مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
637. حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 18144
قال عبد الله بن أحمد: وجدت في كتاب أبي بخط يده: حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْهُذَلِيَّتَيْنِ أَنَّ الْعَقْلَ عَلَى الْعَصَبَةِ، وَأَنَّ الْمِيرَاثَ لِلْوَرَثَةِ، وَأَنَّ فِي الْجَنِينِ غُرَّةً" .
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوہذیل کی دو عورتوں کے بارے قاتلہ کے عصبات پر دیت کا فیصلہ فرمایا اور ورثہ کے لئے میراث کا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کے ضائع ہونے پر ایک باندی یا غلام کا فیصلہ فرمایا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18144]
الحكم على الحديث:
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر
حدیث نمبر: 18145
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، أَنَّهُ سَافَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَادِيًا، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ خَرَجَ فَأَتَاهُ، فَتَوَضَّأَ، فَخَلَعَ خُفَّيْهِ، فَتَوَضَّأَ، فَلَمَّا فَرَغَ، وَجَدَ رِيحًا بَعْدَ ذَلِكَ، فَعَادَ فَخَرَجَ، فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، نَسِيتَ، لَمْ تَخْلَعْ الْخُفَّيْنِ، قَالَ:" كَلَّا، بَلْ أَنْتَ نَسِيتَ، بِهَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک وادی میں قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے وہاں سے واپس آکر وضو کیا اور موزے اتار کر وضو کیا وضو سے فارغ ہونے کے بعد خروج ریح کا احساس ہوا تو دوربارہ چلے گئے واپس آکر وضو کیا اور اس مرتبہ موزوں پر ہی مسح کرلیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! شاید آپ بھول گئے کہ آپ نے موزے نہیں اتارے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قطعاً نہیں تم بھول گئے ہو مجھے تو میرے رب نے یہی حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18145]
الحكم على الحديث:
ضعيف بهذه السياقة، تفرد بها بكير، وهو ضعيف
حدیث نمبر: 18146
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: وَقَدْ كُنْتُ حَفِظْتُ مِنْ كَثِيرٍ مِنْ عُلَمَائِنَا بِالْمَدِينَةِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ كَانَ يَرْوِي، عَنِ الْمُغِيرَةِ أَحَادِيثَ مِنْهَا أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ" .
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میت کو غسل دے اسے خود بھی غسل کرلینا چاہئے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18146]
الحكم على الحديث:
وقال الأئمة الكبار: لا يصح من هذا الباب شيئ
حدیث نمبر: 18147
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ وَرَّادٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا: قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَحَرَّمَ عَلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأْدَ الْبَنَاتِ، وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ، وَمَنَعَ وَهَاتِ" .
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ تین چیزوں کو تمہارے حق میں ناپسند کرتا ہے قیل وقال، کثرت سوال اور مال کو ضائع کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم پر بچیوں کو زندہ درگور کرنا ماؤں کی نافرمانی کرنا اور مال کو روک کر رکھنا اور دست سوال کرنا حرام قرار دیا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18147]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2408، م: 593
حدیث نمبر: 18148
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً ضَرَبَتْهَا امْرَأَةٌ بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ، فَقَتَلَتْهَا وَهِيَ حُبْلَى، فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَقَضَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ بِالدِّيَةِ، وَفِي الْجَنِينِ غُرَّةٌ" . فَقَالَ: عَصَبَتُهَا أَنْدِي مَنْ لَا طَعِمَ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا صَاحَ، فَاسْتَهَلَّ، مِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ. فَقَالَ:" سَجْعٌ مِثْلُ سَجْعِ الْأَعْرَابِ". وقَالَ شُعْبَةُ : سَمِعْتُ عُبَيْدًا .
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو عورتوں کی لڑائی ہوئی، ان میں سے ایک نے دوسری کو اپنے خیمے کی چوب مار کر قتل کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتلہ کے عصبات پر دیت کا فیصلہ فرمایا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کے ضائع ہونے پر ایک باندی یا غلام کا فیصلہ فرمایا ایک دیہاتی کہنے لگا کہ آپ مجھ پر اس جان کا تاوان عائد کرتے ہیں جس نے کھایا نہ پیا، چیخا اور نہ چلایا، ایسی جان کا معاملہ تو ٹال دیا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیہاتیوں جیسی تک بندی ہے لیکن فیصلہ پھر بھی وہی ہے کہ اس بچے کے قصاص میں ایک غلام یا باندی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18148]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1682
حدیث نمبر: 18149
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: مَنْصُورٌ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ، فَغَارَتَا، فَضَرَبَتْهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ، فَقَتَلَتْهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نَدِي مَنْ لَا أَكَلَ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ؟" قَالَ: " فَقَضَى فِيهِ غُرَّةً". قَالَ: وَجَعَلَهُ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَة .
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو عورتوں کی لڑائی ہوئی، ان میں سے ایک نے دوسری کو اپنے خیمے کی چوب مار کر قتل کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتلہ کے عصبات پر دیت کا فیصلہ فرمایا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کے ضائع ہونے پر ایک باندی یا غلام کا فیصلہ فرمایا ایک دیہاتی کہنے لگا کہ آپ مجھ پر اس جان کا تاوان عائد کرتے ہیں جس نے کھایا نہ پیا، چیخا اور نہ چلایا، ایسی جان کا معاملہ تو ٹال دیا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیہاتیوں جیسی تک بندی ہے لیکن فیصلہ پھر بھی وہی ہے کہ اس بچے کے قصاص میں ایک غلام یا باندی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18149]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1682
حدیث نمبر: 18150
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، وَحَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَتَى عَلَى سُبَاطَةِ بَنِي فُلَانٍ، فَبَالَ قَائِمًا" . قَالَ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ: فَفَحَّجَ رِجْلَيْهِ.
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ پر تشریف لائے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18150]
الحكم على الحديث:
وهم فى اسناده حماد بن سلمة وعاصم بن بهدلة، فجعلاه من مسند المغيرة بن شعبة، والصواب هو حديث صحيح من حديث حذيفة
حدیث نمبر: 18151
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِحُجْزَةِ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي سَهْلٍ وَهُوَ يَقُولُ:" يَا سُفْيَانُ بْنَ أَبِي سَهْلٍ، لَا تُسْبِلْ إِزَارَكَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْبِلِينَ" .
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفیان بن ابی سہل کی کمر پکڑ کر یہ کہتے ہوئے سنا اے سفیان بن ابی سہل! اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے مت لٹکاؤ کیونکہ اللہ ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18151]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، شريك صدوق يخطئ كثيرا، وحصين إن كان ابن عقبة فهو مجهول، وإن كان ابن قبيصة فهو صدوق، وهذا اختلاف على شريك فيه
حدیث نمبر: 18152
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنِي مَسْلَمَةُ بْنُ نَوْفَلٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُثْلَةِ" .
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لاشوں کے ناک کان اور دیگر اعضاء کاٹنے سے منع فرمایا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18152]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل من ولد المغيرة، وللاختلاف فيه
حدیث نمبر: 18153
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّهُ صَحِبَ قَوْمًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَوَجَدَ مِنْهُمْ غَفْلَةً، فَقَتَلَهُمْ، وَأَخَذَ أَمْوَالَهُمْ، فَجَاءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْبَلَهَا" .
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ مشرکین کی ایک جماعت کے ساتھ تھے انہوں نے جب مشرکین کو غافل پایا تو انہیں قتل کردیا اور ان کا مال و دولت لے آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18153]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح