مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
574. حَدِيثُ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 17870
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ الرَّبَابَ الضَّبِّيَّةِ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى الْمَاءِ، فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ" . قَالَ هِشَامٌ وَحَدَّثَنِي عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ أَنَّ حَفْصَةَ رَفَعَتْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے چاہئے کہ کھجور سے افطار کرے، اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کرلے کیونکہ پانی پاکیزگی بخش ہوتا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17870]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة الرباب الضَبِّيَّةِ
حدیث نمبر: 17871
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ، فَأَهْرِقُوا عَنْه دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى" .
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو، اس سے آلائشیں وغیرہ دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17871]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، حفصة ابنة سيرين لم تسمع من سلمان بن عامر
حدیث نمبر: 17871
قَالَ: قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " صَدَقَتُكَ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَعَلَى ذِي الْقُرْبَى الرَّحِمِ ثِنْتَانِ: صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ" .
اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسکین پر صدقہ کرنے کا اکہرا ثواب ہے اور قریبی رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا ثواب دہرا ہے، ایک صدقے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17871]
حدیث نمبر: 17872
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنِ الرَّبَابِ أُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَإِنَّهَا عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ" .
اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسکین پر صدقہ کرنے کا اکہرا ثواب ہے اور قریبی رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا ثواب دہرا ہے، ایک صدقے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17872]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرباب
حدیث نمبر: 17873
حدثنا سفيانُ بنُ عُيَيْنَةَ ، عن عاصمٍ ، عن حَفْصه ، عن الرَّباب ، عن عَمَّها سَلْمانَ بنِ عامر الضَّبّي ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " ليُفْطِرْ يعنى أَحَدكم على تَمْرٍ، فإنْ لم َيجِدْ فِلْيُفْطِرْ على ماءٍ فإنَّه طَهورٌ" . " ومع الغلام عقيقته، فأميطوا عنه الأذى، وأريقوا عنه دمًا" . " والصدقة على ذي القرابة ثنتان: صدقة وصلة" .
حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے چاہئے کہ کھجور سے روزہ افطار کرے، اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کرلے کیونکہ پانی پاکیزگی بخش ہوتا ہے، لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو، اس سے آلائشیں وغیرہ دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو اور قریبی رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا ثواب دہرا ہے، ایک صدقے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17873]
حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: ليفطر.....فانه طهور ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرباب
حدیث نمبر: 17874
حَدَّثَنَا وكيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحول ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنِ الرَّبَابِ أُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ، فَإِنَّهُ طَهُورٌ" .
حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے چاہئے کہ کھجور سے افطار کرے، اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کرلے کیونکہ پانی پاکیزگی بخش ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17874]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الجهالة الرباب
حدیث نمبر: 17875
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ، أَرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى" .
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو، اس سے آلائشیں وغیرہ دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17875]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17876
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنِ الرَّبَابِ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ تَمْرًا، فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ، فَإِنَّهُ لَهُ طَهُورٌ" .
حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے چاہئے کہ کھجور سے افطار کرے، اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کرلے کیونکہ پانی پاکیزگی بخش ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17876]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة الرباب
حدیث نمبر: 17877
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنِ الرَّبَابِ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ بِتَمْرٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ، فَلْيُفْطِرْ بِمَاءٍ، فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ" .
حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے چاہئے کہ کھجور سے افطار کرے، اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کرلے کیونکہ پانی پاکیزگی بخش ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17877]
حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: إذا افطر.....فانه طهور ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرباب
حدیث نمبر: 17877
وَقَالَ: " مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى" .
لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کرو، اس سے آلائشیں وغیرہ دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17877]