🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

960. حَدِيثُ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21896
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ : بِمَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدِ؟ , قَالَ: " كَانَ يَقْرَأُ بِقَافْ وَ اقْتَرَبَتْ" .
عبیداللہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید میں کہاں سے تلاوت فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا سورت ق اور سورت قمر سے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21896]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 891
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21897
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ , حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ , ثُمَّ الْجُنْدَعِيِّ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , أَنَّهُمْ خَرَجُوا عَنْ مَكَّةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ , قَالَ: وَكَانَ لِلْكُفَّارِ سِدْرَةٌ يَعْكُفُونَ عِنْدَهَا , وَيُعَلِّقُونَ بِهَا أَسْلِحَتَهُمْ , يُقَالُ لَهَا: ذَاتُ أَنْوَاطٍ , قَالَ: فَمَرَرْنَا بِسِدْرَةٍ خَضْرَاءَ عَظِيمَةٍ , قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْتُمْ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى: اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ سورة الأعراف آية 138 إِنَّهَا لَسُنَنٌ , لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ سُنَّةً سُنَّةً" .
حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے حنین کے لئے نکلے کفار کی ایک بیری تھی جہاں وہ جا کر رکتے تھے اور اس سے اپنا اسلحہ لٹکایا کرتے تھے، اسے " ذات انواط " کہا جاتا تھا راستے میں ہم لوگ ایک سرسبز و شاداب بیری کے عظیم باغ سے گذرے تو ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہمارے لئے بھی اسی طرح کوئی " ذات انواط " مقرر کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم نے وہی بات کہی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی کہ جیسے ان کے معبود ہیں، اسی طرح ہمارا بھی کوئی معبود مقرر کر دیجئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تم ایک جاہل قوم ہو، یاد رکھو! تم لوگ پہلے لوگوں کے نقش قدم پر چلو گے اور ان کی ایک ایک عادت اختیار کر کے رہو گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21897]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21898
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ , عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا بِأَرْضٍ تُصِيبُنَا بِهَا مَخْمَصَةٌ , فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْمَيْتَةِ؟ قَالَ: " إِذَا لَمْ تَصْطَبِحُوا , وَلَمْ تَغْتَبِقُوا , وَلَمْ تَحْتَفِئُوا بَقْلًا , فَشَأْنُكُمْ بِهَا" .
حضرت ابو واقد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہم جس علاقے میں رہتے ہیں، وہاں ہمیں اضطراری حالت پیش آتی رہتی ہے تو ہمارے لئے مردار میں سے کتنا حلال ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں صبح اور شام کسی بھی وقت کوئی بھی سبزی توڑنے کو نہ ملے تو تمہیں اس کی اجازت ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21898]

حکم دارالسلام: حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف جدا لأجل أبى إبراهيم محمد بن القاسم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21899
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَابْنُ بَكْرٍ , أخبرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ , عَنْ نَافِعِ بْنِ سَرْجِسَ , قَالَ: عُدْنَا أَبَا وَاقِدٍ الْبَكْرِيَّ , وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: الْبَدْرِيَّ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ , فَسَمِعَهُ يَقُولُ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً عَلَى النَّاسِ , وَأَطْوَلَ النَّاسِ صَلَاةً لِنَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
نافع بن سرجس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت واقد رضی اللہ عنہ کے مرض الوفات میں ان کی بیمار پرسی کے لئے حاضر ہوئے تو میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھاتے وقت سب سے ہلکی نماز پڑھاتے تھے اور خود نماز پڑھتے وقت سب سے لمبی نماز پڑھتے تھے۔ صلی اللہ علیہ وسلم [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21899]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21900
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أخبرَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدِّيْلِيِّ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , قَالَ: خَرَجَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ حُنَيْنٍ , فَمَرَرْنَا بِسِدْرَةٍ , فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , اجْعَلْ لَنَا هَذِهِ ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لِلْكُفَّارِ ذَاتُ أَنْوَاطٍ , وَكَانَ الْكُفَّارُ يَنُوطُونَ بِسِلَاحِهِمْ بِسِدْرَةٍ , وَيَعْكُفُونَ حَوْلَهَا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ , هَذَا كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى: اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ سورة الأعراف آية 138 إِنَّكُمْ تَرْكَبُونَ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ" .
حضرت ابو واقدلیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے حنین کے لئے نکلے کفار کی ایک بیری تھی جہاں وہ جا کر رکتے تھے اور اس سے اپنا اسلحہ لٹکایا کرتے تھے، اسے " ذات انواط " کہا جاتا تھا راستے میں ہم لوگ ایک سرسبز و شاداب بیری کے عظیم باغ سے گذرے تو ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہمارے لئے بھی اسی طرح کوئی " ذات انواط " مقرر کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم نے وہی بات کہی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی کہ جیسے ان کے معبود ہیں، اسی طرح ہمارا بھی کوئی معبود مقرر کر دیجئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تم ایک جاہل قوم ہو، یاد رکھو! تم لوگ پہلے لوگوں کے نقش قدم پر چلو گے اور ان کی ایک ایک عادت اختیار کر کے رہو گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21900]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21901
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٌ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا بِأَرْضٍ تُصِيبُنَا بِهَا الْمَخْمَصَةُ , فَمَتَى تَحِلُّ لَنَا الْمَيْتَةُ؟ قَالَ: " إِذَا لَمْ تَصْطَبِحُوا , وَلَمْ تَغْتَبِقُوا , وَلَمْ تَحْتَفِئُوا , فَشَأْنُكُمْ بِهَا" ..
حضرت ابو واقد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ہم جس علاقے میں رہتے ہیں، وہاں ہمیں اضطراری حالت پیش آتی رہتی ہے تو ہمارے لئے مردار میں سے کتنا حلال ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں صبح اور شام کسی بھی وقت کوئی بھی سبزی توڑنے کو نہ ملے تو تمہیں اس کی اجازت ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21901]

حکم دارالسلام: حديث حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21902
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ , فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مَعْمَرٍ , وَمَعْمَرٌ أَتَمُّ حَدِيثًا.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21902]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21903
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَحَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , الْمَعْنَى , قَالَا: حدثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ , وَبِهَا نَاسٌ يَعْمِدُونَ إِلَى أَلْيَاتِ الْغَنَمِ , وَأَسْنِمَةِ الْإِبِلِ فَيَجُبُّونَهَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهِيَ مَيْتَةٌ" .
حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو بکری کی سرین اور اونٹوں کے کوہان کاٹ لیا کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جانور کے جسم کا جو حصہ بھی زندہ جانور سے کاٹا جائے وہ مردار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21903]

حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل عبدالرحمن بن عبدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21904
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ , وَالنَّاسُ يَجُبُّونَ أَسْنِمَةَ الْإِبِلِ , وَيَقْطَعُونَ أَلْيَاتِ الْغَنَمِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهِيَ مَيْتَةٌ" .
حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو بکری کی سرین اور اونٹوں کے کوہان کاٹ لیا کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جانور کے جسم کا جو حصہ بھی زندہ جانور سے کاٹاجائے وہ مردار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21904]

حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل عبدالرحمن بن عبدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21905
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ وَاقِدٍ بْنِ أَبِي وَاقِدٍ بْنِ الليثي , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِنِسَائِهِ فِي حَجَّتِهِ: " هَذِهِ , ثُمَّ ظُهُورَ الْحُصُرِ" .
حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ازواج مطہرات سے فرمایا یہ حج تم میرے ساتھ کر رہی ہو، اس کے بعد تمہیں گھروں میں بیٹھنا ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21905]

حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل واقد بن أبى واقد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں