🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

519. حَدِیث یَعلَى بنِ مرَّةَ الثَّقَفِیِّ، عن النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17548
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عن يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، مَا رَآهَا أَحَدٌ قَبْلِي، وَلَا يَرَاهَا أَحَدٌ بَعْدِي، لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَهُ فِي سَفَرٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ مَرَرْنَا بِامْرَأَةٍ جَالِسَةٍ، مَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا صَبِيٌّ، أَصَابَهُ بَلَاءٌ، وَأَصَابَنَا مِنْهُ بَلَاءٌ، يُؤْخَذُ فِي الْيَوْمِ، مَا أَدْرِي كَمْ مَرَّةً، قَالَ:" نَاوِلِينِيهِ". فَرَفَعَتْهُ إِلَيْهِ، فَجَعَلتْهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ وَاسِطَةِ الرَّحْلِ، ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ، فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثًا، وَقَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ، اخْسَأْ عَدُوَّ اللَّهِ". ثُمَّ نَاوَلَهَا إِيَّاهُ، فَقَالَ:" الْقَيْنَا فِي الرَّجْعَةِ فِي هَذَا الْمَكَانِ، فَأَخْبِرِينَا مَا فَعَلَ". قَالَ: فَذَهَبْنَا وَرَجَعْنَا، فَوَجَدْنَاهَا فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ، مَعَهَا شِيَاهٌ ثَلَاثٌ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ صَبِيُّكِ؟ فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا حَسَسْنَا مِنْهُ شَيْئًا حَتَّى السَّاعَةِ، فَاجْتَرِرْ هَذِهِ الْغَنَمَ. قَالَ:" انْزِلْ فَخُذْ مِنْهَا وَاحِدَةً، وَرُدَّ الْبَقِيَّةَ". قَالَ: وَخَرَجْنَا ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى الْجَبَّانَةِ، حَتَّى إِذَا بَرَزْنَا قَالَ:" انْظُرْ وَيْحَكَ، هَلْ تَرَى مِنْ شَيْءٍ يُوَارِينِي؟" قُلْتُ: مَا أَرَى شَيْئًا يُوَارِيكَ إِلَّا شَجَرَةً مَا أُرَاهَا تُوَارِيكَ. قَالَ:" فَمَا قُرْبُهَا؟" قُلْتُ: شَجَرَةٌ مِثْلُهَا، أَوْ قَرِيبٌ مِنْهَا. قَالَ:" فَاذْهَبْ إِلَيْهِمَا، فَقُلْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا بِإِذْنِ اللَّهِ". قَالَ: فَاجْتَمَعَتَا، فَبَرَزَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ:" اذْهَبْ إِلَيْهِمَا، فَقُلْ لَهُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَرْجِعَ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا إِلَى مَكَانِهَا". قَالَ: وَكُنْتُ مَعَهُ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ جَاءَ جَمَلٌ يُخَبِّبُ، حَتَّى ضَرَبَ بِجِرَانِهِ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ:" وَيْحَكَ، انْظُرْ لِمَنْ هَذَا الْجَمَلُ، إِنَّ لَهُ لَشَأْنًا". قَالَ: فَخَرَجْتُ أَلْتَمِسُ صَاحِبَهُ، فَوَجَدْتُهُ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَدَعَوْتُهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُ جَمَلِكَ هَذَا؟" فَقَالَ: وَمَا شَأْنُهُ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي وَاللَّهِ مَا شَأْنُهُ، عَمِلْنَا عَلَيْهِ، وَنَضَحْنَا عَلَيْهِ، حَتَّى عَجَزَ، عن السِّقَايَةِ، فَأْتَمَرْنَا الْبَارِحَةَ أَنْ نَنْحَرَهُ، وَنُقَسِّمَ لَحْمَهُ. قَالَ:" فَلَا تَفْعَلْ، هَبْهُ لِي، أَوْ بِعْنِيهِ" فَقَالَ: بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: فَوَسَمَهُ بِسِمَةِ الصَّدَقَةِ، ثُمَّ بَعَثَ بِهِ .
