🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

954. حَدِيثُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حِبِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21772
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْحَارِثِ , عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ الْكَآبَةُ , فَسَأَلْتُهُ مَا لَهُ؟ فَقَالَ: " لَمْ يَأْتِنِي جِبْرِيلُ مُنْذُ ثَلَاثٍ" , قَالَ: فَإِذَا جِرْوُ كَلْبٍ بَيْنَ بُيُوتِهِ , فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ , فَبَدَا لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام , فَبَهَشَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُ , فَقَالَ:" لَمْ تَأْتِنِي!" , فَقَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ , وَلَا تَصَاوِيرُ ..
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر غم اور کسی کمرے میں آثار دیکھے میں نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ تین دن سے میرے پاس جبرائیل نہیں آئے دیکھا تو کتے کا ایک پلاّ کسی کمرے میں چھپا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اسے قتل کردیا گیا تھوڑی ہی دیر میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نمودار ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ کر خوش ہوئے اور فرمایا آپ میرے پاس کیوں نہیں آ رہے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتے یا تصویریں ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21772]

حکم دارالسلام: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21773
حَدَّثَنَا حُسَيْ?ٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنُ عَبَّاسٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ كَآبَةٌ.... فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" فَلَمْ يَأْتِنِي مُنْذُ ثَلَاثٍ".
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21773]

