مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
491. حَدِیث رَافِعِ بنِ خَدِیج رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
حدیث نمبر: 17286
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْن لَبِيدٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ" .
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صبح کی نماز روشنی میں پڑھا کرو اس کا ثواب زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17286]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، زيد بن أسلم لم يسمع من محمود ابن لبيد، وهشام بن سعد ضعيف
حدیث نمبر: 17287
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عِنْدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّ عَمَّيْهِ وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا أَخْبَرَاهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ .
امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے زمین کو کرائے پر لینے دینے کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا ہے کہ انہوں نے اپنے دو چچاؤں سے جو شرکاء بدر میں سے تھے اپنے اہل خانہ کو یہ حدیث سناتے ہوئے سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر لینے دینے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17287]
حکم دارالسلام: حديث صحيح ، أبو أويس ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17288
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْغَافِقِيِّ ، عَنْ بَعْضِ وَلَدِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي، فَقُمْتُ وَلَمْ أُنْزِلْ، فَاغْتَسَلْتُ، وَخَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكَ دَعَوْتَنِي وَأَنَا عَلَى بَطْنِ امْرَأَتِي، فَقُمْتُ وَلَمْ أُنْزِلْ، فَاغْتَسَلْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَلَيْكَ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ"، قَالَ رَافِعٌ: ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِالْغُسْلِ .
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرے گھر کے باہر سے آواز دی، میں اس وقت اپنی بیوی کے ساتھ " مشغول " تھا، آواز سن کر میں اٹھ کھڑا ہوا، اس وقت تک انزال نہیں ہوا تھا تاہم میں نے غسل کرلیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس باہر نکل آیا اور بتایا کہ جس وقت آپ نے مجھے آواز دی، اس وقت میں اپنی بیوی کے ساتھ مشغول تھا، میں اسی وقت اٹھ کھڑا ہوا، انزال نہیں ہوا تھا لیکن میں نے غسل کرلیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی ضرورت نہیں تھی انزال سے غسل واجب ہوتا ہے، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں غسل کا حکم دے دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17288]
حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لضعف رشدين بن سعد، ولجهالة بعض ولد رافع
حدیث نمبر: 17289
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَنْحَرُ الْجَزُورَ، فَنُقَسِّمُهُ عَشَرَةَ أَجْزَاءٍ، ثُمَّ نَطْبُخُ، فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ أَنْ نُصَلِّيَ الْمَغْرِبَ .
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عصر پڑھتے، پھر اونٹ ذبح کرتے، اس کے دس حصے بناتے، پھر اسے پکاتے اور نماز مغرب سے پہلے پکا ہوا گوشت کھالیتے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17289]
حکم دارالسلام: حديث صحيح ، خ: 2485، محمد بن مصعب فيه كلام، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17290
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ أَبُو النَّجَاشِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، قَالَ: لَقِيَنِي عَمِّي ظُهَيْرُ بْنُ رَافِعٍ ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، قَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا هُوَ يَا عَمُّ؟ قَالَ: نَهَانَا أَنْ نُكْرِيَ مَحَاقِلَنَا، يَعْنِي أَرْضَنَا الَّتِي بِصِرَارٍ، قَالَ: قُلْتُ: أَيْ عَمُّ، طَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِمَ تُكْرُوهَا؟" قَالَ: بِالْجَدَاوِلِ الرُّبِّ، وَبِالْأَصَوَاعِ مِنَ الشَّعِيرِ؟ قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا، ازْرَعُوهَا، أَوْ أَزْرِعُوهَا"، قَالَ: فَبِعْنَا أَمْوَالَنَا بِصِرَارٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَأَلْتُ أَبِي عَنْ أَحَادِيثِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، مَرَّةً يَقُولُ: نَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَرَّةً يَقُولُ: عَنْ عَمَّيْهِ، فَقَالَ: كُلُّهَا صِحَاحٌ، وَأَحَبُّهَا إِلَيَّ حَدِيثُ أَيُّوبَ.
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری ملاقات اپنے چچا ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ سے ہوگئی، انہوں نے فرمایا کہ بھتیجے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسی چیز سے منع فرمایا ہے جو ہمارے لئے نفع بخش ہوسکتی تھی، میں نے پوچھا چچاجان! اور وہ کیا؟ انہوں نے کہا کہ بلند جگہوں پر جو ہماری زمینیں ہیں، ان میں مزارعت سے ہمیں منع فرما دیا ہے، میں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لئے اس سے بھی زیادہ نفع بخش ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے تم کسی چیز کے بدلے زمین کو کرائے پر دیتے ہو؟ انہوں نے کہا چھوٹی نالیوں کی پیداوار اور جو کے مقررہ صاع کے عوض، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کرو، جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو، وہ خود اس میں کھیتی باڑی کرے، اگر خود نہیں کرسکتا تو اپنے کسی بھائی کو اجازت دے دے چنانچہ ہم نے وہاں پر موجود اپنی زمینیں بیچ دیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17290]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1548، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب بن عتبة، لكنه توبع