مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
637. حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 18134
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، فَسُئِلَ: هَلْ أَمَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ السَّحَرِ، ضَرَبَ عُنُقَ رَاحِلَتِي، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ حَاجَةً، فَعَدَلْتُ مَعَهُ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى بَرَزْنَا عَنِ النَّاسِ، فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَته، ثُمَّ انْطَلَقَ فَتَغَيَّبَ عَنِّي حَتَّى مَا أَرَاهُ، فَمَكَثَ طَوِيلًا، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ:" حَاجَتَكَ يَا مُغِيرَةُ؟" قُلْتُ: مَا لِي حَاجَةٌ. فَقَال:" هَلْ مَعَكَ مَاءٌ؟" فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقُمْتُ إِلَى قِرْبَةٍ أَوْ إِلَى سَطِيحَةٍ مُعَلَّقَةٍ فِي آخِرَةِ الرَّحْلِ، فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ، فَأَحْسَنَ غَسْلَهُمَا، قَالَ: وَأَشُكُّ أَقَالَ: دَلَّكَهُمَا بِتُرَابٍ، أَمْ لَا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ يَدَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ، فَضَاقَتْ، فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِهَا إِخْرَاجًا، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، قَالَ: فَيَجِيءُ فِي الْحَدِيثِ غَسْلُ الْوَجْهِ مَرَّتَيْن؟ قَالَ: لَا أَدْرِي أَهَكَذَا كَانَ أَمْ لَا، ثُمَّ مَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ، وَمَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، وَرَكِبْنَا فَأَدْرَكْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَتَقَدَّمَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَهُمْ فِي الثَّانِيَةِ، فَذَهَبْتُ أُوذِنُهُ فَنَهَانِي، فَصَلَّيْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي أَدْرَكْنَا، وَقَضَيْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي سُبِقْنَا .
عمروبن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھ کہ کسی شخص نے ان سے پوچھا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ اس امت میں کوئی اور بھی ایسا شخص ہوا ہے جس کی امامت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہو؟ انہوں نے جواب دیاہاں! ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے خیمے کا دروازہ بجایا میں سمجھ گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لئے جانا چاہتے ہیں چناچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکل پڑا یہاں تک کہ ہم لوگ چلتے چلتے لوگوں سے دور چلے گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میری نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور فرمایا مغیرہ! تم بھی اپنی ضرورت پوری کرلو میں نے عرض کیا کہ مجھے اس وقت حاجت نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! اور یہ کہہ کر میں وہ مشکیزہ لانے چلا گیا جو کجاوے کے پچھلے حصے میں لٹکا ہوا تھا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے حاضر ہوا اور پانی ڈالتارہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد) ادا کیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18134]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18135
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ ظَاهِرِينَ عَلَى النَّاسِ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ، وَهُمْ ظَاهِرُونَ" .
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ لوگوں پر غالب رہے گی یہاں تک کہ جب ان کے پاس اللہ کا حکم آئے گا تب بھی وہ غالب ہی ہوں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18135]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7311، م: 1921
حدیث نمبر: 18136
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي هِشَامٌ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ حَدَّثَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ اسْتَشَارَهُمْ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ، فَقَالَ لَهُ الْمُغِيرَةُ : " قَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْغُرَّةِ" . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنْ كُنْتَ صَادِقًا، فَأْتِ بِأَحَدٍ يَعْلَمُ ذَلِكَ، فَشَهِدَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ.
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا کہ اگر کسی سے حاملہ عورت کا بچہ ساقط ہوجائے تو کیا کیا جائے؟ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورت میں ایک غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر آپ کی بات صحیح ہے تو کوئی گواہ پیش کیجئے جو اس حدیث سے واقف ہو؟ اس پر حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے شہادت دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ فرمایا تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18136]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6908
حدیث نمبر: 18137
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ لَهُ امْرَأَةً أَخْطُبُهَا، فَقَالَ: " اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا" . قَالَ: فَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَخَطَبْتُهَا إِلَى أَبَوَيْهَا، وَأَخْبَرْتُهُمَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَأَنَّهُمَا كَرِهَا ذَلِكَ، قَال: فَسَمِعَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ وَهِيَ فِي خِدْرِهَا، فَقَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ أَنْ تَنْظُرَ، فَانْظُرْ، وَإِلَّا فَإِنِّي أَنْشُدُكَ، كَأَنَّهَا أَعْظَمَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِ. قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فَتَزَوَّجْتُهَا، فَذَكَرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَا.
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں فلاں عورت سے شادی کرنا چاہتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاکر پہلے اسے دیکھو کیونکہ اس سے تمہارے درمیان محبت بڑھے گی چناچہ میں انصار کی ایک عورت کے پاس آیا اور اس کے والدین کو پیغام نکاح دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بھی سنایا غالباً انہوں نے اسے پسند نہیں کیا لیکن اس عورت نے پردے کے پیچھے سے یہ بات سن لی اور کہنے لگی کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں حکم دیا ہے کہ دیکھو تو پھر تم دیکھ سکتے ہو اگر تم ایسا نہیں کرتے تو میں تمہیں اللہ کی قسم دیتی ہوں، اس نے یہ بات بہت بڑی سمجھی تھی چناچہ میں نے اسے دیکھا اور اس سے شادی کرلی، پھر انہوں نے اس کے ساتھ اپنی موافقت کا ذکر کیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18137]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، إن صح سماع بكر بن عبدالله من المغيرة
حدیث نمبر: 18138
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ، فَقَتَلَتْهَا، " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدِّيَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ، وَفِيمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّةٌ "، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: أَتُغَرِّمُنِي مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ! مِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ؟". وَبِمَا فِي بَطْنِهَا غُرَّة.
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو عورتوں کی لڑائی ہوئی، ان میں سے ایک نے دوسری کو اپنے خیمے کی چوب مار کر قتل کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتلہ کے عصبات پر دیت کا فیصلہ فرمایا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کے ضائع ہونے پر ایک باندی یا غلام کا فیصلہ فرمایا ایک دیہاتی کہنے لگا کہ آپ مجھ پر اس جان کا تاوان عائد کرتے ہیں جس نے کھایا نہ پیا، چیخا اور نہ چلایا، ایسی جان کا معاملہ تو ٹال دیا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیہاتیوں جیسی تک بندی ہے لیکن فیصلہ پھر بھی وہی ہے کہ اس بچے کے قصاص میں ایک غلام یا باندی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18138]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1682
حدیث نمبر: 18139
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالاَ: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، أَنَّ وَرَّادًا مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ كَتَبَ ذَلِكَ الْكِتَابَ لَهُ وَرَّادٌ: إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ يُسَلِّمُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ" . قَالَ وَرَّادٌ: ثُمَّ وَفَدْتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَسَمِعْتُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَأْمُرُ النَّاسَ بِذَلِكَ الْقَوْلِ، وَيُعَلِّمُهُمُوهُ.
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا " جو ان کے کاتب وراد نے لکھا تھا " کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پھیرتے وقت یہ کلمات کہتے ہوئے سنا ہے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اے اللہ! جسے آپ دیں اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا اور آپ کے سامنے کسی مرتبے والے کا مرتبہ کام نہیں آسکتا وراد کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ایک مرتبہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے برسر منبر انہیں لوگوں کو یہ کلمات کہنے کا حکم دیتے ہوئے سنا وہ لوگوں کو یہ کلمات سکھا رہے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18139]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6615، م: 593
حدیث نمبر: 18140
حَدَّثَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَه: قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ، فَنِيحَ عَلَيْهِ، فَخَرَجَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثم قَالَ: مَا بَالُ النَّوْحِ فِي الْإِسْلَام ِ؟! أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ، أَلَا وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" . أَلَا وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ يُنَحْ عَلَيْهِ، يُعَذَّبْ بِمَا يُنَاحُ بِهِ عَلَيْه" .
علی بن ربیعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ قرطہ بن کعب نامی ایک انصاری فوت ہوگیا اس پر آہ وبکاء شروع ہوگئی حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے نکلے اور منبر پر چڑھ کر اللہ کی حمد وثناء کرنے بعد فرمایا اسلام میں یہ کیسا نوحہ؟ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھ پر جھوٹ باندھنا عام آدمی پر جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے یاد رکھو! جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتا ہے اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں تیار کرلینا چاہئے۔ یاد رکھو! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص پر نوحہ کیا جاتا ہے اسے اس نوحے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18140]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1291، م: 933
حدیث نمبر: 18141
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْكِلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَنْزِعُ خُفَّيْكَ؟ قَالَ:" لَا، إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ، ثُمَّ لَمْ أَمْشِ حَافِيًا بَعْدُ" ثُمَّ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْح .
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ اور بازو دھوئے اور سر اور موزوں پر مسح فرمایا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں آپ کے موزے اتار نہ دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں میں نے یہ وضو کی حالت میں پہنے تھے پھر میں انہیں اتار کر نہیں چلا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز اسی طرح پڑھ لی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18141]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 182، م: 274، مجالد ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18142
قال عبد الله: وجدتُ في كتاب أبي بخط يده: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُتَعَالِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُجَالِدُ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ: كَسَفَتْ الشَّمْسُ ضَحْوَةً حَتَّى اشْتَدَّتْ ظُلْمَتُهَا، فَقَامَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَقَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ سُورَةً مِنَ الْمَثَانِي، ثُمَّ رَكَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَكَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ رَكَعَ الثَّانِيَةَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِنَّ الشَّمْسَ تَجَلَّتْ، فَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ سُورَةً، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: إِنَّ الشَّمْسَ كَسَفَتْ يَوْمَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَإِنَّمَا هُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا انْكَسَفَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا، فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ" . ثُمَّ نَزَلَ، فَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الصَّلَاةِ، فَجَعَلَ يَنْفُخُ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ إِنَّهُ مَدَّ يَدَهُ كَأَنَّهُ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" إِنَّ النَّارَ أُدْنِيَتْ مِنِّي حَتَّى نَفَخْتُ حَرَّهَا عَنْ وَجْهِي، فَرَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ، وَالَّذِي بَحَرَ الْبَحِيرَةَ، وَصَاحِبَةَ حِمْيَرَ صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ" ..
عامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ چاشت کے وقت سورج گرہن ہوگیا اور آسمان اتنہائی تاریک ہوگیا حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر اٹھے اور لوگوں کو نماز پڑھانے لگے انہوں نے اتنا طویل قیام کیا کہ جس میں " مثانی " کی ایک سورت پڑھی جاسکتی تھی اتنا ہی طویل رکوع کیا رکوع سے سر اٹھا کر اتنا ہی طویل رکوع دوبارہ کیا پھر سرا اٹھا کر اتنی ہی دیر کھڑے رہے اور دوسری رکعت بھی اسی طرح پڑھی۔ اتنی دیر میں میں سورج بھی روشن ہوگیا پھر انہوں نے سجدہ و نماز سے فاراغت پائی اور منبر پر چڑھ گئے اور فرمایا کہ جس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تھا اس دن سورج گرہن ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ سورج اور چاند کسی کی موت سے نہیں گہناتے یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں لہٰذا جب ان میں سے کسی ایک کو گہن لگے تو تم فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوجایا کرو۔ اس کے بعد انہوں نے منبر سے نیچے اتر کر یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کسوف پڑھا رہے تھے تو اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سامنے پھونکیں مارنا شروع کردیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس طرح بڑھایا جیسے کوئی چیز پکڑنا چاہ رہے ہوں اور نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ جہنم میرے اتنے قریب کردی گئی تھی کہ میں پھونکیں مار کر اس کی گرمی اپنے چہرے سے دور کرنے لگا میں نے جہنم میں لاٹھی والے کو بھی دیکھا جانوروں کو بتوں کے نام پر چھورنے کی رسم ایجاد کرنے والے کو بھی اور بلی کو باندھنے والی حمیری عورت کو بھی دیکھا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18142]
حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لضعف مجالد، وعبدالمتعال بن عبد الوهاب مستور، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18143
قال عبد الله بن أحمد: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْمُجَالِدُ ، عَنْ عَامِرٍ ، مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، مجالد ضعيف