حکم دارالسلام: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21774
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ , حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ , عَنْ كُلْثُومٍ الْخُزَاعِيِّ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَدْخِلْ عَلَيَّ أَصْحَابِي" , فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَكَشَفَ الْقِنَاعَ , ثُمَّ قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ , وَالنَّصَارَى , اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ" ..
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مرض الوفات میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو میرے پاس بلا کر لاؤ جب وہ آگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ (چادر کو) ہٹایا اور فرمایا یہودونصاری پر اللہ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21774]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات وشواهد لأجل قيس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21775
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ , حَدَّثَنَا قَيْسٌ , عَنْ جَامِعٍ ..... إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَدَخَلُوا عَلَيْهِ وَهُوَ مُتَقَنِّعٌ بِبُرْدٍ لَهُ , مَعَافِرِيٍّ , وَلَمْ يَقُلْ: وَالنَّصَارَى.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21775]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات وشواهد لأجل قيس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21776
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: أَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضُ بَنَاتِهِ , أَنَّ صَبِيًّا لَهَا ابْنًا , أَوْ ابْنَةً قَدْ احْتُضِرَتْ , فَاشْهَدْنَا قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا يَقْرَأُ السَّلَامَ , وَيَقُولُ: " إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى , وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى , فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ" , فَأَرْسَلَتْ تُقْسِمُ عَلَيْهِ , فَقَامَ وَقُمْنَا , فَرُفِعَ الصَّبِيُّ إِلَى حِجْرِ , أَوْ فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ , وَفِي الْقَوْمِ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ , وَأُبَيٌّ أَحْسِبُ , فَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" هَذِهِ رَحْمَةٌ يَضَعُهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ , وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ" .
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی صاحبزادی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ پیغام بھیجا کہ ان کے بچہ پر نزع کا عالم طاری ہے آپ ہمارے یہاں تشریف لائیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کہلوایا اور فرمایا جو لیا وہ بھی اللہ کا ہے اور جو دیا وہ بھی اللہ کا ہے اور ہر چیز کا اس کے یہاں ایک وقت مقرر ہے لہٰذا تمہیں صبر کرنا چاہئے اور اس پر ثواب کی امید رکھنی چاہئے، انہوں نے دوبارہ قاصد کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قسم دے کر بھیجا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور ہم بھی ساتھ ہی کھڑے ہوگئے۔ اس بچے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں لا کر رکھا گیا، اس کی جان نکل رہی تھی لوگوں میں اس وقت حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور غالباً حضرت ابی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے جسے دیکھ کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ فرمایا یہ رحمت ہے جو اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہتا ہے ڈال دیتا ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے رحم دل بندوں پر ہی رحم کرتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21776]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5655، م: 923
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21777
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: اجْتَمَعَ جَعْفَرٌ , وَعَلِيٌّ , وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ , فَقَالَ جَعْفَرٌ: أنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ زَيْدٌ: أَنَا أَحَبُّكُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَسْأَلَهُ , فَقَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ: فَجَاءُوا يَسْتَأْذِنُونَهُ , فَقَالَ:" اخْرُجْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ" فَقُلْتُ: هَذَا جَعْفَرٌ , وَعَلِيٌّ , وَزَيْدٌ , مَا أَقُولُ: أَبِي , قَالَ:" ائْذَنْ لَهُمْ" وَدَخَلُوا فَقَالُوا: مَنْ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ:" فَاطِمَةُ" , قَالُوا: نَسْأَلُكَ عَنِ الرِّجَالِ , قَالَ: " أَمَّا أَنْتَ يَا جَعْفَرُ , فَأَشْبَهَ خَل?قُكَ خَلْقِي , وَأَشْبَهَ خُلُقِي خُلُقُكَ , وَأَنْتَ مِنِّي وَشَجَرَتِي , وَأَمَّا أَنْتَ يَا عَلِيُّ , فَخَتَنِي وَأَبُو وَلَدِي , وَأَنَا مِنْكَ وَأَنْتَ مِنِّي , وَأَمَّا أَنْتَ يَا زَيْدُ , فَمَوْلَايَ وَمِنِّي وَإِلَيَّ , وَأَحَبُّ الْقَوْمِ إِلَيَّ" .
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ایک جگہ اکٹھے تھے دوران گفتگو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں تم سب سے زیادہ محبوب ہوں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہی بات اپنے متعلق کہی اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے اپنے متعلق کہی، فیصلہ کرنے کے لئے وہ کہنے لگے کہ آؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چل کر ان سے پوچھ لیتے ہیں چنانچہ وہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ دیکھو، یہ کون لوگ آئے ہیں؟ میں نے دیکھ کر عرض کیا کہ جعفر علی اور زید آئے ہیں، میں نے یہ نہیں کہا کہ میرے والد آئے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو۔ وہ اندر آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ کو سب سے زیادہ کس سے محبت ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فاطمہ سے، انہوں نے کہا ہم آپ سے مردوں کے حوالے سے پوچھ رہے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جعفر! تمہاری صورت میری صورت سے اور تمہاری سیرت میری سیرت سے سب سے زیادہ مشابہہ ہے تم مجھ سے ہو اور میرا شجرہ ہو اور علی! تم میرے داماد اور میرے بچوں (نواسوں) کے باپ ہو، میں تم سے ہوں اور تم مجھ سے ہو اور اے زید! تم ہمارے مولیٰ ہو اور مجھ سے ہو اور میری طرف ہو اور تمام لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21777]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لعنعنة محمد ابن إسحاق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21778
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ , سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ , يَقُولُ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ مَرَّةً: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ , أَنَّهُ قَالَ: " الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ" .
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نقد معاملے میں سود نہیں ہوتا وہ تو ادھار میں ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21778]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2178، م: 1596
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21779
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُمَيْمَةَ ابْنَةِ زَيْنَبَ , وَنَفْسُهَا تَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا فِي شَنٍّ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلَّهِ مَا أَخَذَ , وَلِلَّهِ مَا أَعْطَى , وَكُلٌّ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى" , فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ , فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَتَبْكِي أَوَلَمْ تَنْهَ عَنِ الْبُكَاءِ؟! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ , وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ" .
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (ان کی نواسی) امیمہ بنت زینب کو لایا گیا اس کی روح اس طرح نکل رہی تھی جیسے کسی مشکیزے میں ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لیا وہ بھی اللہ کا ہے اور جو دیا وہ اللہ کا ہے اور ہر چیز کا اس کے یہاں ایک وقت مقرر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے جسے دیکھ کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ بھی رو رہے ہیں؟ فرمایا یہ رحمت ہے جو اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہتا ہے ڈال دیتا ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے رحم دل بندوں پر ہی رحم کرتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21779]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1284، م: 923
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21780
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ عُمَارَةَ , عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ , قَالَ:" خَرَجْتُ حَاجًّا فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ , فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ السَّارِيَتَيْنِ , مَضَيْتُ حَتَّى لَزِقْتُ بِالْحَائِطِ , قَالَ: وَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ , حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِي فَصَلَّى أَرْبَعًا , قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى , قُلْتُ لَهُ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَيْتِ؟ قَالَ: فَقَالَ: هَاهُنَا , أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , أَنَّهُ صَلَّى , قَالَ: قُلْتُ: فَكَمْ صَلَّى؟ قَالَ: عَلَى هَذَا أَجِدُنِي أَلُومُ نَفْسِي أَنِّي مَكَثْتُ مَعَهُ عُمُرًا , ثُمَّ لَمْ أَسْأَلْهُ كَمْ صَلَّى , فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَالَ: خَرَجْتُ حَاجًّا , قَالَ: فَجِئْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِهِ , قَالَ: فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ , حَتَّى قَامَ إِلَى جَنْبِي , فَلَمْ يَزَلْ يُزَاحِمُنِي حَتَّى أَخْرَجَنِي مِنْهُ , ثُمَّ صَلَّى فِيهِ أَرْبَعًا" .
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حج کے ارادے سے نکلا، بیت اللہ شریف میں داخل ہوا جب دو ستونوں کے درمیان پہنچا تو جا کر ایک دیوار سے چمٹ گیا اتنی دیر میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما آگئے اور میرے پہلو میں کھڑے ہو کر چار رکعتیں پڑھیں، جب وہ نماز سے فارغ ہوگئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ میں کہاں نماز پڑھی تھی انہوں نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہاں مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ہے میں نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا اسی پر تو آج تک میں اپنے آپ کو ملامت کرتا ہوں کہ میں نے ان کے ساتھ ایک طویل عرصہ گذارا لیکن یہ نہ پوچھ سکا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔ اگلے سال میں پھر حج کے ارادے سے نکلا اور اسی جگہ پر جا کر کھڑا ہوگیا جہاں پچھلے سال کھڑا ہوا تھا اتنی دیر میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ آگئے اور میرے پہلو میں کھڑے ہوگئے پھر وہ مجھ سے مزاحمت کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے وہاں سے باہر کردیا اور پھر اس میں چار رکعتیں پڑھیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21780]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21781
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ , أَنَّ مَوْلَى قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ حَدَّثَه , أَنَّ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ كَانَ يَخْرُجُ فِي مَالٍ لَهُ بِوَادِي الْقُرَى , فَيَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ , فَقُلْتُ لَهُ: لِمَ تَصُومُ فِي السَّفَرِ وَقَدْ كَبِرْتَ وَرَقَقْتَ؟ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ تَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ؟ قَالَ: " إِنَّ الْأَعْمَالَ تُعْرَضُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ , وَيَوْمَ الْخَمِيسِ" .
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک دن وہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنے مال کی تلاش میں وادی قری گیا ہوا تھا حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ وہ پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے ان کے غلام نے ان سے پوچھا کہ آپ اس قدر بوڑھے اور کمزور ہونے کے باوجود بھی پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنے میں اتنی پابندی کیوں رکھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے کسی نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21781]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة مولي قدامة، وجهالة مولي أسامة، والمرفوع منه صحيح بطرقه وشواهده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں