🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

846. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20560
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مُغَفَّلٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، لِمَنْ شَاءَ" .
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر دواذانوں کے درمیان نماز ہے جو چاہے پڑھ لے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20560]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 624، م: 838
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20561
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنِ ابْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: رَأَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ يَخْذِفُ، فَقَالَ لَا تَخْذِفْ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَكْرَهُ الْخَذْفَ أَوْ قَالَ يَنْهَى عَنْهُ، كَهْمَسٌ يَقُولُ ذَلِكَ فَإِنَّهَا لَا يُنْكَأُ بِهَا عَدُوٌّ، وَلَا يُصَادُ بِهَا صَيْدٌ، وَلَكِنَّهَا تَفْقَأُ الْعَيْنَ، وَتَكْسِرُ السِّنَّ"، ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَخْذِفُ، فَقَالَ: أُخْبِرُكَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنِ الْخَذْفِ أَوْ يَكْرَهُهُ ثُمَّ أَرَاكَ تَخْذِفُ! لَا أُكَلِّمُكَ كَلِمَةً كَذَا وَكَذَا .
حضرت ابن مغفل کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے کسی ساتھی کو دیکھا کہ وہ کنکریاں مار رہا تھا انہوں نے اس سے فرمایا کہ ایسا مت کرو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو کنکری سے مارنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ اس سے دشمن نہ زیر ہوسکتا ہے اور نہ ہی کوئی شکار پکڑا جاسکتا ہے البتہ اس سے دانت ٹوٹ سکتا ہے اور کسی کی آنکھ پھوٹ سکتی ہے کچھ عرصے کے بعد انہوں نے دوبارہ کنکریوں سے مارتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ میں نے تم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی تھی اور پھر بھی تمہیں وہی کام کرتے ہوئے دیکھتاہوں آج کے بعد میں تم سے کوئی بات اس طرح نہیں کروں گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20561]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4841، م: 1954
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20562
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا، وَلَكِنِ اقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ" .
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کتے بھی ایک امت نہ ہوتے تو میں ان کی نسل کو ختم کرنے کا حکم دیتا لہذا جو انتہائی سیاہ کتا ہو اسے قتل کردیا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20562]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20563
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، حَدَّثَنِي أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبُولَ الرَّجُلُ فِي مُسْتَحَمِّهِ، فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ" .
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حمام میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ عام طور پر وسوسے کی بیماری اسی سے لگتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20563]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: فإن عامة الوسواس منه وهو موقوف، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20564
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ ، قَالَ: سَأَلَتُ الْحَسَنَ عَنِ الرَّجُلِ يَتَّخِذُ الْكَلْبَ فِي دَارِهِ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ" .
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو لوگ بھی اپنے یہاں کتے رکھتے ہیں ان کے اجروثواب سے روزانہ ایک قیراط کی کمی ہوتی رہتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20564]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل الحكم بن عطية، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20565
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيَّ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَتِهِ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ"، قَالَ: فَقَرَأَ ابْنُ مُغَفَّلٍ وَرَجَّعَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَوْلَا النَّاسُ لَأَخَذْتُ لَكُمْ بِذَاكَ الَّذِي ذَكَرَهُ ابْنُ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ، أَوْ حَمَلَهُ عَلَى نَاقَتِهِ، قَالَ: فَقَرَأَ سُورَةَ الْفَتْحِ فَرَجَّعَ فِيهَا، قَالَ أَبُو إِيَاسٍ: لَوْلَا أَنِّي أَخْشَى أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيَّ لَرَجَّعْتُ كَمَا رَجَّعَ.
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے موقع پر قرآن کریم پڑھتے ہوئے سنا تھا اگر لوگ میرے پاس مجمع نہ لگاتے تو میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انداز میں پڑھ کر سناتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فتح کی تلاوت فرمائی تھی معاویہ بن قرہ کہتے ہیں کہ اگر مجھے بھی مجمع لگ جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو تمہیں تمہارے سامنے حضرت عبداللہ بن مغفل کا بیان کردہ طرز نقل کرکے دکھاتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح قرأت فرمائی تھی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20565]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7540، م: 794
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20566
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا لَكُمْ وَلِلْكِلَابِ"، ثُمَّ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَالْغَنَمِ، وَقَالَ فِي الْإِنَاءِ: " إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ اغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ، وَعَفِّرُوهُ فِي الثَّامِنَةِ بِالتُّرَابِ" .
حضرت ابن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداءً کتوں کو مارنے کا حکم دیا تھا پھر بعد میں فرمادیا کہ اب اس کی ضرورت نہیں ہے اور شکاری کتے اور بکریوں کے ریوڑ کی حفاظت کے لئے کتے رکھنے کی اجازت دے دی۔ اور فرمایا کہ جب کسی برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے مانجھا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20566]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 280
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20567
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: " دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ فَنَزَوْتُ وَأَخَذْتُهُ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ .
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ خیبر کے موقع پر مجھے چمڑے کا ایک برتن ملا جس میں چربی تھی میں نے اسے پکڑ کر اپنی بغل میں رکھ لیا اچانک میری نظر پڑی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکرا رہے تھے اس پر مجھے شرم آگئی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20567]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3153، م: 1772
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20568
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ، أَوْ كَلْبِ غَنَمٍ، أَوْ كَلْبِ زَرْعٍ، فَإِنَّهُ يُنْتَقَصُ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ" .
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو لوگ بھی اپنے یہاں کتے رکھتے ہیں جو کھیت یا شکار یا ریوڑ کی حفاظت کے لئے نہ ہو ان کی اجروثواب سے روزانہ ایک قیراط کی کمی ہوتی رہتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20568]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20569
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ فِيهِ، فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ" ..
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حمام میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ عام طور پر وسوسے کی بیماری لگتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20569]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: فإن عامة الوسواس منه فهو موقوف، وهذا الإسناد منقطع، الحسن مدلس، وقد عنعن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں