🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

932. حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21109
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقُرْقُسَانِيُّ ، قَالَ الْوَلِيدُ: حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، أَنَّ الزُّهْرِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ تَمَارَى هُوَ وَالْحُرُّ بْنُ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى الَّذِي سَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هُوَ خَضِرٌ، إِذْ مَرَّ بِهِمَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، فَنَادَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنِّي تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي هَذَا فِي صَاحِبِ مُوسَى الَّذِي سَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، فَهَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ شَأْنَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بَيْنَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فِي مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، إِذْ قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْكَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ عَبْدُنَا خَضِرٌ، فَسَأَلَ مُوسَى السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، وَجَعَلَ اللَّهُ لَهُ الْحُوتَ آيَةً، فَقِيلَ لَهُ: إِذَا فَقَدْتَ الْحُوتَ، فَارْجِعْ، فَإِنَّكَ سَتَلْقَاهُ"..
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کا اور حر بن قیس فزاری کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس رفیق کے متعلق اختلاف رائے ہوگیا جس کی طرف سفر کر کے جانے کی بارگاہ الہٰی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے درخواست کی تھی، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رائے یہ تھی کہ وہ حضرت خضر علیہ السلام تھے اسی دوران وہاں سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا گذر ہوا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں پکار کر کہا کہ میرا اور میرے اس ساتھی کا اس بات میں اختلاف ہوگیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وہ ساتھی کون تھا جس کی طرف سفر کر کے ملنے کی درخواست انہوں نے کی تھی؟ کیا آپ نے اس حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے کسی اجتماع سے خطاب فرما رہے تھے کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر ان سے پوچھا کہ آپ کے علم میں اپنے سے بڑا عالم بھی ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا نہیں اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی آئی کہ ہمارا ایک بندہ خضر تم سے بڑا عالم ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے ملنے کا طریقہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے ایک مچھلی کو ان کی لئے نشانی قرار دیتے ہوئے فرمایا جب تم مچھلی کو نہ پاؤ تو واپس آجانا کیونکہ وہیں پر تمہاری ان سے ملاقات ہوجائے گی، حضرت موسیٰ علیہ السلام سفر پر روانہ ہوئے تو ایک منزل پر پڑاؤ کیا اور اپنے خادم سے کہنے لگے ہمارا ناشتہ لاؤ اس سفر میں تو ہمیں بڑی مشقت کا سامنا کرنا پڑا ہے وہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مچھلی کو غائب پایا تو دونوں اپنے نشانات قدم پر چلتے ہوئے واپس لوٹے اور پھر وہ قصہ پیش آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21109]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 78، م: 2380
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21109
قَالَ ابْنُ مُصْعَبٍ فِي حَدِيثِهِ:" فَنَزَلَ مَنْزِلًا، فَقَالَ مُوسَى: لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا، لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا، فَعِنْدَ ذَلِكَ فَقَدَ الْحُوتَ، فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا، فَجَعَلَ مُوسَى يَتْبَعُ أَثَرَ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ، قَالَ: فَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا مَا قَصَّ اللَّهُ فِي كِتَابهِ" .

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21110
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي حَبِيبِ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ، قَالَ مِسْعَرٌ يَعْنِي السَّنَةَ، قَالَ: فَسَأَلَهُ عُمَرُ مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَمَا زَالَ يَنْسُبُهُ حَتَّى عَرَفَهُ، فَإِذَا هُوَ مُوسَر، فَقَالَ عُمَرُ: " لَوْ أَنَّ لِامْرِئٍ وَادِيًا أَوْ وَادِيَيْنِ، لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا ثَالِثًا"، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ"، فَقَالَ عُمَرُ لِابْنِ عَبَّاسٍ مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا؟ قَالَ مِنْ أُبَيٍّ . قَالَ: فَإِذَا كَانَ بِالْغَدَاةِ، فَاغْدُ عَلَيَّ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى أُمِّ الْفَضْلِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: وَمَا لَكَ وَلِلْكَلَامِ عِنْدَ عُمَرَ! وَخَشِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنْ يَكُونَ أُبَيٌّ نَسِيَ، فَقَالَتْ أُمُّهُ إِنَّ أُبَيًّا عَسَى أَنْ لَا يَكُونَ نَسِيَ، فَغَدَا إِلَى عُمَرَ وَمَعَهُ الدِّرَّةُ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى أُبَيٍّ، فَخَرَجَ أُبَيٌّ عَلَيْهِمَا وَقَدْ تَوَضَّأَ، فَقَالَ: إِنَّهُ أَصَابَنِي مَذْيٌ، فَغَسَلْتُ ذَكَرِي أَوْ فَرْجِي، مِسْعَرٌ شَكَّ، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَيُجْزِئُ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَصَدَّقَهُ .
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ہمیں قحط سالی نے کھالیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کس قبیلے سے ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلسل اس کے نسب نامے کو کریدتے رہے یہاں تک کہ اسے شناخت کرلیا اور پتہ یہ چلا کہ وہ تو مالی طور پر وسعت رکھتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر کسی شخص کے پاس (مال و دولت کی ایک دو وادیاں بھی ہوں تب بھی وہ تیسری کی تلاش میں ہوگا اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ اضافہ کردیا کہ ابن آدم کا پیٹ تو صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے پھر اللہ اس پر متوجہ ہوجاتا ہے جو توبہ کرتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ تم نے یہ کس سے سنا؟ انہوں نے بتایا حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کل میرے پاس آنا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما جب اپنی والدہ حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو ان سے اس واقعے کا تذکرہ کیا انہوں نے فرمایا کہ تمہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے بولنے کی کیا ضرورت تھی؟ اب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ اندیشہ پیدا ہوگیا کہ کہیں حضرت ابی رضی اللہ عنہ اسے بھول ہی نہ گئے ہوں لیکن ان کی والدہ نے انہیں تسلی دی کہ امید ہے کہ وہ اس بات کو نہیں بھولے ہوں گے۔ چنانچہ اگلے دن جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو ان کے پاس کوڑا پڑا ہوا تھا ہم دونوں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف چل پڑے حضرت ابی رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے تو انہوں نے تازہ وضو کیا ہوا تھا وہ کہنے لگے کہ مجھے " مذی " لاحق ہوگئی تھی اس لئے میں نے فقط شرمگاہ کو دھولیا (اور وضو کرلیا) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا یہ جائز ہے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا آپ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کی بھی تصدیق کی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21110]

حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل مصعب بن شيبة ، وأبو حبيب بن يعلي مجهول، لكنهما قد توبعا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21111
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ يَسْأَلُهُ، فَجَعَلَ عُمَرُ يَنْظُرُ إِلَى رَأْسِهِ مَرَّةً، وَإِلَى رِجْلَيْهِ أُخْرَى، هَلْ يَرَى عَلَيْهِ مِنَ الْبُؤْسِ شَيْئًا؟ ثُمَّ قَالَ لَهُ عُمَرُ: كَمْ مَالُكَ؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ مِنَ الْإِبِلِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبً لَابْتَغَى الثَّالِثَ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ"، فَقَالَ عُمَرُ مَا هَذَا؟ فَقُلْتُ: هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا أُبَيٌّ، قَالَ: فَمَرَّ بِنَا إِلَيْهِ، قَالَ: فَجَاءَ إِلَى أُبَيٍّ، فَقَالَ: مَا يَقُولُ هَذَا؟ قَالَ أُبَيٌّ: هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَفَأُثْبِتُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَثْبَتَهَا .
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ہمیں قحط سالی نے کھالیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کس قبیلے سے ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلسل اس کے نسب نامے کو کریدتے رہے یہاں تک کہ اسے شناخت کرلیا اور پتہ یہ چلا کہ وہ تو مالی طور پر وسعت رکھتا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر کسی شخص کے پاس (مال و دولت کی ایک دو وادیاں بھی ہوں تب بھی وہ تیسری کی تلاش میں ہوگا اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ اضافہ کردیا کہ ابن آدم کا پیٹ تو صرف مٹی ہی بھرسکتی ہے پھر اللہ اس پر متوجہ ہوجاتا ہے جو توبہ کرتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ تم نے یہ کس سے سنا؟ انہوں نے بتایا حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کل میرے پاس آنا چنانچہ اگلے دن وہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف چل پڑے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا یہ ابن عباس کیا کہتا ہے؟ انہوں نے فرمایا مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح پڑھایا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا میں اسے لکھ لوں؟ انہوں نے فرمایا ہاں چنانچہ انہوں نے اسے لکھ لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21111]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21112
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ أُبَيًّا ، قَالَ لِعُمَرَ" يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي تَلَقَّيْتُ الْقُرْآنَ مِمَّنْ تَلَقَّاهُ"، وَقَالَ عَفَّانُ مِمَّنْ يَتَلَقَّاهُ، مِنْ جِبْرِيلَ وَهُوَ رَطْبٌ .
