهُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوْ اسْتُشْهِدَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوْ اسْتُشْهِدَ، ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ"، فَأَمْهَلَ ثُمَّ أَمْهَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ، ثُمَّ أَتَاهُمْ فَقَالَ:" لَا تَبْكُوا عَلَى أَخِي بَعْدَ الْيَوْمِ أَوْ غَدٍ، ادْعُوا لِي ابْنَيْ أَخِي"، قَالَ: فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ، فَقَالَ:" ادْعُوا لِيَّ الْحَلَّاقَ"، فَجِيءَ بِالْحَلَّاقِ فَحَلَقَ رُءُوسَنَا، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا مُحَمَّدٌ فَشَبِيهُ عَمِّنَا أَبِي طَالِبٍ، وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَشَبِيهُ خَلْقِي وَخُلُقِي، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي، فَأَشَالَهَا، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي أَهْلِهِ، وَبَارِكْ لِعَبْدِ اللَّهِ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ"، قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ، قَالَ: فَجَاءَتْ أُمُّنَا، فَذَكَرَتْ لَهُ يُتْمَنَا، وَجَعَلَتْ تُفْرِحُ لَهُ، فَقَالَ:" الْعَيْلَةَ تَخَافِينَ عَلَيْهِمْ وَأَنَا وَلِيُّهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟".
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا جس کا امیر سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا، ان کی شہادت کی صورت میں سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو، اور ان کی شہادت کی صورت میں سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرمایا، دشمن سے آمنا سامنا ہوا، سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا ہاتھ میں پکڑ کر اس بےجگری سے جنگ کی کہ شہید ہو گئے، پھر سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا ہاتھ میں لے کر قتال شروع کیا لیکن وہ بھی شہید ہو گئے، پھر سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا ہاتھ میں لے کر جنگ شروع کی لیکن وہ بھی شہید ہو گئے، پھر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اپنے ہاتھ میں لیا اور ان کے ہاتھ پر اللہ نے مسلمانوں کو فتح عطاء فرمائی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس واقعہ کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس تشریف لائے، اللہ کی حمد و ثناء کی اور فرمایا: ”تمہارے بھائیوں کا دشمن سے آمنا سامنا ہوا، زید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا پکڑ کر قتال شروع کیا اور شہید ہو گئے، ان کے بعد جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جھنڈا پکڑ کر جنگ شروع کی اور وہ بھی شہید ہو گئے، پھر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا تھاما اور قتال شروع کیا لیکن وہ بھی شہید ہو گئے، اس کے بعد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا پکڑ کر جنگ شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عطاء فرمائی۔“ پھر تین دن بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے اہل خانہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا، میرے دونوں بھتیجوں کو میرے پاس لاؤ۔“ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، ہم اس وقت چوزوں کی طرح تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نائی کو بلانے کے لئے حکم دیا، اس نے آکر ہمارے سر مونڈے، پھر فرمایا: ”ان میں سے محمد تو ہمارے چچا ابوطالب کے مشابہ ہے، اور عبداللہ صورت و سیرت میں میرے مشابہ ہے۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر بلند کیا اور دعا فرمائی: «اَللّٰهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي أَهْلِهِ وَبَارِكْ لِعَبْدِ اللّٰهِ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ» ”اے اللہ! جعفر کے اہل خانہ کو اس کا نعم البدل عطاء فرما، اور عبداللہ کے دائیں ہاتھ کے معاملے میں برکت عطاء فرما۔“ یہ دعا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائی۔ اتنی دیر میں ہماری والدہ بھی آگئیں اور ہماری یتیمی اور اپنے غم کا اظہار کرنے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں ان پر فقر و فاقہ کا اندیشہ ہے؟ میں دنیا و آخرت میں ان بچوں کا سرپرست ہوں۔“ [مسند احمد/مسنَد اَهلِ البَیتِ رِضوَان اللَّهِ عَلَیهِم اَجمَعِینَ/حدیث: 1750]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح.