🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

638. حَدِيثُ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18254
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحِلِّ بْنِ خَلِيفَةَ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ" ، وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ:" فَبِكَلِمَةٍ".
حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو شخص جہنم سے بچ سکتا ہو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے عوض تو وہ ایسا ہی کرے۔ اگر کسی کو یہ بھی نہ ملے تو اچھی بات ہی کرلے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18254]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1413، م: 1016
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18255
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، وَكَانَ لَنَا جَارًا أَوْ دَخِيلًا وَرَبِيطًا بِالنَّهْرَيْنِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أُرْسِلُ كَلْبِي، فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا قَدْ أَخَذَ، لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ؟ قَالَ: " فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ" ..
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میں شکار پر اپنا کتا چھوڑوں اور وہاں پہنچ کر اپنے کتے کے ساتھ ایک دوسرا کتا بھی پاؤں اور مجھے معلوم نہ ہو کہ ان دونوں میں سے کس نے اسے شکار کیا ہے تو کیا کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے مت کھاؤ کیونکہ تم نے اپنے کتے کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا تھا دوسرے کے کتے پر نہیں لیا تھا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18255]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 175، م: 1929
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18256
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ ذَلِكَ.

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 175، م: 1929
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18257
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ تَمِيمَ بْنَ طَرَفَةَ الطَّائِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيَتْرُكْ يَمِينَهُ" .
حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی بات پر قسم کھائے پھر کسی اور چیز میں بہتری محسوس کرے تو وہی کام کرے جس میں بہتری ہو (اور قسم کا کفارہ دے دے) [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18257]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1651
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18258
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْر ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَعَلَّمَنِي الْإِسْلَامَ، وَنَعَتَ لِي الصَّلَاةَ، وَكَيْفَ أُصَلِّي كُلَّ صَلَاةٍ لِوَقْتِهَا" . ثُمَّ قَالَ لِي:" كَيْفَ أَنْتَ يَا ابْنَ حَاتِمٍ إِذَا رَكِبْتَ مِنْ قُصُورِ الْيَمَنِ لَا تَخَافُ إِلَّا اللَّهَ حَتَّى تَنْزِلَ قُصُورَ الْحِيرَةِ؟" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيْنَ مَقَانِبُ طَيِّئٍ وَرِجَالُهَا؟ قَالَ: " يَكْفِيكَ اللَّهُ طَيِّئًا وَمَنْ سِوَاهَا" . قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَوْمٌ نَتَصَيَّدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ وَالْبَزَاةِ، فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْهَا؟ قَالَ: " يَحِلُّ لَكُمْ مَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمْ اللَّهُ، فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَمَا عَلَّمْتَ مِنْ كَلْبٍ أَوْ بَازٍ، ثُمَّ أَرْسَلْتَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ". قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ؟ قَالَ:" وَإِنْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَيْكَ". قُلْتُ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ خَالَطَ كِلَابَنَا كِلَابٌ أُخْرَى حِينَ نُرْسِلُهَا؟ قَالَ:" لَا تَأْكُلْ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَّ كَلْبَكَ هُوَ الَّذِي أَمْسَكَ عَلَيْكَ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَوْمٌ نَرْمِي فَمَا يَحِلُّ لَنَا؟ قَالَ: يحل لكم ما ذكرتُم اسم الله عليه وخزقتم، فكلوا منه. قال: قلت: يا رسول الله، إنَّا قومٌ نرمي بالمِعْرَاض، فما يَحلُّ لنا؟ قال" لَا تَأْكُلْ مَا أَصَبْتَ بِالْمِعْرَاضِ إِلَّا مَا ذَكَّيْتَ" .
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسلام کی تعلیم دی اور نماز کی کیفیت مجھے بتائی کہ کس طرح ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا کروں پھر مجھ سے فرمایا اے ابن حاتم! اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب تم یمن کے محلات سے سوار ہوگے تمہیں اللہ کے علاوہ کسی کا خوف نہ ہوگا یہاں تک کہ تم حیرہ کے محلات میں جا اترو گے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قبیلہ طی کے بہادر اور جنگجو پھر کہاں جائیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ بنوطی وغیرہ سے تمہاری کفایت فرمائیں گے۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم لوگ ان کتوں اور باز کے ذریعے شکار کرتے ہیں تو اس میں سے ہمارے لئے کیا حلال ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی جو کتے سدھائے ہوئے ہوں اور جو زخمی کرسکیں اور جنہیں تم نے یہ علم سکھا دیا ہو جو اللہ نے تمہیں سکھایا ہے تو وہ تمہارے لئے جو شکار کریں اسے تم کھاسکتے ہو اور ان پر اللہ کا نام لے لیا کرو " اور فرمایا تم نے جس کتے یا باز کو سدھا لیا ہو ' پھر تم اسے اللہ کا نام لے کر چھوڑو تو جو وہ تمہارے لئے شکار کرے تم اسے کھالو، میں نے پوچھا اگرچہ وہ جانور کو مار ڈالے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اگرچہ وہ جانور کو مار ڈالے لیکن اس میں سے خودکچھ نہ کھائے اس لئے کہ اگر اس نے خود اس میں سے کچھ کھالیا تو اس نے وہ شکار اپنے لئے کیا ہے (لہٰذاتمہارے لئے حلال نہیں) میں نے پوچھا کہ بتائیے اگر ہمارے کتے کے ساتھ کچھ دوسرے کتے آملیں تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شکار کو مت کھاؤ جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہوجائے کہ اسے تمہارے کتے ہی نے شکار کیا ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم لوگ چوڑائی کے حصے میں تیر مارتے ہیں تو اس میں سے ہمارے لئے کیا حلال ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس جانور کو تم نے تیر کے چوڑائی والے حصے سے مارا ہو اسے مت کھاؤ الاّیہ کہ اس کی روح نکلنے سے پہلے اسے ذبح کرلو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18258]

حکم دارالسلام: حديث صحيح بغيره هذه السياقة فى بعض الفاظه ، وهذا اسناد ضعيف من اجل مجالد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18259
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَرْضِي أَرْضُ صَيْدٍ، قَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ، وَسَمَّيْتَ، فَكُلْ مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ كَلْبُكَ، وَإِنْ قَتَلَ، فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ، فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ، فَخَالَطَتْهُ أَكْلُبٌ لَمْ تُسَمِّ عَلَيْهَا، فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهَا قَتَلَهُ" .
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا علاقہ شکاری علاقہ ہے، (اس حوالے سے مجھے کچھ بتائیے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم اپنے کتے کو شکار پر چھوڑو اور اللہ کا نام لے لو تو اس نے تمہارے لئے جو شکار پکڑا ہو اور خود نہ کھایا ہو تو اسے کھالو اور اگر اس نے اس میں سے کچھ کھالیا ہو تو نہ کھاؤ کیونکہ اس نے اسے اپنے لئے پکڑا ہے اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی پاؤ اور تمہیں اندیشہ ہو کہ اس دوسرے کتے نے شکار کو پکڑا اور قتل کیا ہوگا تو تم اسے مت کھاؤ کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اسے کس نے شکار کیا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18259]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 175، م: 1929
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18260
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ : حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْكَ، قَالَ: نَعَمْ، لَمَّا بَلَغَنِي خُرُوجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهْتُ خُرُوجَهُ كَرَاهَةً شَدِيدَةً، خَرَجْتُ حَتَّى وَقَعْتُ نَاحِيَةَ الرُّومِ، وَقَالَ، يَعْنِي يَزِيدَ: بِبَغْدَادَ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى قَيْصَرَ، قَالَ: فَكَرِهْتُ مَكَانِي ذَلِكَ أَشَدَّ مِنْ كَرَاهِيَتِي لِخُرُوجِهِ، قَالَ: فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوْلَا أَتَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ، فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا لَمْ يَضُرَّنِي، وَإِنْ كَانَ صَادِقًا عَلِمْتُ، قَالَ: فَقَدِمْتُ فَأَتَيْتُهُ، فَلَمَّا قَدِمْتُ قَالَ النَّاسُ: عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي:" يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ، أَسْلِمْ تَسْلَمْ" ثَلَاثًا. قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي عَلَى دِينٍ، قَالَ:" أَنَا أَعْلَمُ بِدِينِكَ مِنْكَ" فَقُلْتُ: أَنْتَ أَعْلَمُ بِدِينِي مِنِّي؟! قَالَ:" نَعَمْ، أَلَسْتَ مِنَ الرَّكُوسِيَّةِ، وَأَنْتَ تَأْكُلُ مِرْبَاعَ قَوْمِكَ؟" قُلْتُ: بَلَى. قَالَ:" فَإِنَّ هَذَا لَا يَحِلُّ لَكَ فِي دِينِكَ". قَالَ: فَلَمْ يَعْدُ أَنْ قَالَهَا، فَتَوَاضَعْتُ لَهَا، فَقَالَ:" أَمَا إِنِّي أَعْلَمُ مَا الَّذِي يَمْنَعُكَ مِنَ الْإِسْلَامِ، تَقُولُ إِنَّمَا اتَّبَعَهُ ضَعَفَةُ النَّاسِ، وَمَنْ لَا قُوَّةَ لَهُ، وَقَدْ رَمَتْهُمْ الْعَرَبُ، أَتَعْرِفُ الْحِيرَةَ؟" قُلْتُ: لَمْ أَرَهَا، وَقَدْ سَمِعْتُ بِهَا. قَالَ:" فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيُتِمَّنَّ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى تَخْرُجَ الظَّعِينَةُ مِنَ الْحِيرَةِ، حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ فِي غَيْرِ جِوَارِ أَحَدٍ، وَلَيَفْتَحَنَّ كُنُوزَ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ" قَالَ: قُلْتُ: كِسْرَى بْنُ هُرْمُزَ؟! قَالَ:" نَعَمْ، كِسْرَى بْنُ هُرْمُزَ، وَلَيُبْذَلَنَّ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ" . قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ: فَهَذِهِ الظَّعِينَةُ تَخْرُجُ مِنَ الْحِيرَةِ، فَتَطُوفُ بِالْبَيْتِ فِي غَيْرِ جِوَارٍ، وَلَقَدْ كُنْتُ فِيمَنْ فَتَحَ كُنُوزَ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَكُونَنَّ الثَّالِثَةُ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَهَا.
ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث معلوم ہوئی ہے لیکن میں اسے خود آپ سے سننا چاہتا ہوں انہوں نے فرمایا بہت اچھا جب مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کی خبر ملی تو مجھے اس پر بڑی ناگواری ہوئی میں اپنے علاقے سے نکل کر روم کے ایک کنارے پہنچا اور قیصر کے پاس چلا گیا لیکن وہاں پہنچ کر مجھے اس سے زیادہ شدید ناگواری ہوئی جو بعثت نبوت کی اطلاع ملنے پر ہوئی تھی، میں نے سوچا کہ میں اس شخص کے پاس جاکر تو دیکھوں اگر وہ جھوٹا ہو تو مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور اگر سچا ہوا تو مجھے معلوم ہوجائے گا۔ چناچہ میں واپس آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا وہاں پہنچا تو لوگوں نے " عدی بن حاتم، عدی بن حاتم " کہنا شروع کردیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رحمہ اللہ نے مجھ سے فرمایا اے عدی! اسلام قبول کرلو سلامتی پاجاؤگے تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا میں نے عرض کیا کہ میں تو پہلے سے ایک دین پر قائم ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم سے زیادہ تمہارے دین کو جانتا ہوں میں نے عرض کیا کہ آپ مجھ سے زیادہ میرے دین کو جانتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! کیا تم " رکوسیہ " میں سے نہیں ہو جو اپنی قوم کا چوتھائی مال غنیمت کھا جاتے ہیں؟ میں نے کہا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حالانکہ یہ تمہارے دین میں حلال نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے آگے جو بات فرمائی میں اس کے آگے جھک گیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جانتا ہوں کہ تمہیں اسلام قبول کرنے میں کون سی چیز مانع لگ رہی ہے تم یہ سمجھتے ہو کہ اس دین کے پیروکار کمزور اور بےمایہ لوگ ہیں جنہیں عرب نے دھتکار دیا ہے یہ بتاؤ کہ تم شہر حیرہ کو جانتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ دیکھا تو نہیں ہے البتہ سناضرور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اللہ اس دین کو مکمل کرکے رہے گا یہاں تک کہ ایک عورت حیرہ سے نکلے گی اور کسی محافظ کے بغیر بیت اللہ کا طواف کر آئے گی اور عنقریب کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح ہوں گے میں نے تعجب سے پوچھا کسریٰ بن ہرمز کے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! کسریٰ بن ہرمز کے اور عنقریب اتنا مال خرچ کیا جائے گا کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ حضرت عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ واقعی اب ایک عورت حیرہ سے نکلتی ہے اور کسی محافظ کے بغیر بیت اللہ کا طواف کر جاتی ہے اور کسریٰ بن ہرمز کے خزانوں کو فتح کرنے والوں میں تو میں خود بھی شامل تھا اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تیسری بات بھی وقوع پذیر ہو کر رہے گی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیشین گوئی فرمائی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18260]

حکم دارالسلام: بعضه صحيح ، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18261
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُسَيَّرِ الطَّائِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحِلٌّ الطَّائِيُّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: " مَنْ أَمَّنَا، فَلْيُتِمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَإِنَّ فِينَا الضَّعِيفَ، وَالْكَبِيرَ، وَالْمَرِيضَ، وَالْعَابِرَ سَبِيلٍ، وَذَا الْحَاجَةِ". هَكَذَا كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص ہماری امامت کرے وہ رکوع سجدے مکمل کرم کیونکہ ہم میں کمزور بوڑھے بیمار، راہ گیر اور ضرورت مند سب ہی ہوتے ہیں اور ہم اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں نماز پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18261]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18262
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُرَيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَيَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا. قَالَ:" إِنَّ أَبَاكَ أَرَادَ أَمْرًا فَأَدْرَكَهُ" . يَعْنِي: الذِّكْرَ. قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَسْأَلُكَ عَنْ طَعَامٍ لَا أَدَعُهُ إِلَّا تَحَرُّجًا، قَالَ: " لَا تَدَعْ شَيْئًا ضَارَعْتَ فِيهِ نَصْرَانِيَّةً" . قُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي، فَيَأْخُذُ الصَّيْدَ، وَلَيْسَ مَعِي مَا أُذَكِّيهِ بِهِ، فَأَذْبَحَهُ بِالْمَرْوَةِ وَالْعَصَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَّ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ، وَاذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت عدی سے مروی ہے کہ ایک میں نے بارگارہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد صاحب صلہ رحمی اور فلاں فلاں کام کرتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے باپ کا ایک مقصد (شہرت ') تھا جو اس نے پالیا میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے اس کھانے کے متعلق پوچھتا ہوں جسے میں صرف مجبوری کے وقت چھوڑوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی ایسی چیز مت چھوڑو جس میں تم عیسائیت کے مشابہہ معلوم ہو میں نے عرض کیا کہ اگر میں اپنا کتا شکار پر چھوڑوں، وہ شکار کو پکڑ لے لیکن میرے پاس اسے ذبح کرنے کے کوئی چیز نہ ہو تو کیا میں اسے تیز دھار پتھر اور لاٹھی کی دھار سے ذبح کرسکتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس چیز سے چاہو خون بہادو اور اس پر اللہ کا نام لے لو۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18262]

حکم دارالسلام: قوله: "ان اباك اراد امراً فأدركه" حسن، وقوله: "أمر الدم بما شئت...." صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مري بن قطري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18263
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ مُرَيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ الطَّائِيَّ ، وَقَالَ:" إِنَّ أَبَاكَ أَرَادَ أَمْرًا فَأَدْرَكَهُ" قَالَ سِمَاكٌ: يَعْنِي الذِّكْرَ.

حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مري بن قطري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں