مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. مسنَد حَكِیمِ بنِ حِزَام عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 15311
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِينِي الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي الْبَيْعَ، لَيْسَ عِنْدِي مَا أَبِيعُهُ، ثُمَّ أَبِيعُهُ مِنَ السُّوقِ، فَقَالَ:" لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ".
سیدنا حکیم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: ہے یا رسول اللہ! میرے پاس ایک آدمی آتا ہے اور مجھ سے کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے لیکن اس وقت میرے پاس وہ چیز نہیں ہو تی کیا میں اسے بازار سے لے کر بیچ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اسے مت بیچو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15311]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، يوسف بن ماهك لم يسمع من حكيم بن حزام
حدیث نمبر: 15312
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ يُحَدِّثُ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى أَنْ لَا أَخِرَّ إِلَّا قَائِمًا، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي الْبَيْعَ، وَلَيْسَ عِنْدِي، أَفَأَبِيعُهُ؟ قَالَ:" لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ".
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر اس شرط سے بیعت کی تھی کہ میں ساری رات خراٹے لے کر نہیں گزاروں گا بلکہ قیام کر وں گا۔ سیدنا حکیم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: ہے یا رسول اللہ! میرے پاس ایک آدمی آتا ہے اور مجھ سے کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے لیکن اس وقت میرے پاس وہ چیز نہیں ہو تی کیا میں اسے بازار سے لے کر بیچ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اسے مت بیچو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15312]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: بايعت رسول الله ﷺ على أن لا أخر إلا قائما، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، يوسف بن ماهك لم يسمع من حكيم بن حزام
حدیث نمبر: 15313
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ:" نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيعَ مَا لَيْسَ عِنْدِي" , قَالَ: أَيُّوبُ أَوْ قَالَ: سِلْعَةً لَيْسَتْ عِنْدِي.
سیدنا حکیم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات سے منع فرمایا ہے جو چیز میرے پاس نہیں ہے اسے فروخت کر وں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15313]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، يوسف بن ماهك لم يسمع من حكيم بن حزام
حدیث نمبر: 15314
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا، رُزِقَا بَرَكَةَ بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا، مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا".
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں اور اگر وہ دونوں سچ بولیں اور ہر چیز واضح کر دیں تو انہیں اس بیع کی برکت نصیب ہو گی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور کچھ چھپائیں تو ان سے بیع کی برکت ختم کر دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15314]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2108، م: 1532
حدیث نمبر: 15315
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سعيد ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يُطْلَبُ مِنِّي الْمَتَاعُ وَلَيْسَ عِنْدِي، أَفَأَبِيعُهُ لَهُ؟ قَالَ:" لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ".
سیدنا حکیم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس ایک آدمی آتا ہے اور مجھ سے کوئی چیز خریدنا چاہتا ہے لیکن اس وقت میرے پاس وہ چیز نہیں ہو تی کیا میں اسے بازار سے لے کر بیچ سکتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اسے مت بیچو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15315]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، يوسف بن ماهك لم يسمع من حكيم بن حزام
حدیث نمبر: 15316
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ رَجُلٍ , أَنَّ يُوسُفَ بْنَ مَاهَكَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَصْمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَشْتَرِي بُيُوعًا، فَمَا يَحِلُّ لِي مِنْهَا، وَمَا يُحَرَّمُ عَلَيَّ، قَالَ:" فَإِذَا اشْتَرَيْتَ بَيْعًا، فَلَا تَبِعْهُ حَتَّى تَقْبِضَهُ".
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ یا رسول اللہ! میں خریدو فروخت کرتا رہتا ہوں اس میں میرے لئے کیا حلال ہے اور کیا حرام؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی چیز خریدا کر و تو اسے اس وقت تک آگے نہ بیچا کر و جب تک اس پر قبضہ نہ کر لو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15316]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 15317
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَام ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ خَيْرَ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ".
سیدنا حکیم سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہوتا ہے جو کچھ مالداری باقی رکھ کر کیا جائے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے تم صدقہ خیرات میں ان لوگوں سے آغاز کر و جو تمہاری ذمہ داری میں ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15317]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1427، م: 1034
حدیث نمبر: 15318
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ عَتَاقَةٍ، وَصِلَةِ رَحِمٍ، هَلْ لِي فِيهَا أَجْرٌ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَف مِنْ خَيْرٍ".
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ بہت سے وہ کام جو میں زمانہ جاہلیت میں کرتا تھا مثلا غلاموں کو آزاد کرنا اور صلہ رحمی کرنا وغیرہ تو کیا مجھے ان کا اجر ملے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ جاہلیت سے قبل از نیکی کے جتنے بھی کام کئے ان کے ساتھ مسلمان ہوئے ان کا اجر وثواب تمہیں ضرور ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15318]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1436، م: 123
حدیث نمبر: 15319
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ فَقَالَ:" أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ" , وَالتَّحَنُّثُ: التَّعَبُّدُ.
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ نبوت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ بہت سے وہ کام جو میں زمانہ جاہلیت میں کرتا تھا مثلا غلاموں کو آزاد کرنا اور صلہ رحمی کرنا وغیرہ تو کیا مجھے ان کا اجر ملے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ جاہلیت سے قبل نیکی کے جتنے بھی کام کئے ان کے ساتھ مسلمان ہوئے ان کا اجر وثواب تمہیں ضرور ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15319]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1436، م: 123
حدیث نمبر: 15320
(حديث مرفوع) قال: عَبْد اللَّهِ بن أحمد , قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّدَقَاتِ , أَيُّهَا أَفْضَلُ؟ قَالَ" عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ".
سیدنا حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا صدقہ افضل ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قریبی ضرورت مند رشتہ دار پر ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15320]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف سفيان بن حسين