مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
960. حَدِيثُ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 21906
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , قَالَ: كُنَّا نَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ فَيُحَدِّثُنَا , فَقَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: إِنَّا أَنْزَلْنَا الْمَالَ لِإِقَامِ الصَّلَاةِ , وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ , وَلَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ , لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِ ثَانٍ , وَلَوْ كَانَ لَهُ وَادِيَانِ , لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ إِلَيْهِمَا ثَالِثٌ , وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ , ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ" .
حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے وہ آیت بیان فرما دیتے، چانچہ ایک دن ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ہم نے مال اس لئے اتارا ہے کہ نماز قائم کی جائے اور زکوٰۃ ادا کی جائے اور اگر ابن آدم کے پاس سونے چاندی کی دو وادیاں بھی ہوں تو وہ ایک اور کی تمنا کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھر سکتی، البتہ جو توبہ کرلیتا ہے اللہ اس پر متوجہ ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21906]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل هشام بن سعد
حدیث نمبر: 21907
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ , حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ حَدِيثِ أَبِي مُرَّةَ , أَنَّ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ حَدَّثَهُ , قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ , فَجَاءَ أَحَدُهُمْ فَوَجَدَ فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ , وَجَلَسَ الْآخَرُ مِنْ وَرَائِهِمْ , وَانْطَلَقَ الثَّالِثُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَبَرِ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ" , قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" أَمَّا الَّذِي جَاءَ فَجَلَسَ , فَأَوَى فَآوَاهُ اللَّهُ , وَالَّذِي جَلَسَ مِنْ وَرَائِكُمْ فَاسْتَحَى , فَاسْتَحَى اللَّهُ مِنْهُ , وَأَمَّا الَّذِي انْطَلَقَ رَجُلٌ أَعْرَضَ , فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ" .
حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ تین آدمیوں کا وہاں سے گذر ہوا، ان میں سے ایک آدمی آیا، اسے لوگوں کے حلقے میں تھوڑی سی جگہ نظر آئی، وہ وہیں بیٹھ گیا دوسرا سب سے پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا آدمی واپس چلا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ان لوگوں کے متعلق نہ بتاؤں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جو یہاں آکر بیٹھ گیا، اس نے ٹھکانہ پکڑا اور اللہ نے اسے ٹھکانہ دے دیا اور جو تمہارے آخر میں بیٹھا، اس نے حیاء کھائی سو اللہ نے بھی اس سے حیاء کھائی اور جو شخص چلا گیا تو اس نے اعراض کیا سو اللہ نے بھی اس سے اعراض کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21907]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2176
حدیث نمبر: 21908
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ نَافِعِ بْنِ سَرْجِسَ , قَالَ: عُدْنَا أَبَا وَاقِدٍ الْكِنْدِيَّ في مرضه الذي توفي فيه , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً بِالنَّاسِ , وَأَطْوَلَ النَّاسِ صَلَاةً لِنَفْسِهِ" . حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: أخبرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ نَافِعِ بْنِ سَرْجِسَ , قَالَ: عُدْنَا أَبَا وَاقِدٍ الْكِنْدِيَّ , قَالَ ابْنُ بَكْرٍ: الْبَدْرِيَّ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
نافع بن سرجس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت واقد رضی اللہ عنہ کے مرض الوفات میں ان کی بیمار پرسی کے لئے حاضر ہوئے تو میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھاتے وقت سب سے ہلکی نماز پڑھاتے تھے اور خود نماز پڑھتے وقت سب سے لمبی نماز پڑھتے تھے۔ صلی اللہ علیہ وسلم [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21908]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21909
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَيَعْلَى قَالَا: حدثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ صَفْوَانَ قَالَ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَذَكَرَهُ
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21910
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النُّوشَجَانِ وَهُوَ أَبُو جَعْفَرٍ السُّوَيْدِيُّ , حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ , حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ , عَنِ ابْنِ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَزْوَاجِهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " هَذِهِ , ثُمَّ ظُهُورَ الْحُصُرِ" .
حضرت ابو واقد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر ازواج مطہرات سے فرمایا یہ حج تم میرے ساتھ کر رہی ہو، اس کے بعد تمہیں گھروں میں بیٹھنا ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21910]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 21911
حَدَّثَنَا يُونُسُ , وَسُرَيْجٌ , قَالَا: حدثَنَا فُلَيْحٌ , عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , قَالَ: سَأَلَنِي عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ , عَمَّا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ؟ قَالَ سُرَيْجٌ: بِمَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْخُرُوجِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: " قَرَأَ اقْتَرَبَتْ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ" .
عبید اللہ بن عبداللہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید میں کہاں سے تلاوت فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا سورت ق اور سورت قمر سے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21911]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 891، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل فليح
حدیث نمبر: 21912
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ , حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ سَرْجِسَ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ , فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً عَلَى النَّاسِ , وَأَدْوَمَهُ عَلَى نَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
نافع بن سرجس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت واقد رضی اللہ عنہ کے مرض الوفات میں ان کی بیمار پرسی کے لئے حاضر ہوئے تو میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھاتے وقت سب سے ہلکی نماز پڑھاتے تھے اور خود نماز پڑھتے وقت سب سے لمبی نماز پڑھتے تھے۔ صلی اللہ علیہ وسلم [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21912]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن