Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

548. حَدِيثُ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17731
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قُدُورِ أهل الكتاب، فَقَالَ: " إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا، فَاغْسِلْ وَاطْبُخْ" , وَسَأَلَهُ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ، وَعَنْ كُلِّ سَبُعٍ ذِي نَابٍ .
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اہل کتاب کی ہانڈیوں کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں اس کے علاوہ کوئی اور برتن نہ ملیں تو انہی کو دھوکر کھانا پکا سکتے ہو، پھر گدھوں کے گوشت کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اور ہر کچلی سے شکار کرنے والے درندے سے منع فرما دیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17731]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5478، م: 1930، وهذا إسناد منقطع، أبو قلابة لم يسمع من أبى ثعلبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17732
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي فِي الْآخِرَةِ مَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي فِي الْآخِرَةِ مَسَاوِئكُمْ أَخْلَاقًا، الثَّرْثَارُونَ الْمُتَفَيْهِقُونَ الْمُتَشَدِّقُونَ" .
حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ محبوب اور آخرت میں مجھ سے سب سے زیادہ قریب اچھے اخلاق والے ہوں گے اور میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ مبغوض اور آخرت میں مجھ سے سب سے زیادہ دور بداخلاق، بےہودہ گو، پھیلا کر لمبی بات کرنے والے اور جبڑا کھول کر بتکلف بولنے والے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17732]

حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، مكحول لم يسمع من أبى ثعلبة الخشني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17733
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَهْلُ صَيْدٍ. فَقَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ، فَأَمْسَكَ عَلَيْكَ، فَكُلْ"، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ؟ قَالَ:" وَإِنْ قَتَلَ". قَالَ: قُلْتُ: إِنَّا أَهْلُ رَمْيٍ. قَالَ:" مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ، فَكُلْ"، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّا أَهْلُ سَفَرٍ نَمُرُّ بِالْيَهُودِ، وَالنَّصَارَى، وَالْمَجُوسِ، وَلَا نَجِدُ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ. قَالَ:" فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا، فَاغْسِلُوهَا بِالْمَاءِ، ثُمَّ كُلُوا فِيهَا وَاشْرَبُوا" .
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم شکاری لوگ ہیں (ہمیں احکام صید بتائیے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنے کتے کو شکار پر چھوڑو اور بسم اللہ پڑھ لو، تو وہ جو شکار کرے، تم اسے کھا سکتے ہو، میں نے عرض کیا اگرچہ کتا اس شکار کو مار چکا ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اگرچہ وہ اسے مار چکا ہو، میں نے عرض کیا کہ ہم لوگ تیر انداز ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری کمان تمہیں جو چیز لوٹا دے وہ تم کھا سکتے ہو، میں نے عرض کیا کہ ہم مسافر لوگ ہیں، یہود و نصاری اور مجوس کے پاس سے گذرتے ہیں اور ان کے برتنوں کے علاوہ کوئی برتن نہیں ملتا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر ان کے برتنوں کے علاوہ کوئی برتن نہ ملے تو اسے پانی سے دھو لو، پھر اس میں کھاپی سکتے ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17733]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5478، م: 1931، وهذا إسناد ضعيف، حجاج مدلس وقد عنعن ، مكحول لم يسمع من أبى ثعلبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17734
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ وَهُوَ بِالْفُسْطَاطِ فِي خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ، وَكَانَ مُعَاوِيَةُ أَغْزَى النَّاسَ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ، فَقَالَ:" وَاللَّهِ لَا تَعْجِزُ هَذِهِ الْأُمَّةُ مِنْ نِصْفِ يَوْمٍ إِذَا رَأَيْتَ الشَّامَ مَائِدَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ، فَعِنْدَ ذَلِكَ فَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ" .
جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے جبکہ وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں شہر فسطاط میں تھے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو قسطنطنیہ میں جہاد کے لئے بھیجا ہوا تھا، سنا کہ بخدا! یہ امت نصف دن سے عاجز نہیں آئے گی، جب تم شام کو ایک آدمی اور اس کے اہل بیت کا دستر خوان دیکھ لو تو قسطنطنیہ کی فتح قریب ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17734]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17735
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ، قَالَ:" حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَلَحْمَ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" .
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں سے اور ہر کچلی سے شکار کرنے والے درندے کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17735]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، شطره الثاني أخرجه البخاري: 5530، ومسلم: 1932
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17736
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ زَبْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَعَسْكَرَ، تَفَرَّقُوا عَنْهُ فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ، فَقَامَ فِيهم، فَقَالَ: " إِنَّ تَفَرُّقَكُمْ فِي الشِّعَابِ والأَزدِية إِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ" قَالَ: فَكَانُوا بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا نَزَلُوا، انْضَمَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، حَتَّى إِنَّكَ لَتَقُولُ: لَوْ بَسَطْتُ عَلَيْهِمْ كِسَاءً لَعَمَّهُمْ، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ.
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر کے ساتھ کسی مقام پر پڑاؤ ڈالتے تو لوگ مختلف گھاٹیوں اور وادیوں میں منتشر ہوجاتے تھے، (ایک مرتبہ ایسا ہی ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ نے کھڑے ہو کر فرمایا تمہارا ان گھاٹیوں اور وادیوں میں منتشر ہونا) شیطان کی وجہ سے ہے، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد جب بھی کسی مقام پر پڑاؤ ہوتا تو لوگ ایک دوسرے کے اتنے قریب رہتے تھے کہ تم کہہ سکتے ہو اگر انہیں ایک چادر اوڑھائی جاتی تو وہ سب پر آجاتی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17736]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5478، م: 1930
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17737
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اكْتُبْ لِي بِأَرْضِ كَذَا وَكَذَا لأَرْضٍ بِالشَّامِ لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا تَسْمَعُونَ إِلَى مَا يَقُولُ هَذَا؟" فَقَالَ أَبُو ثَعْلَبَةَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَظْهَرُنَّ عَلَيْهَا. قَالَ: فَكَتَبَ لَهُ بِهَا، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ، فَأُرْسِلُ كَلْبِيَ الْمُكَلَّبَ، وَكَلْبِيَ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ؟ قَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُكَلَّبَ وَسَمَّيْتَ، فَكُلْ مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ كَلْبُكَ الْمُكَلَّبُ، وَإِنْ قَتَلَ، وَإِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ، فَكُلْ، وَكُلْ مَا رَدَّ عَلَيْكَ سَهْمُكَ، وَإِنْ قَتَلَ، وَسَمِّ اللَّهَ". قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ أَهْلِ كِتَابٍ، وَإِنَّهُمْ يَأْكُلُونَ لَحْمَ الْخِنْزِيرِ، وَيَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، فَكَيْفَ نَصْنَعُ بِآنِيَتِهِمْ وَقُدُورِهِمْ؟ قَالَ:" إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا، فَارْحَضُوهَا وَاطْبُخُوا فِيهَا، وَاشْرَبُوا". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يَحِلُّ لَنَا مِمَّا يُحَرَّمُ عَلَيْنَا؟ قَالَ:" لَا تَأْكُلُوا لُحُومَ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ، وَلَا كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" .
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم شام میں فلاں فلاں زمین جس پر ابھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم غالب نہیں آئے تھے میرے نام لکھ دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کیا تم ان کی بات سن نہیں رہے؟ حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، آپ اس پر ضرور غالب آئیں گے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس مضمون کی ایک تحریر لکھ کر دے دی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم شکاری لوگ ہیں (ہمیں احکام صید بتائیے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑو اور بسم اللہ پڑھ لو، تو وہ جو شکار کرے، تم اسے کھا سکتے ہو، میں نے عرض کیا اگرچہ کتا اس شکار کو مارچکا ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اگرچہ وہ اسے مار چکا ہو اور اگر وہ سدھایا ہوا نہ ہو اور تم اسے ذبح کرسکو تو ذبح کر کے کھالو، تمہاری کمان تمہیں جو چیز لوٹا دے، وہ تم کھا سکتے ہو، میں نے عرض کیا ہم لوگ یہودونصاری کے علاقے میں رہتے ہیں، وہ لوگ خنزیر کھاتے اور شراب پیتے ہیں، تو ہم ان کے برتنوں اور ہانڈیوں کو کس طرح استعمال کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں ان کے برتنوں کے علاوہ کوئی برتن نہ ملے تو اسے پانی سے دھو لو، پھر اس میں کھا پی سکتے ہو۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے کیا چیز حلال اور کیا چیز حرام ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پالتو گدھے اور ہر کچلی سے شکار کرنے والے درندے کو مت کھاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17737]

حکم دارالسلام: صحيح، م: 1931 دون قصة الأرض، وهذا إسناد منقطع، أبو قلابة لم يسمع من أبى ثعلبة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17738
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" .
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی سے شکار کرنے والے درندے سے منع فرما دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17738]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5530، م: 932
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17739
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي إِدْرِيسَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فِي خِلَافَةِ عَبْدِ الْمَلِكِ، أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" .
حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی سے شکار کرنے والے درندے سے منع فرما دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17739]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5530، م: 932
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17740
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" .
حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی سے شکار کرنے والے درندے سے منع فرما دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17740]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5530، م: 932
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں