🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

954. حَدِيثُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حِبِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21762
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا رِبًا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ" .
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نقد معاملے میں سود نہیں ہوتا وہ تو ادھار میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21762]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2178، م: 1596، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21763
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ , أَخبرنَا مَالِكٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , وَأَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ أَبِيهِ , سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ: مَاذَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الطَّاعُونِ؟ فَقَالَ أُسَامَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رِجْزٌ أُرْسِلَ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ , أَوْ عَلَى طَائِفَةٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ , الشَّكُّ فِي الْحَدِيثِ , فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ , فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ , وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا , فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ" , قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ: لَا يُخْرِجُكُمْ إِلَّا فِرَارًا مِنْهُ.
عامربن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس طاعون کے حوالے سے سوال پوچھنے کے لئے آیا تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے متعلق میں تمہیں بتاتا ہوں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ طاعون ایک عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں (بنی اسرائیل) پر مسلط کیا تھا، کبھی یہ آجاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے لہٰذا جس علاقے میں یہ وباء پھیلی ہوئی ہو تو تم اس علاقے میں مت جاؤ اور جب کسی علاقے میں یہ وباء پھیلے اور تم پہلے سے وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نکلو مت۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21763]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3473، م: 2218
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21764
حَدَّثَنَا حَسيَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ , عَنْ سُلَيْمٍ مَوْلًى لَيْثٍ , وَكَانَ قَدِيمًا قَالَ: مَرَّ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ , عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ يُصَلِّي , فَحَكَاهُ مَرْوَانُ , قَالَ أَبُو مَعْشَرٍ: وَقَدْ لَقِيَهُمَا جَمِيعًا , فَقَالَ أُسَامَةُ : يَا مَرْوَانُ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ فَاحِشٍ مُتَفَحِّشٍ" .
مروان بن حکم ایک مرتبہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرا وہ نماز پڑھ رہے تھے، مروان کہانیاں بیان کرنے لگا ایک مرتبہ جب ان دونوں کی ملاقات ہوئی تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مروان! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اللہ تعالیٰ کسی بےحیائی اور بہیودہ گوئی کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21764]

حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الضعف أبى المعشر. سليم مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21765
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مَنْ سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ , يَقُولُ: " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ" .
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء دونوں نمازیں اکٹھی ادا فرمائیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21765]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 139، م: 1280، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن أسامة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21766
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخبرنا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيْنَ نَنْزِلُ غَدًا؟ فِي حَجَّتِهِ , قَالَ:" وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلًا" , ثُمَّ قَالَ:" نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ , يَعْنِي الْمُحَصَّبَ , حَيْثُ قَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ" , وَذَلِكَ أَنَّ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ , أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ , وَلَا يُبَايِعُوهُمْ , وَلَا يُؤْوُهُمْ , ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: " لَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ , وَلَا الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ" . قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَالْخَيْفُ الْوَادِي.
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! کل آپ کہاں منزل کریں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا عقیل نے ہمارے لئے بھی کوئی منزل چھوڑی ہے؟ پھر فرمایا کل ان شاء اللہ ہم خیف بنوکنانہ میں پڑاؤ کریں گے جہاں قریش نے کفر پر معاہدہ کر کے قسمیں کھائی تھیں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ بنو کنانہ نے بنو ہاشم کے خلاف قریش سے یہ معاہدہ کرلیا تھا کہ بنوہاشم کے ساتھ نکاح، بیع وشراء اور انہیں ٹھکانہ دینے کا کوئی معاملہ نہیں کریں گے، پھر فرمایا کوئی کافر کسی مسلمان کا اور کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں ہوسکتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21766]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3058، م: 1351
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21767
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ حِمَارًا عَلَيْهِ إِكَافٌ تَحْتَهُ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ , وَأَرْدَفَ وَرَاءَهُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ , وَهُوَ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ , وَذَلِكَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ , حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ , وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ , وَالْيَهُودِ , فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ , وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ , فَلَمَّا غَشِيَتْ الْمَجْلِسَ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ , خَمَّرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهُ بِرِدَائِهِ , ثُمَّ قَالَ: لَا تُغَبِّرُوا عَلَيْنَا , فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَقَفَ , فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللَّهِ , وَقَرَأَ عَلَيْهِمْ الْقُرْآنَ , فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ: أَيُّهَا الْمَرْءُ لَا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا إِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا , فَلَا تُؤْذِينَا فِي مَجَالِسِنَا , وَارْجِعْ إِلَى رَحْلِكَ , فَمَنْ جَاءَكَ مِنَّا فَاقْصُصْ عَلَيْهِ , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ: اغْشَنَا فِي مَجَالِسِنَا فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ , قَالَ: فَاسْتَبَّ الْمُسْلِمُونَ , وَالْمُشْرِكُونَ , وَالْيَهُودُ , حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَتَوَاثَبُوا , فَلَمْ يَزَلْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ , ثُمَّ رَكِبَ دَابَّتَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ , فَقَالَ:" أَيْ سَعْدُ , أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالَ أَبُو حُبَابٍ يُرِيدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ؟ قَالَ: كَذَا وَكَذَا" , فَقَالَ: اعْفُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاصْفَحْ , فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَاكَ اللَّهُ الَّذِي أَعْطَاكَ , وَلَقَدْ اصْطَلَحَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ أَنْ يُتَوِّجُوهُ , فَيُعَصِّبُوهُ بِالْعِصَابَةِ , فَلَمَّا رَدَّ اللَّهُ ذَلِكَ بِالْحَقِّ الَّذِي أَعْطَاكَهُ , شَرِقَ بِذَلِكَ , فَذَاكَ فَعَلَ بِهِ مَا رَأَيْتَ , فَعَفَا عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ..
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان بھی تھا اور اس کے نیچے فد کی چادر تھی اور اپنے پیچھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو بٹھالیا، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنوحارث بن خزرج میں حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے جا رہے تھے، یہ واقعہ عزوہ بدر سے پہلے کا ہے راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک ایسی مجلس پر ہوا جس میں مسلمان، بتوں کے پجاری مشرک اور یہودی سب ہی تھے اور جن میں عبداللہ بن ابی بھی موجود تھا اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی۔ جب اس مجلس میں سواری کا گردوغبار اڑا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک پر اپنی چادر رکھی اور کہنے لگا کہ ہم پر گردوعبار نہ اڑاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں رک کر انہیں سلام کیا اور تھوڑی دیر بعد سواری سے نیچے اتر کر انہیں اللہ کی طرف بلانے اور قرآن پڑھ کر سنانے لگے یہ دیکھ کر عبداللہ بن ابی کہنے لگا اے بھائی! جو بات آپ کہہ رہے ہیں اگر یہ برحق ہے تو اس سے اچھی کوئی بات ہی نہیں لیکن آپ ہماری مجلسوں میں آکر ہمیں تکلیف نہ دیا کریں، آپ اپنے ٹھکانے پر واپس چلے جائیں اور وہاں جو آدمی آئیں اس کے سامنے یہ چیزیں بیان کیا کریں، اس پر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ آپ ہماری مجالس میں ضرور تشریف لایا کریں کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں، اس طرح مسلمانوں اور مشرکین و یہود کے درمیان تلخ کلامی ہونے لگی اور قریب تھا کہ وہ ایک دوسرے سے بھڑجاتے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں مسلسل خاموش کراتے رہے۔ جب وہ لوگ پرسکون ہوگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں چلے گئے اور ان سے فرمایا سعد! تم نے سنا کہ ابوحباب (عبداللہ بن ابی) نے کیا کہا ہے؟ اس نے اس طرح کہا ہے؟ اس نے اس طرح کہا ہے حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اسے معاف کردیا کریں اور اس سے درگذر فرمایا کریں، بخدا! اللہ نے جو مقام آپ کو دینا تھا وہ دے دی اور نہ یہاں کے لوگ اسے تاج شاہی پہنانے پر متفق ہوچکے تھے لیکن اللہ نے جب اس حق کے ذریعے اسے رد کردیا جو اس نے آپ کو عطاء کیا تو یہ اس پر ناگوار گذرا، اس وجہ سے اس نے ایسی حرکت کی، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف فرما دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21767]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2987، م: 1798
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21768
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ , حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَلَقَدْ اجْتَمَعَ أَهْلُ هَذِهِ الْبُحَيْرَةِ..
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21768]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5663، م: 1798
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21769
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , أَخبرنَا شُعَيْبٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَكِبَ حِمَارًا عَلَى إِكَافٍ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ فَدَكِيَّةٌ , وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَرَاءَهُ , يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فِي بَنِي الْخَزْرَجِ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ , فَذَكَرَهُ , وَقَالَ: الْبَحْرَةِ.

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4566، م: 1798
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21770
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ , حَدَّثَنَا حَيْوَةُ , أَخْبَرَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ , أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَ وَالِدَهُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ , قَالَ: فَقَالَ لَهُ: إِنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَعْزِلُ عَنِ امْرَأَتِي , قَالَ:" لِمَ" , قَالَ: شَفَقًا عَلَى وَلَدِهَا , أَوْ عَلَى أَوْلَادِهَا , فَقَالَ: " إِنْ كَانَ لَذَلِكَ فَلَا مَا ضَارَّ ذَلِكَ , فَارِسَ وَلَا الرُّومَ" .
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں اپنی بیوی سے عزل کرنا چاہتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وجہ سے پوچھی تو اس نے بتایا کہ اس کے بچوں کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر صرف اس وجہ سے کرنا چاہتے ہو تو ایسا مت کرو کیونکہ اس چیز سے تو اہل فارس وروم کو بھی نقصان نہیں ہوا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21770]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1443
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21771
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ , قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ الْهَيْثَمِ بْنِ خَارِجَةَ , حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عُقَيْلٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:" أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام لَمَّا نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَعَلَّمَهُ الْوُضُوءَ , فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوئِهِ , أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَرَشَّ بِهَا نَحْوَ الْفَرْجِ , قَالَ: فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُشُّ بَعْدَ وُضُوئِهِ" .
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی لے کر نازل ہوئے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرنا بھی سکھایا تھا اور جب وضو سے فارغ ہوئے تو ایک چلو میں پانی لے کر شرمگاہ کے قریب اسے چھڑک لیا، لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی وضو کے بعد اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21771]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں