🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

39. حَدِیث سَبرَةَ بنِ مَعبَد رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15337
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ الْفَتْحِ".
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15337]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1406
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15338
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَد ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ: تَذَاكَرْنَا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْمُتْعَةَ مُتْعَةَ النِّسَاءِ، فَقَالَ رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ : سَمِعْتُ أَبِي , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" يَنْهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ".
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت کرتے ہوئے سنا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15338]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1406
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15339
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا بَلَغَ الْغُلَامُ سَبْعَ سِنِينَ أُمِرَ بِالصَّلَاةِ، فَإِذَا بَلَغَ عَشْرًا ضُرِبَ عَلَيْهَا".
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لڑکا سات سال کا ہو جائے تو اسے نماز کا حکم دیا جائے اور جب دس سال کا ہو جائے تو نماز نہ پڑھنے پر اسے مارا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15339]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15340
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدٌ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْتَتِرْ لِصَلَاتِهِ وَلَوْ بِسَهْمٍ".
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے لگے تو سترہ گاڑ لیا کر ے خواہ ایک تیر ہی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15340]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15341
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أّن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ يُصَلَّى فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، وَرَخَّصَ أَنْ يُصَلَّى فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ".
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے اور عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15341]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15342
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سُتْرَةُ الرَّجُلِ فِي الصَّلَاةِ السَّهْمُ، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلْيَسْتَتِرْ بِسَهْمٍ".
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز میں انسان کا سترہ تیر بھی بن سکتا ہے اس لئے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو تیر ہی کا سترہ بنالے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15342]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15343
(حديث مرفوع) قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ , أَنَّهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ نُصَلِّيَ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، وَرَخَّصَ أَنْ نُصَلِّيَ فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنِ الْمُتْعَةِ".
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے اور عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15343]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1406، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15344
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَرَّمَ مُتْعَةَ النِّسَاءِ".
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کو حرام قرار دے دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15344]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1406
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15345
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِعُسْفَانَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ" , فَقَالَ لَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ أَوْ مَالِكُ بْنُ سُرَاقَةَ شَكَّ عَبْدُ الْعَزِيزِ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنَا تَعْلِيمَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، عُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لْأَبَدِ؟ قَالَ:" بَلْ لْأَبَدِ" , فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَمَرَنَا بِمُتْعَةِ النِّسَاءِ، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُنَّ قَدْ أَبَيْنَ إِلَّا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، قَالَ:" فَافْعَلُوا" , قَالَ: فَخَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي عَلَيَّ بُرْدٌ , وَعَلَيْهِ بُرْدٌ، فَدَخَلْنَا عَلَى امْرَأَةٍ , فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا، فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى بُرْدِ صَاحِبِي، فَتَرَاهُ أَجْوَدَ مِنْ بُرْدِي، وَتَنْظُرُ إِلَيَّ فَتَرَانِي أَشَبَّ مِنْهُ، فَقَالَتْ: بُرْدٌ مَكَانَ بُرْدٍ، وَاخْتَارَتْنِي فَتَزَوَّجْتُهَا عَشْرًا بِبُرْدِي، فَبِتُّ مَعَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ يَقُولُ:" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً إِلَى أَجَلٍ، فَلْيُعْطِهَا مَا سَمَّى لَهَا، وَلَا يَسْتَرْجِعْ مِمَّا أَعْطَاهَا شَيْئًا، وَلْيُفَارِقْهَا، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ حَرَّمَهَا عَلَيْكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے جب ہم لوگ مقام غسان میں پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے اس پر سیدنا سراقہ بن مالک نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ان لوگوں کی طرح تعلیم دیجیے جو گویا آج ہی پیدا ہوئے ہوں یہ ہمارے اس عمرے کا حکم ہے یا ہمیشہ کے لئے یہی حکم ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ ہمیشہ کا یہی حکم ہے۔ پھر جب ہم مکہ مکر مہ پہنچے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں کے پاس جانے کی اجازت دیدی ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! عورتیں ایک وقت مقررہ کے علاوہ کسی اور صورت میں راضی ہی نہیں ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ایسا ہی کر لو چنانچہ میں اور میرا ساتھی نکلے میرے پاس بھی ایک چادر تھی اور اس کے پاس بھی ایک چادر تھی ہم ایک عورت کے پاس پہنچے اور اس کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا جب وہ میرے ساتھی کی چادر کو دیکھتی تو وہ اسے میری چادر سے اچھی معلوم ہو تی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے میرے ساتھی سے زیادہ جوان محسوس کر تی بالآخر کہنے لگی کہ چادر چادر کے بدلے میں ہو گی اور یہ کہہ کر اس نے مجھے پسند کر لیا اور میں نے اس سے اپنی چادر کے عوض دس دن کے لئے نکاح کر لیا۔ وہ رات میں نے اسی کے ساتھ گزاری جب صبح ہوئی تو مسجد کی طرف میں روانہ ہوا وہاں پہنچ کر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ آپ فرما رہے تھے تم میں جس شخص نے کسی عورت کے ساتھ ایک متعین وقت کے لئے نکاح کیا ہے اسے چاہیے کہ اس نے جو چیز مقرر کی ہے وہ اسے دیدے اور اپنی دی ہوئی چیز کو اس سے واپس نہ مانگے اور خود اس سے علیحدگی اختیار کر لے کیونکہ اللہ نے اب اس کام کو قیامت تک کے لئے تم پر حرام قرار دے دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15345]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15346
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عام الْفَتْحِ، فَأَقَمْنَا خَمْسَ عَشْرَةَ مِنْ بَيْنِ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ , قَالَ: قَالَ فَأَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُتْعَةِ، قَالَ: وَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي فِي أَسْفَلِ مَكَّةَ أَوْ قَالَ فِي أَعْلَى مَكَّةَ، فَلَقِينَا فَتَاةً مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ كَأَنَّهَا الْبَكْرَةُ الْعَنَطْنَطَةُ، قَالَ: وَأَنَا قَرِيبٌ مِنَ الدَّمَامَةِ وَعَلَيَّ بُرْدٌ جَدِيدٌ غَضٌّ، وَعَلَى ابْنِ عَمِّي بُرْدٌ خَلَقٌ , قَالَ: فَقُلْنَا لَهَا: هَلْ لَكِ أَنْ يَسْتَمْتِعَ مِنْكِ أَحَدُنَا؟ قَالَتْ: وَهَلْ يَصْلُحُ ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى ابْنِ عَمِّي، فَقُلْتُ لَهَا: إِنَّ بُرْدِي هَذَا جَدِيدٌ غَضٌّ، وَبُرْدَ ابْنِ عَمِّي هَذَا خَلَقٌ مَحٌّ، قَالَتْ: بُرْدُ ابْنِ عَمِّكَ هَذَا لَا بَأْسَ بِهِ، قَالَ فَاسْتَمْتَعَ مِنْهَا، فَلَمْ نَخْرُجْ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینے منورہ سے نکلے ہم پندرہ دن وہاں رکے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیدی چنانچہ میں اور میرا ایک چچا زاد نکلے ہم ایک عورت کے پاس پہنچے اس کا تعلق بنوبکر سے تھا اور وہ نہایت جوان تھی جب وہ میرے چچازاد کی چادر کو دیکھتی تو وہ اسے میری چادر سے پرانی معلوم ہو تی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے میرے ساتھی سے زیادہ جوان محسوس کر تی اور میرے پاس چادر بھی نئی تھی ہم نے اس سے کہا کیا ہم میں سے کوئی ایک تم سے فائدہ اٹھاسکتا ہے اس نے کہا کیا جائز ہے ہم نے کہا ہاں وہ میرے چچا زاد کو دیکھنے لگی تو میں نے اسے بتایا کہ میری چادر نئی اور عمدہ ہے جبکہ اس کی چادر پرانی اور میلی ہے اس نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں چنانچہ میرے چچازاد نے اس سے فائدہ اٹھایا ابھی ہم مکہ مکر مہ سے نکلنے نہ پائے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15346]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1406
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں