🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

39. حَدِیث سَبرَةَ بنِ مَعبَد رَضِیَ اللَّه عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15347
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ رَبِّ بْنَ سَعِيدٍ يُحَدِّثُ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ يُقَالُ لَهُ: السَّبْرِيّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ:" أَمَرَهُمْ بِالْمُتْعَةِ" , قَالَ: فَخَطَبْتُ أَنَا وَرَجُلٌ امْرَأَةً، قَالَ: فَلَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَإِذَا هُوَ يُحَرِّمُهَا أَشَدَّ التَّحْرِيمِ، وَيَقُولُ فِيهَا أَشَدَّ الْقَوْلِ، وَيَنْهَى عَنْهَا أَشَدَّ النَّهْيِ".
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے دی چنانچہ میں اور میرا ایک ساتھی نکلے اور ایک عورت کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا تین دن کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو وہ شدت سے اس کی حرمت بیان کرتے ہوئے سختی کے ساتھ اس کی ممانعت فرما رہے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15347]

حکم دارالسلام: حديث صحيح على خطأ فى إسناده، عبد رب بن سعيد و عبيد بن محمد بن عمر بن عبدالعزيز خطأ، صوابه: عبد ربه بن سعيد و عبدالعزيز بن عمر بن عبدالعزيز
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15348
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ يُصَلَّى فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، وَرَخَّصَ أَنْ يُصَلَّى فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ".
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے اور عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15348]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15349
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيّ , أَنَّهُ قَالَ: أَذِنَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُتْعَةِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ هُوَ أَكْبَرُ مِنِّي سِنًّا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِينَا فَتَاةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ، كَأَنَّهَا بَكْرَةٌ عَيْطَاءُ، فَعَرَضْنَا عَلَيْهَا أَنْفُسَنَا، فَقَالَتْ مَا تَبْذُلَانِ؟ قَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا: رِدَائِي، قَالَ: وَكَانَ رِدَاءُ صَاحِبِي أَجْوَدَ مِنْ رِدَائِي، وَكُنْتُ أَشَبَّ مِنْهُ، قَالَتْ: فَجَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَى رِدَاءِ صَاحِبِي، ثُمَّ قَالَتْ: أَنْتَ وَرِدَاؤُكَ تَكْفِينِي، قَالَ: فَأَقَمْتُ مَعَهَا ثَلَاثًا، قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنَ النِّسَاءِ الَّتِي تَمَتَّعَ بِهِنَّ شَيْءٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا" , قَالَ: فَفَارَقْتُهَا.
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ فتح مکہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینے منورہ سے نکلے ہم پندرہ دن وہاں رکے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیدی چنانچہ میں اور میرا ایک چچا زاد نکلے ہم ایک عورت کے پاس پہنچے اس کا تعلق بنوبکر سے تھا اور وہ نہایت جوان تھی جب وہ میرے چچازاد کی چادر کو دیکھتی تو وہ اسے میری چادر سے پرانی معلوم ہو تی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے میرے ساتھی سے زیادہ جوان محسوس کر تی اور میرے پاس چادر بھی نئی تھی ہم نے اس سے کہا کیا ہم میں سے کوئی ایک تم سے فائدہ اٹھاسکتا ہے اس نے کہا کیا جائز ہے ہم نے کہا ہاں وہ میرے چچا زاد کو دیکھنے لگی تو میں نے اسے بتایا کہ میری چادر نئی اور عمدہ ہے جبکہ اس کی چادر پرانی اور میلی ہے اس نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں چنانچہ میرے چچازاد نے اس سے فائدہ اٹھایا ابھی ہم مکہ مکر مہ سے نکلنے نہ پائے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15349]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1406
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15350
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ:" نِكَاحِ الْمُتْعَةِ".
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت فرمائی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15350]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1406
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15351
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَيْنَا عُمْرَتَنَا , قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ" , قَالَ وَالِاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا يَوْمُ التَّزْوِيجِ، قَالَ: فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَى النِّسَاءِ، فَأَبَيْنَ إِلَّا أَنْ نُضْرَبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا، قَالَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" افْعَلُوا" , قال: فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي وَمَعَهُ بُرْدَةٌ وَمَعِي بُرْدَةٌ، وَبُرْدَتُهُ أَجْوَدُ مِنْ بُرْدَتِي، وَأَنَا أَشَبُّ مِنْهُ فَأَتَيْنَا امْرَأَةً، فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَأَعْجَبَهَا شَبَابِي، وَأَعْجَبَهَا بُرْدُ ابْنِ عَمِّي، فَقَالَتْ بُرْدٌ كَبُرْدٍ، قَالَ: فَتَزَوَّجْتُهَا، فَكَانَ الْأَجَلُ بَيْنِي وَبَيْنَهَا عَشْرًا، قَالَ: فَبِتُّ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ أَصْبَحْتُ غَادِيًا إِلَى الْمَسْجِدِ , فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْبَابِ وَالْحَجَرِ , يَخْطُبُ النَّاسَ يَقُولُ:" أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ، قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ، أَلَا وَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، قَدْ حَرَّمَ ذَلِكَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ، فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا، وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا".
سیدنا سبرہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے جب ہم عمرہ کر کے فارغ ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عورتوں کے پاس جانے کی اجازت دیدی ہمارے نزدیک اس سے مراد شادی کرنا تھا ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! عورتیں ایک وقت مقررہ کے علاوہ کسی اور صورت میں راضی ہی نہیں ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ایساہی کر لو چنانچہ میں اور میرا چچا زاد نکلے میرے پاس بھی ایک چادر تھی اور اس کے پاس بھی ایک چادر تھی اس کی چادر میری چادر سے عمدہ تھی اور جسمانی طور پر میں اس سے زیادہ جوان تھا۔ ہم ایک عورت کے پاس پہنچے اور اس کے سامنے اپنے آپ کو پیش کیا جب وہ میرے ساتھی کی چادر کو دیکھتی تو وہ اسے میری چادر سے اچھی معلوم ہو تی اور جب مجھے دیکھتی تو مجھے میرے ساتھی سے زیادہ جوان محسوس کر تی بالآخر کہنے لگی کہ چادر چادر کے بدلے میں ہو گی اور یہ کہہ کر اس نے مجھے پسند کر لیا اور میں نے اس سے اپنی چادر کے عوض دس دن کے لئے نکاح کر لیا۔ وہ رات میں نے اسی کے ساتھ گزاری جب صبح ہوئی تو مسجد کی طرف میں روانہ ہوا وہاں پہنچ کر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ آپ فرما رہے تھے لوگو میں نے تمہیں عورتوں سے استمتاع کی اجازت دی تھی سو جس نے جو چیز مقرر کی ہے وہ اسے دیدے اور اپنی دی ہوئی چیز کو اس سے واپس نہ مانگے اور خود اس سے علیحدگی اختیار کر لے کیونکہ اللہ نے اب اس کام کو قیامت تک کے لئے تم پر حرام قرار دے دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15351]

حکم دارالسلام: رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں