🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

491. حَدِیث رَافِعِ بنِ خَدِیج رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17266
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْحُمَّى مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ" .
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بخار جہنم کی تپش کا اثر ہوتا ہے، اس لئے اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17266]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3262، م: 2212
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17267
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعًا عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، قُلْتُ: إِنَّ لِي أَرْضًا أُكْرِيهَا؟ فَقَالَ رَافِعٌ : لَا تُكْرِهَا بِشَيْءٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، فَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيَدَعْهَا"، فَقُلْتُ لَهُ أَرَأَيْتَ إِنْ تَرَكْتُهُ وَأَرْضِي، فَإِنْ زَرَعَهَا، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيَّ مِنَ التِّبْنِ؟ قَالَ:" لَا تَأْخُذْ مِنْهَا شَيْئًا وَلَا تِبْنًا"، قُلْتُ: إِنِّي لَمْ أُشَارِطْهُ، إِنَّمَا أَهْدَى إِلَيَّ شَيْئًا؟ قَالَ:" لَا تَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا" .
ابوالنجاشی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرایہ پر دینے کا مسئلہ پوچھا کہ میرے پاس کچھ زمین ہے، میں اسے کرائے پردے سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ اسے کرائے پر نہ دو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کے پاس زمین ہو، وہ خود کھیتی باڑی کرے، خود نہ کرسکے تو اپنے کسی بھائی کو اجازت دے دے اور اگر یہ بھی نہیں کرسکتا تو پھر اسی طرح رہنے دے۔ میں نے کہا یہ بتائیے کہ اگر میں کسی کو اپنی زمین دے کر چھوڑ دوں اور وہ کھیتی باڑی کرے اور مجھے بھوسہ بھیج دیا کرے تو کیا حکم ہے؟ فرمایا تم اس سے کچھ بھی نہ لو حتی کہ بھوسہ بھی نہ لو، میں نے کہا کہ اس سے اس کی شرط نہیں لگاتا، بلکہ وہ میرے پاس صرف ہدیۃ بھیجتا ہے؟ فرمایا پھر بھی تم اس سے کچھ نہ لو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17267]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1548
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17268
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَايَةَ بْنَ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ جَدَّهُ حِينَ مَاتَ تَرَكَ جَارِيَةً، وَنَاضِحًا، وَغُلَامًا حَجَّامًا، وَأَرْضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَارِيَةِ، فَنَهَى عَنْ كَسْبِهَا قَالَ شُعْبَةُ مَخَافَةَ أَنْ تَبْغِيَ وَقَالَ: " مَا أَصَابَ الْحَجَّامُ فَاعْلِفْهُ النَّاضِحَ"، وَقَالَ فِي الْأَرْضِ:" ازْرَعْهَا أَوْ ذَرْهَا" .
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ان کے دادا کا انتقال ہوا تو وہ اپنے ترکے میں ایک باندی، ایک پانی لانے والا اونٹ، ایک حجام غلام اور کچھ زمین چھوڑ گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باندی کے متعلق تو یہ حکم دیا کہ اس کی کمائی سے منع کردیا، (تاکہ کہیں وہ پیشہ ور نہ بن جائے) اور فرمایا حجام جو کچھ کما کر لائے، اس کا چارہ خرید کر اونٹ کو کھلا دیا کرو اور زمین کے متعلق فرمایا کہ اسے خود کھیتی باڑی کے ذریعے آباد کرو یا یونہی چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17268]

حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لإرساله واضطرابه، يحيي بن أبى سليم كان يخطي، وقد اختلف فيه على عباية بن رفاعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17269
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَالْخُزَاعِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ، فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ، وَتُرَدُّ عَلَيْهِ نَفَقَتُهُ قَالَ الْخُزَاعِيُّ: مَا أَنْفَقَهُ وَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ" .
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص مالک کی اجازت کے بغیر اس کی زمین میں فصل اگائے، اس سے اس کا خرچ ملے گا، فصل میں سے کچھ نہیں ملے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17269]

حکم دارالسلام: صحيح بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، لكن تابعه ضعيف مثله ، ولانقطاعه، عطاء لم يسمع من رافع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17270
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ، وَكَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ" .
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے کی کمائی گندی ہے، فاحشہ عورت کی کمائی گندی ہے اور کتے کی قیمت گندی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17270]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17271
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ ذَكَرَ مَكَّةَ، قَالَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا" .
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے حرم قرار دیا تھا اور میں مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان ساری جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17271]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1361، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17272
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: خَطَبَ مَرْوَانُ النَّاسَ، فَذَكَرَ مَكَّةَ وَحُرْمَتَهَا، فَنَادَاهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، فَقَالَ: إِنَّ مَكَّةَ إِنْ تَكُنْ حَرَمًا، فَإِنَّ الْمَدِينَةَ حَرَمٌ حَرَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مَكْتُوبٌ عِنْدَنَا فِي أَدِيمٍ خَوْلَانِيٍّ، إِنْ شِئْتَ أَنْ نُقْرِئَكَهُ فَعَلْنَا، فَنَادَاهُ مَرْوَانُ: أَجَلْ قَدْ بَلَغَنَا ذَلِكَ .
نافع بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے خطبہ دیتے ہوئے لوگوں کے سامنے مکہ مکرمہ اور اس کے حرم ہونے کا تذکرہ کیا، تو حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے پکار کر فرمایا کہ اگر مکہ مکرمہ حرم ہے تو مدینہ منورہ بھی حرم ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم قرار دیا ہے اور یہ بات ہمارے پاس چمڑے پر لکھی ہوئی موجود ہے، اگر تم چاہو تو ہم تمہارے سامنے اس عبارت کو پڑھ کر بھی سنا سکتے ہیں، مروان نے کہا ٹھیک ہے، یہ بات ہم تک بھی پہنچی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17272]

حکم دارالسلام: حديث صحيح ،م: 1361، فليح بن سليمان حديثه صحيح فى المتابعات والشواهد، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17273
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا" ، يُرِيدُ الْمَدِينَةَ.
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے حرم قرار دیا تھا اور میں مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان ساری جگہ کو حرم قرار دیتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17273]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1361
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17274
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَأَى الْحُمْرَةَ قَدْ ظَهَرَتْ، فَكَرِهَهَا، فَلَمَّا مَاتَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، جَعَلُوا عَلَى سَرِيرِهِ قَطِيفَةً حَمْرَاءَ، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْ ذَلِكَ.
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سرخ رنگ کو غالب آتے ہوئے (بکثرت استعمال میں آتے ہوئے) دیکھا تو اس پر ناگواری کا اظہار فرمایا: راوی کہتے ہیں کہ جب حضرت رافع رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو لوگوں نے ان کی چارپائی پر سرخ رنگ کی چادر ڈال دی جس سے عوام کو بہت تعجب ہوا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17274]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، فيه انقطاع بين عثمان بن محمد وبين رافع بن خديج
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17275
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، ثُمَّ نَنْحَرُ الْجَزُورَ، فَتُقْسَمُ عَشَرَ قَسْمٍ، ثُمَّ تُطْبَخُ، فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ . قَالَ: وَكُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ. قَالَ: وَكُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ.
حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز عصر پڑھتے، پھر اونٹ ذبح کرتے، اس کے دس حصے بناتے، پھر اسے پکاتے اور سورج غروب ہونے سے پہلے پکا ہوا گوشت کھالیتے اور نماز مغرب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم اس وقت پڑھتے تھے کہ جب نماز پڑھ کر واپس ہوتے تو اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھ سکتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17275]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، ووقت صلاة العصر فى خ: 2485، ووقت صلاة المغرب في، خ: 559، م: 637
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں