مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
782. وَمِنْ حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 19192
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ قَوْمٍ يَعْمَلُونَ بِالْمَعَاصِي وَفِيهِمْ رَجُلٌ أَعَزُّ مِنْهُمْ وَأَمْنَعُ لَا يُغَيِّرُونَ إِلَّا عَمَّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعِقَابٍ" . أَوْ قَالَ:" أَصَابَهُمْ الْعِقَابُ".
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو قوم بھی کوئی گناہ کرتی ہے اور ان میں کوئی باعزت اور باوجاہت آدمی ہوتا ہے اگر وہ انہیں روکتا نہیں ہے تو اللہ کا عذاب ان سب پر آجاتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19192]
حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، ثم إنه خولف
حدیث نمبر: 19193
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرًا ، يَقُولُ حِينَ مَاتَ الْمُغِيرَةُ وَاسْتَعْمَلَ قَرَابَتَهُ يَخْطُبُ، فَقَامَ جَرِيرٌ، فَقَالَ: أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنْ تَسْمَعُوا وَتُطِيعُوا حَتَّى يَأْتِيَكُمْ أَمِيرٌ، اسْتَغْفِرُوا لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ غَفَرَ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ، فَإِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ الْعَافِيَةَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُبَايِعُهُ بِيَدِي هَذِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ" والنُّصْحَ" فَوَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ إِنِّي لَكُمْ لَنَاصِحٌ .
زیاد بن علاقہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس دن حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم اللہ سے ڈرتے رہو اور جب تک تمہارا دوسرا امیر نہیں آجاتا اس وقت تک وقار اور سکون کو لازم پکڑو کیونکہ تمہارا امیرآتاہی ہوگا پھر فرمایا اپنے امیر کے سامنے سفارش کردیا کرو کیونکہ وہ درگذر کرنے کو پسند کرتا ہے اور امابعد " کہہ کر فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے ہر مسلمان کی خیرخواہی کی شرط رکھی میں نے اس شرط پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرلی اس مسجد کے رب کی قسم! میں تم سب کا خیرخواہ ہوں۔ " [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19193]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 58، م: 56
حدیث نمبر: 19194
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ ، قَالَ: كَانَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي بَعْثٍ بِأَرْمِينِيَّةَ، قَالَ: فَأَصَابَتْهُمْ مَخْمَصَةٌ أَوْ مَجَاعَةٌ، قَالَ: فَكَتَبَ جَرِيرٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ لَمْ يَرْحَمْ النَّاسَ لَا يَرْحَمْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَقْفَلَهُمْ وَمَتَّعَهُمْ . قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَكَانَ أَبِي فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ، فَجَاءَ بِقَطِيفَةٍ مِمَّا مَتَّعَهُ مُعَاوِيَةُ.
حضرت جریر رضی اللہ عنہ آرمینیہ کے لشکر میں شامل تھے اہل لشکر کو قحط سالی نے ستایا تو حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط میں لکھا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بلابھیجاوہ آئے تو پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں! حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر انہیں جنگ میں شریک کیجئے اور انہیں فائدہ پہنچائیے۔ ابواسحاق کہتے ہیں کہ اس لشکر میں میرے والد بھی تھے اور وہ ایک چادرلے کر آئے تھے جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دی تھی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19194]
حکم دارالسلام: مرفوعه صحيح، خ: 6013، م: 2319، وهذا إسناد اختلف فيه على أبي إسحاق السبيعي، فرواه عنه شعبة، واختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 19195
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا سَيَّارٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، قَالَ: فَلَقَّنِّني، فَقَالَ: " فِيمَا اسْتَطَعْتَ" وَالنُّصْحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات سننے اور ماننے کی شرط پر بیعت کی تھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس جملے کی تلقین کی " حسب استطاعت " نیزہر مسلمان کی خیرخواہی کی شرط بھی لگائی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19195]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7204، م: 56
حدیث نمبر: 19196
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عُمَرٍو ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتِلُ عُرْفَ فَرَسٍ بِأُصْبُعَيْهِ، وَهُوَ يَقُولُ: " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی انگلیوں سے گھوڑے کی ایال بٹتے ہوئے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ گھوڑوں کی پیشانی میں خیر، اجر اور غنیمت قیامت تک کے لئے باندھ دی گئی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19196]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1872
حدیث نمبر: 19197
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفَجْأَةِ، فَأَمَرَنِي، فَقَالَ: " اصْرِفْ بَصَرَكَ" .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نامحرم پر اچانک نظرپڑجانے کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نگاہیں پھیرلیا کروں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19197]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2159
حدیث نمبر: 19198
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِيَصْدُرْ الْمُصَدِّقُ مِنْ عِنْدِكُمْ وَهُوَ رَاضٍ" .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زکوٰۃ لینے والاجب تمہارے یہاں سے نکلے تو اسے تم سے خوش ہو کر نکلنا چاہئے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19198]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 989
حدیث نمبر: 19199
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرًا ، يَقُولُ: " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ" . قَالَ مِسْعَرٌ ، عَنْ زِيَادٍ : فَإِنِّي لَكُمْ لَنَاصِحٌ.
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنے کی شرط پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19199]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 58، م: 56
حدیث نمبر: 19200
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، أَنَّ قَوْمًا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَعْرَابِ مُجْتَابِي النِّمَارِ، فَحَثَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَبْطَئُوا حَتَّى رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِقِطْعَةِ تِبْرٍ فَطَرَحَهَا، فَتَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: " مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً، فَعُمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ، كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً عُمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلَا يُنْقِصُ ذَلِكَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا" .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ آئے جو برہنہ پا، برہنہ جسم، چیتے کی کھالیں لپیٹے ہوئے اور تلواریں لٹکائے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دی لوگوں نے اس میں تاخیر کی جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کا رنگ اڑگیا، پھر ایک انصاری آدمی چاندی کا ایک ٹکڑا لے کر آیا اور ڈال دیا اس کے بعد لوگ مسلسل آنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگا اور یوں محسوس ہوا جیسے وہ سونے کا ہو اور فرمایا جو شخص اسلام میں کوئی عمدہ طریقہ رائج کرتا ہے اسے اس کا اجر بھی ملتا ہے اور بعد میں اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاتی اور جو شخص اسلام میں کوئی براطریقہ رائج کرتا ہے اس میں اس کا بھی گناہ ملتا ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19200]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1017، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 19201
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَتَوَضَّأُ مِنْ مِطْهَرَةٍ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقَالُوا: أَتَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مَرَّةً: يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ" . فَكَانَ هَذَا الْحَدِيثُ يُعْجِبُ أَصْحَابَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُونَ: إِنَّمَا كَانَ إِسْلَامُهُ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ.
ہمام کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے پیشاب کرکے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا کسی نے ان سے کہا کہ آپ موزوں پر مسح کیسے کررہے ہیں جبکہ ابھی تو آپ نے پیشاب کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دیکھا ہے کہ انہوں نے پیشاب کرکے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔ ابراہیم کہتے ہیں کہ محدثیین اس حدیث کو بہت اہمیت دیتے کیونکہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے سورت امائدہ (میں آیت وضو) ' کے نزول کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19201]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 387، م: 272