🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

954. حَدِيثُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حِبِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21802
حَدَّثَنَا يَعْلَى , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ , حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى الْحُرَقَاتِ , فَنَذِرُوا بِنَا فَهَرَبُوا , فَأَدْرَكْنَا رَجُلًا , فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَضَرَبْنَاهُ حَتَّى قَتَلْنَاهُ , فَعَرَضَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ , فَذَكَرْتُهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟" , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا قَالَهَا مَخَافَةَ السِّلَاحِ وَالْقَتْلِ , فَقَالَ:" أَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ أَمْ لَا! مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟" , قَالَ: فَمَا زَالَ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أُسْلِمْ إِلَّا يَوْمَئِذٍ .
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہینہ کے ریتلے علاقوں میں سے ایک قبیلے کی طرف بھیجا، ہم نے صبح کے وقت ان پر حملہ کیا اور قتال شروع کردیا ان میں سے ایک آدمی جب بھی ہمارے سامنے آتا تو وہ ہمارے سامنے سب سے زیادہ بہادری کے ساتھ لڑتا تھا اور جب وہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگتے تو وہ پیچھے سے ان کی حفاظت کرتا تھا میں نے ایک انصاری کے ساتھ مل کر اسے گھیر لیا جوں ہی ہم نے اس کے گرد گھیرا تنگ کیا تو اس نے فوراً " لا الہ الا اللہ " کہہ لیا اس پر انصاری نے اپنے ہاتھ کو کھینچ لیا لیکن میں نے اسے قتل کردیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا اسامہ! جب اس نے لا الہ الا اللہ کہہ لیا تھا تو تم نے پھر بھی اسے قتل کردیا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس نے جان بچانے کے لئے یہ کلمہ پڑھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات کو اتنی مرتبہ دہرایا کہ میں یہ خواہش کرنے لگا کہ کاش! میں نے اسلام ہی اس دن قبول کیا ہوتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21802]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4269، م: 96
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21803
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ , وَأَنَا رَدِيفُه , فَجَعَلَ يَكْبَحُ رَاحِلَتَهُ حَتَّى أَنَّ ذِفْرَهَا لَتَكَادُ تُصِيبُ قَادِمَةَ الرَّحْلِ , وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ وَالْوَقَارَ , فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ فِي إِيضَاعِ الْإِبِلِ" .
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کو لگام سے پکڑ کر کھینچنے لگے حتٰی کہ اس کے کان کجاوے کے اگلے حصے کے قریب آگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جارہے تھے لوگو! اپنے اوپر سکون اور وقار کو لازم پکڑو، اونٹوں کو تیز دوڑانے میں کوئی نیکی نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21803]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21804
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنِ ابْنِ عَمٍّ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ يُقَالُ لَهُ: عِيَاضٌ وَكَانَتْ بِنْتُ أُسَامَةَ تَحْتَهُ , قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ خَرَجَ مِنْ بَعْضِ الْأَرْيَافِ , حَتَّى إِذَا كَانَ قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ , أَصَابَهُ الْوَبَاءُ , قَالَ: فَأَفْزَعَ ذَلِكَ النَّاسَ , قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَطْلُعَ عَلَيْنَا نِقَابُهَا" يَعْنِي الْمَدِينَة. وحَدَّثَنَاه الْهَاشِمِيُّ , وَيَعْقُوبُ , وَقَالَا جَمِيعًا: إِنَّهُ سَمِعَ أُسَامَةَ ..
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ایک چچا زاد بھائی " جن کا نام عیاض تھا " سے مروی ہے " جن کے نکاح میں حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی بھی تھیں " کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کا تذکرہ ہوا جو کسی شاداب علاقے سے نکلا، جب وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچا تو اسے وباء نے آگھیرا یہ سن کر لوگ خوفزادہ ہوگئے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے امید ہے کہ یہ وباء مدینہ منورہ کے سوراخوں سے نکل کر ہم تک نہیں پہنچے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21804]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عياض ابن عم أسامة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21805
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنِ ابْنِ عَمٍّ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , يُقَالُ لَهُ: عِيَاضٌ , وَكَانَتْ ابْنَةُ أُسَامَةَ عِنْدَهُ , وَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ , قَال أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عِيَاضُ بْنُ ضَمْرَى.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21805]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبن عم لأسامة ابن زيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21806
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذَا الْوَبَاءَ رِجْزٌ , أَهْلَكَ اللَّهُ بِهِ الْأُمَمَ قَبْلَكُمْ , وَقَدْ بَقِيَ مِنْهُ فِي الْأَرْضِ شَيْءٌ يَجِيءُ أَحْيَانًا , وَيَذْهَبُ أَحْيَانًا , فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا , وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ فِي أَرْضٍ فَلَا تَأْتُوهَا" ..
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا طاعون ایک عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں (بنی اسرائیل) پر مسلط کیا تھا، کبھی یہ آجاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے لہٰذا جس علاقے میں یہ وباء پھیلی ہوئی ہو تو تم اس علاقے میں مت جاؤ اور جب کسی علاقے میں یہ وباء پھیلے اور تم پہلے سے وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نکلو مت۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21806]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3473، م: 2218
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21807
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ , يُحَدِّثُ سَعْدًا , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ هَذَا الْوَجَعَ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21807]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6974، م: 2218
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21808
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أخبرنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ , قَالَ أَبِي: وَعَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ , وَلَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ" .
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی مسلمان کسی کافر کا اور کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21808]

حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، خ: 6764، م: 1614
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21809
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أخبرنا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَرَوْحٌ , قَالَا: حدثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , يَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِالدُّخُولِ , قَالَ: لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنْ دُخُولِهِ , وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا , وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ حَتَّى خَرَجَ , فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي قِبَلِ الْكَعْبَةِ , قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَقَالَ:" هَذِهِ الْقِبْلَةُ".
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں عطاء سے پوچھا کیا آپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہیں طواف کا حکم دیا گیا ہے بیت اللہ میں داخل ہونے کا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ وہ اس میں داخل ہونے سے نہیں روکتے تھے البتہ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تو اس کے سارے کونوں میں دعاء فرمائی لیکن وہاں نماز نہیں پڑھی بلکہ باہر آکر خانہ کعبہ کی جانب رخ کر کے دو رکعتیں پڑھیں اور فرمایا یہ ہے قبلہ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21809]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 398، م: 1330
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21810
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ أُسَامَةَ , قَالَ: أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُطُمٍ مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ , فَقَالَ:" هَلْ تَرَوْنَ مَا أَرَى؟" , قَالُوا: لَا , قَالَ: " إِنِّي لَأَرَى الْفِتَنَ تَقَعُ خِلَالَ بيوتكمِ كَوَقْعِ الْمَطَرِ" .
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے کسی ٹیلے پر چڑھے تو فرمایا کہ جو میں دیکھ رہا ہوں کیا تم بھی وہ دیکھ رہے ہو؟ لوگوں نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے گھروں میں فتنے اس طرح رونما ہو رہے ہیں جیسے بارش کے قطرے برستے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21810]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7060، م: 2885
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21811
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , وَيَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ , وَإِذَا وَقَعَ وَأَنْتُمْ بِأَرْضٍ فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ" .
عامربن سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس طاعون کے حوالے سے سوال پوچھنے کے لئے آیا تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے متعلق میں تمہیں بتاتا ہوں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ طاعون ایک عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں (بنی اسرائیل) پر مسلط کیا تھا، کبھی یہ آجاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے لہٰذا جس علاقے میں یہ وباء پھیلی ہوئی ہو تو تم اس علاقے میں مت جاؤ اور جب کسی علاقے میں یہ وباء پھیلے اور تم پہلے سے وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگ کر وہاں سے نکلو مت۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21811]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3473، م: 2218، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں