مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
953. بَاقِي حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 21692
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ , حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ , عَنْ عُمَرَ الدِّمَشْقِيِّ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ: حَدَّثَنِي أَبُو الدَّرْدَاءِ " أَنَّه سَجَدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً , مِنْهُنَّ النَّجْمُ" .
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم میں گیارہ سجدے کئے ہیں جن میں سورت نجم کی آیت سجدہ بھی شامل ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21692]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عمر الدمشقي، وهو منقطع بينه وبين أم الدرداء
حدیث نمبر: 21693
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , أخبرنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا الْخُزَاعِيِّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ , فأَحَسِّنُوا أَسْمَاءَكُمْ" .
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن تم لوگ اپنے اور اپنے باپ کے نام سے پکارے جاؤ گے لہٰذا اچھے نام رکھا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21693]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، فإن عبدالله بن أبى زكريا لم يسمع من أبى الدرداء
حدیث نمبر: 21694
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْغَسَّانِيُّ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيِّ , عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حُبُّكَ الشَّيْءَ يُعْمِي وَيُصِمُّ" , قَالَ: وحَدَّثَنَاه أَبُو الْيَمَانِ , لَمْ يَرْفَعْهُ , وَرَفَعَهُ الْقُرْقُسَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ .
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی چیز کی محبت تمہیں اندھا بہرا کردیتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21694]
حکم دارالسلام: صحيح موقوفا، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى بكر بن أبى مريم
حدیث نمبر: 21695
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ ضَمْرَةَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ رِفْقُهُ فِي مَعِيشَتِهِ" .
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان کی سمجھداری کی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے معاشی معاملات میں میانہ روی سے چلے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21695]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى بكر بن أبى مريم
حدیث نمبر: 21696
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ , حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , وَإِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ , وَمَا مِنَّا صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ" .
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر میں تھے اور گرمی کی شدت سے اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھتے جاتے تھے اور اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہم میں سے کسی کا روزہ نہ تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21696]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1945، م: 1122
حدیث نمبر: 21697
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ ثَابِتٍ , أَوْ عَنْ أَبِي ثَابِتٍ , أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ مَسْجِدَ دِمَشْقَ , فَقَالَ: اللَّهُمَّ آنِسْ وَحْشَتِي , وَارْحَمْ غُرْبَتِي , وَارْزُقْنِي جَلِيسًا صَالِحًا , فَسَمِعَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ , فَقَالَ: لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا لَأَنَا أَسْعَدُ بِمَا قُلْتَ مِنْكَ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِه سورة فاطر آية 32 يَعْنِي الظَّالِمَ يُؤْخَذُ مِنْهُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ , فَذَلِكَ الْهَمُّ وَالْحَزَنُ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِد سورة فاطر آية 32 قَالَ: يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ سورة فاطر آية 32 قَال: الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ" .
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی مسجد دمشق میں داخل ہوا اور یہ دعا کی کہ اے اللہ! مجھے تنہائی میں کوئی مونس عطاء فرما میری اجنبیت پر ترس کھا اور مجھے اچھا رفیق عطاء فرما، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اس کی یہ دعاء سن لی اور فرمایا کہ تم یہ دعاء صدق دل سے کر رہے ہو تو اس دعاء کا میں تم سے زیادہ سعادت یافتہ ہوں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم کی اس آیت " فمن ہم ظالم لنفسہ " کی تفسیر میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ظالم سے اس کے اعمال کا حساب کتاب اسی کے مقام پر لیا جائے گا اور یہی غم اندوہ ہوگا منہم مقتصد یعنی کچھ لوگ درمیانے درجے کے ہوں گے، ان کا آسان حساب لیا جائے گا " ومنہم سابق بالخیرات باذن اللہ " یہ وہ لوگ ہوں گے جو جنت میں بلا حساب کتاب داخل ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21697]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ثابت أو أبو ثابت مجهول، وقد اختلف فى إسناده على الأعمش
حدیث نمبر: 21698
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيِّ , أَخْبَرَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي الْيَوْمِ الْحَارِّ الشَّدِيدِ الْحَرِّ , حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ من شِدَّةِ الْحَر , وَمَا فِي الْقَوْمِ صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ" .
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شدید گرمی کے سفر میں تھے اور گرمی کی شدت سے اپنے سر پر اپنا ہاتھ رکھتے جاتے تھے اور اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہم میں سے کسی کا روزہ نہ تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21698]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1945، م: 1122، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من اجل هشام و عثمان
حدیث نمبر: 21699
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ , عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِعْطَاءِ السُّلْطَانِ , قَالَ: " مَا آتَاكَ اللَّهُ مِنْهُ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ , فَخُذْهُ وَتَمَوَّلْهُ" , قَالَ: وَقَالَ الْحَسَنُ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا بَأْسَ بِهَا مَا لَمْ تَرْحَلْ إِلَيْهَا , أَوْ تَشَرَّفْ لَهَا.
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ بادشاہ کی عطاء و بخشش لینے کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بن مانگے اور بن خواہش اللہ تعالیٰ تمہیں جو کچھ عطاء فرما دے اسے لے لیا کرو اور اس سے تم مول حاصل کیا کرو؟ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21699]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل عن أبى الدرداء
حدیث نمبر: 21700
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا أَبُو الدَّرْدَاءِ مُغْضَبًا , فَقَالَتْ: مَا لَكَ؟ فقَال: " وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ فِيهِمْ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا" .
حضرت ام درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو نہایت غصے کی حالت میں تھے انہوں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ بخدا! میں لوگوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی تعلیم نہیں دیکھ رہا، اب تو صرف اتنی بات رہ گئی ہے کہ وہ اکٹھے ہو کر نماز پڑھ لیتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21700]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 650
حدیث نمبر: 21701
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , أخبرنا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ ابن مَعْدَانَ أَوْ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاء , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَاءَ فَأَفْطَرَ" , قَالَ: فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: أَنَا صَبَبْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءَهُ.
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قے آگئی جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا روزہ ختم کردیا راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے بھی اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وضو کا پانی ڈال رہا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21701]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف فى إسناده، والخلاف كله يدور على الثقات