🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

846. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20550

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن زياد أو عبدالرحمن بن عبدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20551
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ قَرِيبًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ خَذَفَ، فَنَهَاهُ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْخَذْفِ، وَقَالَ:" إِنَّهَا لَا تَصِيدُ صَيْدًا، وَلَا تَنْكَأُ عَدُوًّا، وَلَكِنَّهَا تَكْسِرُ السِّنَّ، وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ"، قَالَ: فَعَادَ، فَقَالَ: حَدَّثْتُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا، ثُمَّ عُدْتَ! لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا .
حضرت ابن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو کنکری مارنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ اس سے دشمن زیر نہیں ہوتا اور نہ ہی شکار پکڑا جاسکتا ہے البتہ اس سے دانت ٹوٹ جاتا ہے اور آنکھ پھوٹ جاتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20551]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 4841، م: 1954، وهذا إسناد ضعيف، سعيد بن جبير لم يسمع من عبدالله بن مغفل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20552
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ بْنُ مُحَمدُ ، وَعَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ:" صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ الثَّالِثَةِ:" لِمَنْ شَاءَ"، كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً .
حضرت عبداللہ مزنی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لیا کرو تھوڑی دیر بعد پھر فرمایا کہ مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لیا کرو جب تیسری مرتبہ فرمایا تو یہ بھی فرمایا کہ جو چاہے سو پڑھ لے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کو اچھا نہیں سمجھا کہ لوگ اسے سنت قرار دیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20552]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1183
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20553
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ"، قَالَ:" وَتَقُولُ الْأَعْرَابُ هِيَ الْعِشَاءُ" .
حضرت عبداللہ مزنی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیہاتی لوگ کہیں تمہاری نماز مغرب کے نام پر غالب نہ آجائیں دیہاتی لوگ اسے نماز عشاء کہتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20553]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 563
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20554
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ سَمِعَ ابْنَهُ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ، عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ، إِذَا دَخَلْتُهَا، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، سَلْ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَعُذْ بِهِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ وَالطَّهُورِ" .
حضرت عبداللہ بن مغفل نے ایک مرتبہ اپنے بیٹے کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا کہ اے اللہ میں تجھ سے جنت میں داخل ہونے کے بعد دائیں جانب سفید محل کا سوال کرتا ہوں تو فرمایا کہ اے بیٹے اللہ سے صرف جنت مانگو اور جہنم سے پناہ مانگو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس امت میں کچھ لوگ ایسے بھی آئیں گے جو دعا اور وضو میں حد سے آگے بڑھ جائیں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20554]

حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، أبو نعامة لم يسمع من عبدالله بن مغفل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20555
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: كُنَّا مُحَاصِرِينَ قَصْرَ خَيْبَرَ، فَأَلْقَى إِلَيْنَا رَجُلٌ جِرَابًا فِيهِ شَحْمٌ، فَذَهَبْتُ آخُذُهُ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَحْيَيْتُ .
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ خیبر کے محاصرے کے موقع پر مجھے چمڑے کا ایک برتن ملا جس میں چربی تھی میں نے اسے پکڑ کر بغل میں دبالیا۔ اچانک میری نظر پڑی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکرائے اس پر مجھے شرم آگئی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20555]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3153، م: 1772
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20556
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، قَالَ: سُئِلَ سَعِيدٌ عَنِ الصَّلَاةِ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ؟ فَأَخْبَرَنَا، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا يَعْنِي أَدْرَكْتَ الصَّلَاةَ وَأَنْتَ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، فَلَا تُصَلِّ، وَإِذَا أَدْرَكَتْكَ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، فَصَلِّ إِنْ شِئْتَ" .
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کا وقت آجائے اور تم بکریوں کے ریوڑ میں ہو تو نماز پڑھ لو اور اگر اونٹوں کے باڑے میں ہو تو نماز نہ پڑھو کیونکہ ان کی پیدائش شیطان سے ہوئی ہے (ان کی فطرت میں شیطانیت ہے)۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20556]

حکم دارالسلام: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20557
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كُرَيْزٍ الْخُزَاعِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِي ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تُصَلُّوا فِي عَطَنِ الْإِبِلِ، فَإِنَّهَا مِنَ الْجِنِّ خُلِقَتْ، أَلَا تَرَوْنَ عُيُونَهَا وَهِبَابَهَا إِذَا نَفَرَتْ، وَصَلُّوا فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ، فَإِنَّهَا هِيَ أَقْرَبُ مِنَ الرَّحْمَةِ" .
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اونٹوں کے بارے میں نماز نہ پڑھو کیونکہ ان کی تخلیق بھی جنات کی طرح ہوئی ہے جب وہ بدک جاتا ہے تو تم اس کی آنکھوں اور شعلوں کو نہیں دیکھتے البتہ بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھ لیا کرو کیونکہ وہ رحمت کے زیادہ قریب ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20557]

حکم دارالسلام: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20558
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَبُو إِيَاسٍ أنْْبأََنَا، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ قَرَأَ سُورَةَ الْفَتْحِ"، قَالَ: فَقَرَأَ أَبُو إِيَاسٍ، ثُمَّ رَجَّعَ، وَقَالَ: لَوْلَا أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيَّ لَقَرَأْتُ بِهَذَا اللَّحْنِ .
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے موقع پر قرآن کریم پڑھتے ہوئے سنا تھا اگر لوگ میرے پاس مجمع نہ لگاتے تو میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انداز میں پڑھ کر سناتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فتح کی تلاوت فرمائی تھی معاویہ بن قرہ کہتے ہیں کہ اگر مجھے بھی مجمع لگ جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو تمہیں تمہارے سامنے حضرت عبداللہ بن مغفل کا بیان کردہ طرز نقل کرکے دکھاتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح قرأت فرمائی تھی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20558]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7540، م: 794
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20559
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيِّ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَايَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: سَمِعَنِي أَبِي وَأَنَا أَقْرَأُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: يَا بُنَيَّ، إِيَّاكَ وَالْحَدَثَ فِي الْإِسْلَامِ، فَإِنِّي صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَلْفَ أَبِى بَكْرٍ، وَخَلْفَ عُمَرَ، وَعُثْمَانَ، فَكَانُوا لَا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1"، وَلَمْ أَرَ رَجُلًا قَطُّ أَبْغَضَ إِلَيْهِ الْحَدَثُ مِنْهُ .
عبداللہ بن مغفل کہتے ہیں کہ میرے والد اگر ہمیں بلند آواز سے بسم اللہ پڑھتے ہوئے سنتے تو فرماتے اس سے اجتناب کرو۔ یزید کہتے ہیں کہ میں نے ان سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی کو بدعت سے اتنی نفرت کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تینوں خلفاء کے ساتھ نماز پڑھی ہے میں نے ان میں سے کسی کو بلند آواز سے بسم اللہ پڑھتے ہوئے نہیں سنا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20559]

حکم دارالسلام: إسناده حسن فى الشواهد لأجل ابن عبدالله بن مغفل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں