مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
291. حَدِیث عَبدِ اللَّهِ بنِ الزّبَیرِ بنِ العَوَّامِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 16127
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ زَمْعَةَ كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ، فَكَانَ يَطَؤُهَا، وَكَانُوا يَتَّهِمُونَهَا، فَوَلَدَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَوْدَةَ:" أَمَّا الْمِيرَاثُ فَلَهُ، وَأَمَّا أَنْتِ، فَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ لَكِ بِأَخٍ".
سیدنا عبداللہ بن زبیر سے مروی ہے کہ زمعہ کی ایک باندی تھی جسے وہ روندا کرتا تھا لوگ اس باندی پر الزامات بھی لگاتے تھے اتفاقا اس کے یہاں ایک بچہ بھی پیدا ہوا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سودہ سے فرمایا: سودہ میراث تو اسے ملے گی لیکن تم اس سے پردہ کیا کر و کیونکہ وہ تمہارا بھائی نہیں ہے بلکہ گناہ کا نتیجہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16127]
حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: «فإنه ليس لك بأخ» ، وهذا إسناد ضعيف، مجاهد لم يسمع من ابن الزبير، بينهما يوسف بن الزبير وهو مجهول، وأيضا لا يحتمل تفرده
حدیث نمبر: 16128
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى الْكَعْبَةِ وَهُوَ يَقُولُ: وَرَبِّ هَذِهِ الْكَعْبَةِ، لَقَدْ" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا وَمَا وُلِدَ مِنْ صُلْبِهِ".
امام شعبی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر کو خانہ کعبہ سے ٹیک لگا کر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اس کعبہ کے رب کی قسم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں شخص اور اس کی نسل میں پیدا ہو نے والے بچوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16128]
حکم دارالسلام: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 16129
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَتَذْكُرُ يَوْمَ اسْتَقْبَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" فَحَمَلَنِي وَتَرَكَكَ. وَكَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُسْتَقْبَلُ بِالصِّبْيَانِ إِذَا جَاءَ مِنْ سَفَرٍ".
ایک دن سیدنا ابن زبیر نے سیدنا عبداللہ بن جعفر سے فرمایا کہ کیا تمہیں وہ دن یاد ہے جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے تو آپ نے تمہیں چھوڑ کر مجھے اٹھا لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ تھی کہ سفر سے واپس آ کر بچوں سے ملتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16129]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف إسماعيل بن عياش فى روايته عن غير أهل بلده، وهذه منها
حدیث نمبر: 16130
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَسْوَدِ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَعْلِنُوا النِّكَاحَ".
سیدنا زبیر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نکاح کا اعلان کیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16130]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناده فيه عبدالله بن الأسود، وفيه لين
حدیث نمبر: 16131
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ أَبِي مَسْلَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَسِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ".
ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن زبیر سے کہا کہ مٹکے کی نبیذ کے متعلق ہمیں فتوی دیجیے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16131]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل عبدالعزيز بن أسيد
حدیث نمبر: 16132
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ ثُوَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ:" هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، فَصُومُوا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصَوْمِهِ".
سیدنا زبیر سے مروی ہے کہ آج عاشورہ کا دن ہے اس کا روزہ رکھو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کا روزہ رکھنے کے لئے فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16132]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، لضعف ثوير بن أبى فاخته
حدیث نمبر: 16133
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ:" كَادَ الْخَيِّرَانِ أَنْ يَهْلِكَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، لَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ، أَشَارَ أَحَدُهُمَا بِالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ أَخِي بَنِي مُجَاشِعٍ، وَأَشَارَ الْآخَرُ بِغَيْرِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ: إِنَّمَا أَرَدْتَ خِلَافِي، فَقَالَ عُمَرُ: مَا أَرَدْتُ خِلَافَكَ،" فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ سورة الحجرات آية 2 إِلَى قَوْلِهِ عَظِيمٌ" قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَكَانَ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ وَلَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ عَنْ أَبِيهِ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ إِذَا حَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ كَأَخِي السِّرَارِ، لَمْ يَسْمَعْهُ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ".
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں قریب تھا کہ دونوں بہترین افراد یعنی سیدنا ابوبکر اور عمر افسردہ رہ جاتے واقعہ یوں پیش آیا کہ جب بنوتمیم کا وفد بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا تو شیخین میں سے ایک نے اقرع بن حابس کو ان کا امیر مقرر کرنے کا مشورہ دیا اور دوسرے نے کسی اور کا سیدنا ابوبکر سیدنا عمر سے کہنے لگے کہ آپ تو بس میری مخالفت کرنا چاہتے ہیں سیدنا عمر کہنے لگے کہ میرا تو آپ کی مخالفت کا کوئی ارادہ نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ان دونوں کی آوازیں بلند ہو نے لگیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اے ایمان والو اپنی آوازوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آوازوں سے اونچانہ کیا کر و اس آیت کے بعد سیدنا عمر جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات کرتے تو اتنی پست آواز سے کرتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ پوچھنا پڑتا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16133]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4367