🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

149. حَدِيثُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15672
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سَكَنُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُصَلِّ فِي السُّبْحَةِ بِاللَّيْلِ فِي السَّفَرِ عَلَى ظَهْرِ رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ.
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران سفر رات کے وقت اپنی سواری پر ہی نوافل پڑھتے ہوئے دیکھا ہے خواہ سواری کا رخ کسی بھی طرف ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15672]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1104 تعليقا ، م: 701
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15673
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرٍ، فَقَالَ:" مَا هَذَا الْقَبْرُ؟" قَالُوا: قَبْرُ فُلَانَةَ , قَالَ:" أَفَلَا آذَنْتُمُونِي؟" قَالُوا: كُنْتَ نَائِمًا، فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا، فَادْعُونِي لِجَنَائِزِكُمْ" , فَصَفَّ عَلَيْهَا فَصَلَّى.
سیدنا عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر کسی قبر پر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کس کی قبر ہے لوگوں نے بتایا فلاں عورت کی قبر ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں لوگوں نے عرض کیا: کہ آپ سوئے ہوئے تھے آپ کو جگانا ہمیں اچھا معلوم نہیں ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کیا کر و بلکہ جنازے میں بلالیا کر و اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کی قبر پر صف بندی کر کے نماز جنازہ پڑھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15673]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15674
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا رَأَيْتَ جَنَازَةً فَقُمْ حَتَّى تُجَاوِزَكَ أَوْ قَالَ: قِفْ حَتَّى تُجَاوِزَكَ" , قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا رَأَى جَنَازَةً , قَامَ حَتَّى تُجَاوِزَهُ، وَكَانَ إِذَا خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ، وَلَّى ظَهْرَهُ الْمَقَابِرَ.
سیدنا عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی جنازے کو دیکھا کر و تو کھڑے ہو جایا کر و یہاں تک کہ وہ گزر جائے سیدنا ابن عمر جب کسی جنازے کو دیکھتے تو کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ وہ گزر جاتا اور جب کسی جنازے کے ساتھ جاتے تو اپنی پشت دوسری قبروں کی طرف فرما لیتے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15674]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15675
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ الْجَنَازَةَ وَلَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا، فَلْيَقُمْ حَتَّى تُجَاوِزَهُ أَوْ تُوضَعَ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی جنازے کو دیکھا کر و اور اس کے ساتھ نہ جاسکو تو کھڑے ہو جایا کر و یہاں تک کہ وہ گزر جائے یا زمین پر رکھ دیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15675]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15676
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى نَعْلَيْنِ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهُ.
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ بنو فزارہ کے ایک آدمی نے ایک جوتی سے دو جوتیوں کے عوض نکاح کر لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نکاح کو برقرار رکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15676]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15677
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا , يَقُولُ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَأْثُرُ , عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ الْجِنَازَةَ، فَلْيَقُمْ حِينَ يَرَاهَا حَتَّى تُخَلِّفَهُ، إِذَا كَانَ غَيْرَ مُتَّبِعِهَا".
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی جنازے کو دیکھا کر و اور اس کے ساتھ نہ جاسکو تو کھڑے ہو جایا کر و یہاں تک کہ وہ گزر جائے یا زمین پر رکھ دیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15677]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1308، م: 958
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15678
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَا أَعُدُّ , وَمَا لَا أُحْصِي:" يَسْتَاكُ وَهُوَ صَائِمٌ" , وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: مَا لَا أُحْصِي يَتَسَوَّكُ وَهُوَ صَائِمٌ.
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت صیام میں اتنی مرتبہ مسواک کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ میں شمار نہیں کر سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15678]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15679
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَحَجَّاجٌ , قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى نَعْلَيْنِ، قَالَ: فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: ذَاكَ لَهُ، فَقَالَ:" أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ , قَالَ شُعْبَةُ , فَقُلْتُ لَهُ: كَأَنَّهُ أَجَازَ ذَلِكَ؟ قَالَ: كَأَنَّهُ أَجَازَهُ , قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ لَقِيتُهُ، فَقَالَ:" أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ؟" فَقَالَتْ: رَأَيْتُ ذَاكَ، فَقَالَ:" وَأَنَا أَرَى ذَاكَ".
سیدنا عامر سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے دو جوتیوں کے عوض نکاح کر لیا وہ عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس بات کا ذکر کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم اپنے نفس اور مال کے بدلے میں دو جوتیوں پر راضی ہواس نے کہا جی ہاں شعبہ نے عاصم سے اس کا مطلب پوچھا کہ اس سے اجازت مراد ہے انہوں نے کہا ہاں دوسری مرتبہ ملاقات ہو نے پر عاصم نے اس میں عورت کا جواب یہ نقل کیا کہ میں اسے صحیح سمجھتی ہوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میری بھی یہی رائے ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15679]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15680
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَقُولُ:" مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً، لَمْ تَزَلْ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا صَلَّى عَلَيَّ، فَلْيُقِلَّ عَبْدٌ مِنْ ذَلِكَ أَوْ لِيُكْثِرْ".
سیدنا عامربن ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مجھ پر درود پڑھے تو جب تک وہ مجھ پر درود پڑھتا رہے گا فرشتے اس پر درود پڑھتے رہیں گے اب انسان کی مرضی ہے کہ کم پڑھے یا زیادہ؟ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15680]

حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15681
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّهَا سَتَكُونُ مِنْ بَعْدِي أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَيُؤَخِّرُونَهَا عَنْ وَقْتِهَا، فَصَلُّوهَا مَعَهُمْ، فَإِنْ صَلَّوْهَا لِوَقْتِهَا وَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ، فَلَكُمْ وَلَهُمْ، وَإِنْ أَخَّرُوهَا عَنْ وَقْتِهَا فَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ، فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ، مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، وَمَنْ نَكَثَ الْعَهْدَ وَمَاتَ نَاكِثًا لِلْعَهْدِ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ" , قُلْتُ لَهُ: مَنْ أَخْبَرَكَ هَذَا الْخَبَرَ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، يُخْبِرُ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عاصم بن عبیداللہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے بعد کچھ ایسے امراء بھی آئیں گے جو کبھی وقت مقررہ پر نماز پڑھ لیآ کر یں گے اور کبھی تاخیر کر دیآ کر یں گے تم ان کے ساتھ نماز پڑھتے رہنا اگر وہ بروقت نماز پڑھیں اور تم بھی ان کے ساتھ شامل ہو تو تمہیں ثواب ملے گا اور انہیں بھی اگر وہ موخر کر دیں اور تم ان کے ساتھ ہی نماز پڑھو تمہیں ثواب ملے گا اور انہیں تاخیر کی سزا ملے گی جو شخص جماعت سے علیحدگی اختیار کر لیتا ہے اور مرجاتا ہے تو جاہلیت کی موت مرتا ہے اور جو شخص وعدہ توڑ دیتا ہے اور اسی حال میں مرجاتا ہے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے پاس کوئی حجت نہیں ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15681]

حکم دارالسلام: بعضه صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں