مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
975. حَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 22036
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ لَا يَرُوحُ حَتَّى يُبْرِدَ , حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ , وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عزوہ تبوک میں ٹھنڈے وقت روانہ ہوئے تھے اور اس سفر میں ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کو اکٹھا کر کے پڑھتے رہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22036]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 706، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل هشام
حدیث نمبر: 22037
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ " وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ , وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً مُسِنَّةً , وَمِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا حَوْلِيًّا , وَأَمَرَنِي فِيمَا سَقَتْ السَّمَاءُ الْعُشْرَ , وَمَا سُقِيَ بِالدَّوَالِي نِصْفَ الْعُشْرِ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا تو مجھے حکم دیا کہ ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر یمنی کپڑا جس کا نام " معافر " ہے وصول کرنا ہر تیس گائے میں زکوٰۃ کے طور پر ایک سالہ گائے لینا اور ہر چالیس پر دو سالہ ایک گائے لینا نیز مجھے بارانی زمینوں میں عشر لینے اور چاہی زمینوں میں نصف عشر لینے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22037]
حکم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 22038
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ , عَنْ رَجُلٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَإِنَّهُ مَعَنَا" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مجاہد کے لئے سامان جہاد مہیا کرے یا اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ کا اچھی طرح خیال رکھے وہ ہمارے ساتھ شمار ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22038]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن معاذ وضعف أبى بكر
حدیث نمبر: 22039
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي:" يَا مُعَاذُ , أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟" , قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا , أَتَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟" , قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" يُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (گدھے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں جنت میں داخل کر دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22039]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2856، م: 30، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم، وخالد الحذاء لم يسمع من أبى عثمان النهدي
حدیث نمبر: 22040
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى , قَالَا: حدثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ: أَخبرنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ , قَالَ الْحَسَنُ: الْهُذَلِيِّ , عَنْ رَوْحِ بْنِ عَابِدٍ , عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ , فَقَالَ:" يَا مُعَاذُ" , قُلْتُ: لَبَّيْكَ , قَالَ: " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟" , قَالَ: فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَهَا ثَلَاثًا , فَقُلْتُ ذَلِكَ ثَلَاثًا , ثُمَّ قَالَ:" حَقُّهُ عَزَّ وَجَلَّ , أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا" , ثُمَّ قَالَ:" هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟" , فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَهَا ثَلَاثًا , وَقُلْتُ ذَلِكَ ثَلَاثًا , فَقَالَ:" حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ؟ أَنْ يَغْفِرَ لَهُمْ وَأَنْ يُدْخِلَهُمْ الْجَنَّةَ" ..
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں سرخ گدھے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ! میں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، تین مرتبہ یہ سوال جواب ہوئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں جنت میں داخل فرما دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22040]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2856، م: 30، وهذا إسناد ضعيف لجهالة روح وأبي العوام، وضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 22041
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , وَحُسْنٌ , قَالَا: حدثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ أَبِي رَزِينٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ:" أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِمَارٍ قَدْ شُدَّ عَلَيْهِ بَرْدَعَةٌ" , إِلَّا أَنَّ حَسَنًا جَمَعَ الْإِسْنَادَيْنِ فِي حَدِيثِهِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22041]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبو رزين لم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 22042
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ , وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ , قَالَا: حدثَنَا بَقِيَّةُ وَهُوَ ابْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْغَزْوُ غَزْوَانِ: فَأَمَّا مَنْ ابْتَغَى وَجْهَ اللَّهِ , وَأَطَاعَ الْإِمَامَ , وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ , وَيَاسَرَ الشَّرِيكَ , وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ , فَإِنَّ نَوْمَهُ وَنُبْهَهُ أَجْرٌ كُلُّهُ , وَأَمَّا مَنْ غَزَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَسُمْعَةً , وَعَصَى الْإِمَامَ , وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ , فَإِنَّهُ لَمْ يَرْجِعْ بِالْكَفَافِ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہاد دو طرح کا ہوتا ہے، جو شخص رضاء الہٰی کے حصول کے لئے جہاد کرتا ہے اپنے امیر کی اطاعت کرتا ہے، اپنی جان خرچ کرتا ہے شریک سفر کے لئے آسانی کا سبب بنتا ہے اور فتنہ و فساد سے بچتا ہے تو اس کا سونا اور جاگنا بھی باعث اجروثواب ہے اور جو شخص فخر، ریاکاری اور شہرت کے لئے جہاد کرتا ہے امام کی نافرمانی کرتا ہے اور زمین میں فساد پھیلاتا ہے تو وہ اتنا بھی ثواب لے کر واپس نہیں آتا جو بقدر کفایت ہی ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22042]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، بقية بن الوليد ضعيف و مدلس، ولا يقبل منه إلا أن يصرح بالسماع فى جميع طبقات السند
حدیث نمبر: 22043
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ , وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ , قَالَا: حدثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ , فَقَال: " هِيَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ , أَوْ فِي الْخَامِسَةِ , أَوْ فِي الثَّالِثَةِ" .
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ آخری دس دنوں میں ہوتی ہے یا آخری تین یا پانچ دنوں میں ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22043]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، بقية بن الوليد لم يصرح بالسماع فى جميع طبقات السند
حدیث نمبر: 22044
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى , قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَحَدَّثَنَاهُ الْحَكَمُ بن موسى , حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ مُعَاذٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَنْ يَنْفَعَ حَذَرٌ مِنْ قَدَرٍ , وَلَكِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ , فَعَلَيْكُمْ بِالدُّعَاءِ عِبَادَ اللَّهِ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تقدیر کے آگے تدبیر و احتیاط کچھ فائدہ نہیں دے سکتی البتہ دعاء ان چیزوں میں بھی فائدہ مند ہوتی ہے جو نازل ہوں یا جو نازل نہ ہوں لہٰذا بندگان خدا! دعاء کو اپنے اوپر لازم کرلو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22044]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شهر، ولم يسمع من معاذ، ورواية ابن عياش عن غير أهل بلده ضعيفة، وهذه منها
حدیث نمبر: 22045
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , وَأَبُو الْيَمَانِ , قَالَا: حدثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُطَيْبٍ السَّكُونِيِّ , عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ قَالَ أَبُو الْمُغِيرَةِ فِي حَدِيثِهِ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ , قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَلْحَمَةُ الْعُظْمَى , وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ , وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ , فِي سَبْعَةِ أَشْهُرٍ" .
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنگ عظیم، فتح قسطنطنیہ اور خروج دجال سب سات ماہ کے اندر ہوجائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22045]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى بكر والوليد بن سفيان، ولجهالة حال يزيد بن قطيب