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا امیرالمؤمنین! میں نے قرآن کریم اس ذات سے تازہ بتازہ حاصل کیا ہے جس نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے اسے حاصل کیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21112]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21113
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ الْمَكِّيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبِيٍّ ، قَالَ: آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ سورة التوبة آية 128 .
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ قرآن کریم کی سب سے آخری آیت جو نازل ہوئی وہ یہ تھی " لقدجاء کم رسول میں انفسکم۔۔۔۔۔۔۔۔ " [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21113]

حکم دارالسلام: أثر حسن، وهذا إسناد ضعيف، على بن زيد ضعيف، ونسبة يوسف: المكي خطأ، وإنما هو البصري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21114
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ ، إِنَّ نَوْفًا الشَّامِيَّ يَزْعُمُ، أَو يَقُولُ: لَيْسَ مُوسَى صَاحِبَ خَضِرٍ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَالَ: كَذَبَ نَوْفٌ عَدُوُّ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ مُوسَى قَامَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ خَطِيبًا، فَقَالُوا لَهُ: مَنْ أَعْلَمُ النَّاسِ؟ قَالَ: أَنَا، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنَّ لِي عَبْدًا أَعْلَمَ مِنْكَ، قَالَ: رَبِّ فَأَرِنِيهِ، قَالَ: قِيلَ: تَأْخُذُ حُوتًا، فَتَجْعَلُهُ فِي مِكْتَلٍ، فَحَيْثُمَا فَقَدْتَهُ، فَهُوَ ثَمَّ، قَالَ: فَأَخَذَ حُوتًا، فَجَعَلَهُ فِي مِكْتَلٍ، وَجَعَلَ هُوَ وَصَاحِبُهُ يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ، حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ، فَرَقَدَ مُوسَى، وَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ، فَوَقَعَ فِي الْبَحْرِ، فَحَبَسَ اللَّهُ عَلَيْهِ جِرْيَةَ الْمَاءِ فَاضْطَرَبَ الْمَاءُ، فَاسْتَيْقَظَ مُوسَى، فَقَالَ: لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا، لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا، وَلَمْ يُصِبْ النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ الَّذِي أَمَرَهُ اللَّهُ بِهِ، قَالَ: فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ، فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ، وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ، فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا، فَجَعَلَا يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا، وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا، قَالَ: أَمْسَكَ عَنْهُ جِرْيَةَ الْمَاءِ، فَصَارَ عَلَيْهِ مِثْلُ الطَّاقِ، فَكَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا، وَكَانَ لِمُوسَى عَجَبًا، حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ مُسَجًّى، عَلَيْهِ ثَوْبٌ، فَسَلَّمَ مُوسَى عَلَيْهِ، فَقَالَ: وَأَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلَامُ؟ قَالَ: أَنَا مُوسَى، قَالَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا، قَالَ: يَا مُوسَى، إِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنَ اللَّهِ لَا تَعْلَمُهُ، وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ مِنَ اللَّهِ عَلَّمَكَهُ اللَّهُ، فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ، فَمَرَّتْ سَفِينَةٌ، فَعَرَفُوا الْخَضِرَ، فَحُمِلَ بِغَيْرِ نَوْلٍ، فَلَمْ يُعْجِبْهُ، وَنَظَرَ فِي السَّفِينَةِ، فَأَخَذَ الْقَدُومَ يُرِيدُ أَنْ يَكْسِرَ مِنْهَا لَوْحًا، فَقَالَ: حُمِلْنَا بِغَيْرِ نَوْلٍ وَتُرِيدُ أَنْ تَخْرُقَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا؟ قَالَ: أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا؟! قَالَ: إِنِّي نَسِيتُ، وَجَاءَ عُصْفُورٌ فَنَقَرَ فِي الْبَحْرِ، قَالَ: الْخَضِرُ مَا يُنْقِصُ عِلْمِي وَلَا عِلْمُكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ إِلَّا كَمَا يُنْقِصُ هَذَا الْعُصْفُورُ مِنْ هَذَا الْبَحْرِ، فَانْطَلَقَا حَتَّى إذا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ، اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا، فَرَأَى غُلَامًا فَأَخَذَ رَأْسَهُ، فَانْتَزَعَهُ، فَقَالَ: أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ؟! لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا، قَالَ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ، إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا؟! قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ عَمْرٌو: وَهَذِهِ أَشَدُّ مِنَ الْأُولَى، قَالَ: فَانْطَلَقَا، فَإِذَا جِدَارٌ يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ، فَأَقَامَهُ، وَأَرَانَا سُفْيَانُ بِيَدَيْهِ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ هَكَذَا رَفْعًا، فَوَضَعَ رَاحَتَيْهِ، فَرَفَعَهُمَا بِبَطْنِ كَفَّيْهِ رَفْعًا، فَقَالَ: لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا، قَالَ: هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَانَتْ الْأُولَى نِسْيَانًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى، لَوْ كَانَ صَبَرَ حَتَّى يَقُصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِ" ..
حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نوف بکالی کا خیال ہے کہ (حضرت خضر علیہ السلام والے) موسیٰ بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں ہیں بلکہ وہ کوئی اور موسیٰ ہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما بولے دشمن اللہ جھوٹ بولتا ہے مجھ سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے سامنے کھڑے تقریر فرما رہے تھے تقریر ختم ہونے کے بعد ایک شخص نے دریافت کیا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں سب سے بڑا عالم ہوں خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ تم سے زیادہ عالم ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا الہٰی اس سے ملاقات کس طرح ہوسکتی ہے؟ حکم دیا گیا کہ اپنے ساتھ زنبیل میں ایک (بھنی ہوئی) مچھلی رکھ لو (اور سفر کو چل دو) جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے وہ شخص وہیں ملے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک مچھلی لے کر زنبیل میں ڈالی اور چل دیئے اور اپنے ساتھ ایک خادم یوشع بن نون کو بھی لیتے گئے چلتے چلتے جب ایک پتھر کے پاس پہنچے تو دونوں (رک گئے اور) حضرت موسیٰ علیہ السلام اس پتھر پر سر رکھ کر سو گئے اتنے میں مچھلی زنبیل سے پھڑک کر نکلی اور دریا میں سرنگ بناتی ہوئی اپنی راہ چلی گئی حضرت موسیٰ علیہ السلام بیدار ہوئے تو موسیٰ نے اپنے خادم سے فرمایا ہم تو اس سفر سے بہت تھک گئے اب کھانا لے آؤ اور موسیٰ کو اس وقت تک کوئی تھکاوٹ نہ ہوئی تھی جب تک کہ مقام مقررہ سے آگے نہ بڑھے تھے بلکہ اس وقت تھکان معلوم ہونے لگی جب مقام مقررہ سے آگے بڑھ گئے خادم کہنے لگا کیا بتاؤں جب ہم اس پتھر کے پاس پہنچے تو میں مچھلی وہاں بھول گیا (اور آپ سے میں نے اس کا تذکرہ نہ کیا) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اسی جگہ کی تو ہم کو تلاش تھی چنانچہ الٹے پاؤں قدم پر قدم ڈالتے واپس لوٹے۔ پتھر تک پہنچے ہی تھے کہ ایک آدمی کپڑے سے سر لپیٹے ہوئے نظر آیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سلام کیا خضر بولے تمہارے ملک میں سلام کا رواج کہاں ہے (یہ تم نے سلام کیسے کیا؟) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا میں موسیٰ ہوں خضر بولے کیا بنی اسرائیل والے موسیٰ میں نے کہا جی ہاں اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کیا میں آپ کے ہمراہ اس شرط پر چل سکتا ہوں کہ خداوند تعالیٰ نے جو علم آپ کو عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ حصہ کی مجھے بھی تعلیم دیجئے حضرت خضر علیہ السلام بولے آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کرسکیں گے (درمیان میں بول اٹھیں گے) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص کا مجھے وہ حصہ عطا فرمایا ہے جو آپ کو نہیں دیا اور آپ کو وہ علم دیا جس سے میں ناواقف ہوں (حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا ان شاء اللہ آپ مجھے ثابت قدم پائیں گے میں آپ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا) آخرکار دونوں دریا کے کنارے کنارے چل دیئے کہ کشتی موجود نہ تھی اتنے میں ادھر سے ایک کشتی کا گزر ہوا انہوں نے کشتی والوں سے سوار ہونے کے متعلق کچھ بات چیت کی حضرت خضر علیہ السلام کو لوگوں نے پہچان لیا اس لئے کشتی والوں نے دونوں کو بغیر کرایہ کے سوار کرلیا اس کے بعدخضر علیہ السلام نے کشتی کو اچھی طرح دیکھ کر بسولا نکال کر کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا تم نے یہ کیا کیا؟ ان لوگوں نے تو بغیر کرایہ کے ہم کو سوار کرلیا اور تم نے ان کی کشتی توڑ کر سب کو ڈبونا چاہا تم نے یہ عجیب بات کی؟ خضر علیہ السلام بولے میں نے تم سے نہیں کہہ دیا تھا کہ میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کرسکو گے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا بھول چوک پر میری گرفت نہ کیجئے اور مجھ پر میرے کام میں دشواری نہ ڈالیے اسی دوران ایک چڑیا نے آکر سمندر میں اپنی چونچ ڈالی حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا میرا اور تمہارا علم اللہ کے علم میں اتنی بھی کمی نہیں کرسکتا جتنی کمی اس چڑیا نے اس سمندر کے پانی میں کی ہے۔ پھر یہ دونوں حضرات کشتی سے نکل کر چل دیئے راستہ میں ایک لڑکا بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا خضر علیہ السلام نے اس کا سرپکڑ کر اپنے ہاتھ سے گردن اکھاڑ دی حضرت موسیٰ علیہ السلام بولے تم نے جو ایک معصوم جان کو بلا قصور مار ڈالا یہ تم نے بہت برا کام کیا خضر علیہ السلام بولے کیا میں نے نہیں کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر ضبط نہ کرسکو گے موسیٰ نے کہا اچھا اب اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ دریافت کروں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھنا آپ نے میرا عذر بہت مان لیا آخر کار پھر دونوں چل دیئے چلتے چلتے ایک گاؤں میں پہنچے گاؤں والوں سے کھانا مانگا انہوں نے مہمانی کرنے سے انکار کردیا ان کو وہاں ایک دیوار نظر آئی جو گرنے کے قریب تھی، حضرت خضر علیہ السلام نے ہاتھ کا اشارہ کر کے اس کو سیدھا کردیا حضرت [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21114]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 122، م: 2380
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21115
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا"..

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2380
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21116
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله، حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَإِذَا الجِدَارُ يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ"، قَالَ بِيَدِيْهِ فَرَفَعَهُمَا رَفْعًا..

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21117
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ إِمْلَاءً عَلَيَّ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ عَبْدُ الله، قَالَ أَبِي: كَتَبْتُهُ عَنْ بَهْزٍ وَابْنِ عُيَيْنَةَ، حتى أن نوفا يزعم أن موسى ليس بصاحب الخضر، قَالَ: فَقَالَ: كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَامَ مُوسَى خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَسُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ؟ قَالَ: أَنَا، فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ، قَالَ: بَلْ عَبْدٌ لِي عِنْدَ مَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ، قَالَ: أَيْ رَبِّ فَكَيْفَ لِي بِهِ؟ قَالَ: خُذْ حُوتًا، فَاجْعَلْهُ فِي مِكْتَلٍ، ثُمَّ انْطَلِقْ، فَحَيْثُمَا فَقَدْتَهُ، فَهُوَ ثَمَّ، فَانْطَلَقَ مُوسَى وَمَعَهُ فَتَاهُ يَمْشِيَانِ، حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ، فَرَقَدَ مُوسَى، وَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ، فَخَرَجَ، فَوَقَعَ فِي الْبَحْرِ، فَأَمْسَكَ اللَّهُ عَنْهُ جِرْيَةَ الْمَاءِ مِثْلَ الطَّاقِ، وَكَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا، وَقَالَ سُفْيَانُ: فَعَقَدَ الْإِبْهَامَ وَالسَّبَّابَةَ، وَفَرَّجَ بَيْنَهُمَا، قَالَ: فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ، قَالَ مُوسَى: لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا، لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا، قَالَ: وَلَمْ يَجِدْ النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ حَيْثُ أُمِرَ، قَالَ: ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي، فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا، يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا، قَالَ: وَكَانَ لِمُوسَى أَثَرُ الْحُوتِ عَجَبًا، وَلِلْحُوتِ سَرَبًا"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 74، م: 2380
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں