مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
782. وَمِنْ حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 19182
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ جَرِيرٍ :" أَنَّهُ حِينَ بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخَذَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَيُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَيَنْصَحَ الْمُسْلِمَ، وَيُفَارِقَ الْمُشْرِكَ" .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبول اسلام کے وقت انہوں نے اس شرط پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت لی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ فرض نماز پڑھو، فرض زکوٰۃ ادا کرو ہر مسلمان کی خیرخواہی کرو اور کافر سے بیزاری ظاہر کرو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19182]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 58، م: 56، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى وائل
حدیث نمبر: 19183
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصُرَّةٍ مِنْ ذَهَبٍ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ أَصَابِعِهِ، فَقَالَ: هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَأَعْطَى، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَأَعْطَى، ثُمَّ قَامَ الْمُهَاجِرُونَ فَأَعْطَوْا، قَالَ: فَأَشْرَقَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْتُ الْإِشْرَاقَ فِي وَجْنَتَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ سَنَّ سُنَّةً صَالِحَةً فِي الْإِسْلَامِ فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ لَهُ مِثْلُ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ أَوْزَارِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ" .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انصاری آدمی سونے کی ایک تھیلی لے کر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا جو اس کی انگلیوں کو بھرے ہوئے تھی اور کہنے لگا کہ یہ اللہ کے راستہ میں ہے پھر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کچھ پیش کیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اور مہاجرین نے پیش کیا میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمکنے لگا اور یوں محسوس ہوا جیسے وہ سونے کا ہو اور فرمایا جو شخص اسلام میں کوئی عمدہ طریقہ رائج کرتا ہے اسے اس کا اجر بھی ملتا ہے اور بعد میں اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاتی اور جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ رائج کرتا ہے اس میں اس کا بھی گناہ ملتا ہے اور اس پر عمل کرنے وانوں کا بھی اور ان کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19183]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1017 على سقط فى إسناده
حدیث نمبر: 19184
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا وَهُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بن ْمُنْذِرِ ، عَنْ مُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يُؤْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ" .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ گمشدہ چیز کو اپنے گھر وہی لاتا ہے جو خود بھٹکا ہوا ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19184]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الضحاك بن المنذر مجهول، وأبو حيان قد اضطرب فيه. وقد صح من حديث زيد الجهني، ولفظه: «من آوي ضالة فهو ضال مالم يعرفها»
حدیث نمبر: 19185
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى ذِي الْخَلَصَةِ، فَكَسَرَهَا وَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ، ثُمَّ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ أَحْمَسَ يُقَالُ لَهُ: بُشَيْرٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُهُ" .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں " ذی الخلصہ " نامی ایک بت کی طرف بھیجا انہوں نے اسے توڑ کر آگ میں جلادیا پھر " احمس " کے بشیرنامی ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ خوشخبری دینے کے لئے بھیج دیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19185]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3020، م: 2476
حدیث نمبر: 19186
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ وَهُوَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ، فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ" .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا بھائی نجاشی فوت ہوگیا ہے تم لوگ اس کے لئے بخشش کی دعا کرو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19186]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك بن عبد الله
حدیث نمبر: 19187
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيَصْدُرْ الْمُصَدِّقُ وَهُوَ عَنْكُمْ رَاضٍ" .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زکوٰۃ لینے والاجب تمہارے یہاں سے نکلے تو اسے تم سے خوش ہو کر نکلنا چاہئے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19187]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 989
حدیث نمبر: 19188
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ" وَكَانَ بَيْتًا فِي خَثْعَمَ يُسَمَّى كَعْبَةَ الْيَمَانِيَةِ، فَنَفَرْتُ إِلَيْهِ فِي سَبْعِينَ وَمِئَةِ فَارِسٍ مِنْ أَحْمَسَ، قَالَ: فَأَتَاهَا فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ، وَبَعَثَ جَرِيرٌ بَشِيرًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا كَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ. فَبَرَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں " ذی الخلصہ " نامی ایک بت کی طرف بھیجا انہوں نے اسے توڑ کر آگ میں جلادیا پھر " احمس " کے بشیرنامی ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ خوشخبری دینے کے لئے بھیج دیا اور اس نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں آپ کے پاس اسے اس حال میں چھوڑ کر آیاہوں جیسے ایک خارشی اونٹ ہوتا ہے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احمس اور اس کے شہسواروں کے لئے پانچ مرتبہ برکت کی دعاء فرمائی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19188]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3823، م: 2476
حدیث نمبر: 19189
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: قَالَ لِي جَرِيرٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ لَا يَرْحَمْ النَّاسَ لَا يَرْحَمْهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس پر بھی رحم نہیں کرتا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19189]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6013، م: 2319
حدیث نمبر: 19190
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ: " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ كَمَا تَرَوْنَ الْقَمَرَ لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ" ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ سورة ق آية 39 . قَالَ شُعْبَةُ لَا أَدْرِي قَالَ:" فَإِنْ اسْتَطَعْتُمْ" أَوْ لَمْ يَقُلْ.
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ چاند کی چود ہویں رات کو ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے عنقریب تم اپنے رب کو اس طرح دیکھوگے جیسے چاند کو دیکھتے ہو تمہیں اپنے رب کو دیکھنے میں کوئی مشقت نہیں ہوگی اس لئے اگر تم طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے والی نمازوں سے مغلوب نہ ہونے کی طاقت رکھتے ہو تو ایساہی کرو (ان نمازوں کا خوب اہتمام کرو) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ " اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح کیجئے سورج طلوع ہونے سے پہلے اور سورج غروب ہونے کے بعد۔ " [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19190]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 554، م: 633
حدیث نمبر: 19191
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا يُحَدِّثُ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ" .
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیرخواہی کرنے کی شرط پر بیعت کی تھی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19191]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1401، م: 56