حضرت یعلی بن مروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تین ایسے معجزے دیکھے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں دیکھے اور نہ بعد میں کوئی دیکھ سکے گا، چنانچہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر پر نکلا، دوران سفر ہمارا گذر ایک عورت کے پاس سے ہوا جس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا، وہ کہنے لگی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کو کوئی تکلیف ہے جس کی وجہ سے ہم پریشان ہوتے رہتے ہیں، دن میں نجانے کتنی مرتبہ اس پر اثر ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے مجھے پکڑا دو، اس نے پکڑا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو اپنے اور کجاوے کے درمیان بٹھا لیا، پھر اس کا منہ کھول کر اس میں تین مرتبہ اپنا لعاب دہن ڈالا اور فرمایا بسم اللہ! میں اللہ کا بندہ ہوں، اے دشمن خدا! دور ہو، یہ کہہ کر وہ بچہ اس کی ماں کے حوالے کیا اور فرمایا جب ہم اس جگہ سے واپس گذریں تو ہمارے پاس اسے دوبارہ لانا اور بتانا کہ اب اس کی حالت کیسے رہی؟ پھر ہم آگے چل پڑے، واپسی پر جب ہم دوبارہ وہاں پہنچے تو ہمیں اس جگہ پر اس عورت کے ساتھ تین بکریاں بھی نظر آئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارا بچہ کیسا رہا؟ اس نے جواب دیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اب تک ہمیں اس کی بیماری محسوس نہیں ہوئی ہے (اور یہ صحیح ہے) یہ بکریاں آپ لے جائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیچے اتر کر اس میں سے صرف ایک بکری لے لو اور باقی اسے واپس لوٹا دو۔ اسی طرح ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحراء کی طرف نکلا، وہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی! دیکھو، تمہیں کوئی جگہ نہیں دکھائی دے رہی اور بظاہر یہ درخت بھی آڑ نہیں بن سکتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اس کے قریب کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اسی جیسا یا اس کے قریب قریب ہی ایک اور درخت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان دونوں درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اللہ کے اذن سے اکٹھے ہوجاؤ، چنانچہ وہ دونوں اکٹھے ہوگئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قضاء حاجت فرمائی، پھر واپس آکر فرمایا ان سے جا کر کہہ دو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنی اپنی جگہ چلے جاؤ، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اسی طرح ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اونٹ دوڑتا ہوا آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر اپنی گردن ڈال دی اور پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارے بھئی! دیکھو، یہ اونٹ کس کا ہے؟ اس کا معاملہ عجیب محسوس ہوتا ہے، چنانچہ میں اس کے مالک کی تلاش میں نکلا، مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک انصاری آدمی کا ہے، میں نے اسے بلایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اس اونٹ کا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا کہ واللہ مجھے اور تو کچھ معلوم نہیں، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ ہم اس پر کام کرتے تھے اور اس پر پانی لاد کر لاتے تھے، لیکن اب یہ پانی لانے سے عاجز آگیا تھا، اس لئے ہم نے آج رات یہ مشورہ کیا کہ اسے ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کردیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا مت کرو، یہ ہدیۃ مجھے دے دو، یا قیمۃ دے دو، اس نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کا ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر صدقہ کی علامت لگائی اور اسے ان کے ساتھ بھیج دیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17548]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن عبدالعزيز
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17549
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عن يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ وَكِيعٌ مُرَّةَ: يَعْنِي الثَّقَفِيَّ، وَلَمْ يَقُلْ مُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا بِهِ لَمَمٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ، أَنَا رَسُولُ اللَّهِ" قَالَ: فَبَرَأَ. قَالَ: فَأَهْدَتْ إِلَيْهِ كَبْشَيْنِ، وَشَيْئًا مِنْ أَقِطٍ، وَشَيْئًا مِنْ سَمْنٍ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْ الْأَقِطَ وَالسَّمْنَ وَأَحَدَ الْكَبْشَيْنِ، وَرُدَّ عَلَيْهَا الْآخَرَ" .
حضرت یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا ایک بچہ لے کر آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کو کوئی تکلیف ہے جس کی وجہ سے ہم پریشان ہوتے رہتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا منہ کھول کر اس میں تین مرتبہ اپنا لعاب دہن ڈالا اور فرمایا: بسم اللہ! میں اللہ کا بندہ ہوں، اے دشمن خدا! دور ہو، وہ بچہ اسی وقت ٹھیک ہوگیا، اس کی ماں نے دو مینڈھے، کچھ پنیر اور کچھ گھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پنیر گھی اور ایک مینڈھا لے لو اور دوسرا واپس کردو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17549]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، المنهال بن عمرو لم يسمع يعلى بن مرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17550
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عُمْرَ بْنِ يَعْلَى الثَّقَفِيِّ ، عن يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مَسَحَ وُجُوهَ أَصْحَابِهِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ، فَأَصَبْتُ شَيْئًا مِنْ خَلُوقٍ، فَمَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُجُوهَ أَصْحَابِهِ وَتَرَكَنِي، قَالَ: فَرَجَعْتُ وَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى الصَّلَاةِ الْأُخْرَى، فَمَسَحَ وَجْهِي، وَقَالَ: " عَادَ لِخَيْرِ دِينِهِ الْعَلاءُ , تَابَ وَاسْتَهَلَّتِ السَّمَاءُ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر سے پہلے اپنے ساتھیوں کے چہروں پر ہاتھ پھیرتے تھے، میں نے خلوق نامی خوشبو لگا رکھی تھی لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کے چہروں پر تو ہاتھ پھیرا لیکن مجھے چھوڑ دیا، میں نے واپس جا کر اسے دھویا اور دوسری نماز کے وقت حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیر کر فرمایا اچھے دین کے ساتھ واپس آئے، علا (یعلی) نے توبہ کرلی اور ان کی آواز آسمان تک پہنچی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17550]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عمرو ابن يعلى مجهول، ولا تعرف له رواية عن جده يعلى، فهو منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17551
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ يُونس بْنُ خَبَّاب ، عَنْ ابْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، عن أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ وُجُوهَنَا فِي الصَّلَاةِ وَيُبَارِكُ عَلَيْنَا. قَالَ: فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَمَسَحَ وُجُوهَ الَّذِينَ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ يَسَارِي وَتَرَكَنِي، وَذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ دَخَلْتُ عَلَى أُخْتٍ لِي، فَمَسَحْتُ وَجْهِي بِشَيْءٍ مِنْ صُفْرَةٍ، فَقِيلَ لِي: إِنَّمَا تَرَكَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَى بِوَجْهِكَ. فَانْطَلَقْتُ إِلَى بِئْرٍ، فَدَخَلْتُ فِيهَا، فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ إِنِّي حَضَرْتُ صَلَاةً أُخْرَى، فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ وَجْهِي وَبَرَّكَ عَلَيَّ، وَقَالَ: " عَادَ بِخَيْرِ دِينِهِ الْعَلاءُ، تَابَ وَاسْتَهَلَّتِ السَّمَاءُ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر سے پہلے اپنے ساتھیوں کے چہروں پر ہاتھ پھیرتے تھے، میں نے خلوق نامی خوشبو لگا رکھی تھی لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کے چہروں پر تو ہاتھ پھیرا لیکن مجھے چھوڑ دیا، میں نے واپس جا کر اسے دھویا اور دوسری نماز کے وقت حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیر کر فرمایا اچھے دین کے ساتھ واپس آئے، علا (یعلی) نے توبہ کرلی اور ان کی آواز آسمان تک پہنچی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17551]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن يعلى: إما أن يكون عبدالله وإما عثمان، فعبدالله ضعيف، وعثمان مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17552
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عن عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ ، أَوْ أَبِي حَفْصِ بْنِ عَمْرٍو ، عن يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ خَلُوقًا، فَقَالَ: " أَلَكَ امْرَأَةٌ؟" قَالَ: قُلْتُ: لَا. قَالَ:" فَاذْهَبْ فَاغْسِلْهُ، ثُمَّ لَا تَعُدْ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر خلوق نامی خوشبو لگی ہوئی دیکھی تو پوچھا کہ کیا تمہاری شادی ہوئی ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں، فرمایا تو جا کر اسے دھو اور دوبارہ مت لگانا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17552]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبى عمرو بن حفص
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17553
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عن عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عن يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِي رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، قَالَ: " اغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ لَا تَعُدْ" قَالَ: فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ.
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر زعفران کے نشان دیکھے تو فرمایا جا کر اسے تین مرتبہ دھو لو اور دوبارہ مت لگانا چنانچہ میں نے اسے دھولیا اور دوبارہ نہیں لگایا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17553]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حفص بن عبدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17554
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عن يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ صُفْرَةٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ: " اغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ لَا تَعُدْ" قَالَ: فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ. حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عن عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عن حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عن يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ صُفْرَةٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ: " اغْسِلْهُ، ثُمَّ اغْسِلْهُ، ثُمَّ لَا تَعُدْ" قَالَ: فَغَسَلْتُهُ، ثُمَّ لَمْ أَعُدْ.
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر زعفران کے نشان دیکھے تو فرمایا جا کر اسے تین مرتبہ دھو لو اور دوبارہ مت لگانا چنانچہ میں نے اسے دھولیا اور دوبارہ نہیں لگایا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17554]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حفص بن عبدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17555
حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عن جَدِّهِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: اغْتَسَلْتُ وَتَخَلَّقْتُ بِخَلُوقٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ وُجُوهَنَا، فَلَمَّا دَنَا مِنِّي جَعَلَ يُجَافِي يَدَهُ عَنِ الْخَلُوقِ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ:" يَا يَعْلَى، مَا حَمَلَكَ عَلَى الْخَلُوقِ؟ أَتَزَوَّجْتَ؟" قُلْتُ: لَا. قَالَ لِي:" اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ" قَالَ: فَمَرَرْتُ عَلَى رَكِيَّةٍ، فَجَعَلْتُ أَقَعُ فِيهَا، ثُمَّ جَعَلْتُ أَتَدَلَّكُ بِالتُّرَابِ حَتَّى ذَهَبَ. قَالَ: ثُمَّ جِئْتُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَادَ بِخَيْرِ دِينِهِ الْعَلاءُ، تَابَ وَاسْتَهَلَّتِ السَّمَاءُ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر سے پہلے اپنے ساتھیوں کے چہروں پر ہاتھ پھیرتے تھے، میں نے خلوق نامی خوشبو لگا رکھی تھی لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ کے چہروں پر تو ہاتھ پھیرا لیکن مجھے چھوڑ دیا، میں نے واپس جا کر اسے دھویا اور دوسری نماز کے وقت حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیر کر فرمایا اچھے دین کے ساتھ واپس آئے، علا (یعلی) نے توبہ کرلی اور ان کی آواز آسمان تک پہنچی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17555]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عمر بن عبدالله وأبو ضعيفان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17556
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عن جَدِّهِ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ عَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنَ الذَّهَبِ عَظِيمٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتُزَكِّي هَذَا؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا زَكَاةُ هَذَا؟! فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جَمْرَةٌ عَظِيمَةٌ عَلَيْهِ" .
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا جس نے سونے کی بہت بڑی (بھاری) انگوٹھی پہن رکھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو؟ اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی زکوٰۃ کیا ہے؟ جب وہ واپس چلا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس کے لئے ایک بہت بڑی چنگاڑی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17556]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً ، إبراهيم بن أبى الليث كذبه غير واحد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17557
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: عَبْد اللَّهِ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصٍ ، عن يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ زِيَادٍ جَالِسَا، فَأُتِيَ بِرَجُلٍ شَهِدَ فَغَيَّرَ شَهَادَتَهُ، فَقَالَ: لَأَقْطَعَنَّ لِسَانَكَ. فَقَالَ لَهُ يَعْلَى: أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : لَا تُمَثِّلُوا بِعِبَادِي" . قَالَ: فَتَرَكَهُ.
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کے متعلق مروی ہے کہ ایک مرتبہ زیاد کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، زیاد کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے کوئی شہادت دی، زیاد نے اس کی گواہی کو بدل دیا اور کہنے لگا کہ میں تیری زبان کاٹ ڈالوں گا، حضرت یعلی رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا کیا میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث نہ سناؤں؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندوں کا مثلہ مت کرو، اس پر زیاد نے اسے چھوڑ دیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17557]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن حفص، وعطاء مختلط ، ورواه بعد الاختلاط
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں