مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
976. حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
حدیث نمبر: 22186
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ , حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ , أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَدْنُو الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى قَدْرِ مِيلٍ , وَيُزَادُ فِي حَرِّهَا كَذَا وَكَذَا , يَغْلِي مِنْهَا الْهَوَامُّ كَمَا تغْلِي الْقُدُورُ , يَعْرَقُونَ فِيهَا عَلَى قَدْرِ خَطَايَاهُمْ , مِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى كَعْبَيْهِ , وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى سَاقَيْهِ , وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى وَسَطِهِ , وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن سورج صرف ایک میل کی مسافت کے برابر قریب آجائے گا اور اس کی گرمی میں اتنا اضافہ ہوجائے گا کہ دماغ ہانڈیوں کی طرح ابلنے لگیں گے اور تمام لوگ اپنے اپنے گناہوں کے اعتبار سے پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے چنانچہ کسی کا پسینہ اس کے ٹخنوں تک ہوگا کسی کا پنڈلی تک کسی کا جسم کے درمیان تک اور کسی کے منہ میں پسینے کی لگام ہوگی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22186]
حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 22187
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَبْرِ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى سورة طه آية 55" , قَالَ: ثُمَّ لَا أَدْرِي أَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ , وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ أَمْ لَا؟ فَلَمَّا بَنَى عَلَيْهَا لَحْدَهَا , طَفِقَ يَطْرَحُ لَهُمْ الْجَبُوبَ , وَيَقُولُ:" سُدُّوا خِلَالَ اللَّبِنِ" , ثُمَّ قَالَ:" أَمَا إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ , وَلَكِنَّهُ يَطِيبُ بِنَفْسِ الْحَيِّ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ کو قبر میں اتارا جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " ہم نے تمہیں اس مٹی سے پیدا کیا، اسی میں واپس لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ نکالیں گے " اب یہ مجھے یاد نہیں رہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " بسم اللہ وفی سبیل اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم " کہا یا نہیں پھر جب لحد بن گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف ٹہنیاں پھینکیں اور فرمایا کہ اینٹوں کے درمیان کی خالی جگہیں اس سے پر کردو پھر فرمایا اس سے ہوتا کچھ نہیں ہے لیکن زندے خوش ہوجاتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22187]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر وعلي بن يزيد ضعيفان
حدیث نمبر: 22188
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هُوَ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ نُوحٍ وَهُوَ الْمَضْرُوبُ , حَدَّثَنَا أَبُو خُرَيْمٍ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ , حَدَّثَنِي أَبُو غَالِبٍ الرَّاسِبِيُّ , أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا أُمَامَةَ بِحِمْصَ , فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْيَاءَ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَسْمَعُ أَذَانَ صَلَاةٍ , فَقَامَ إِلَى وَضُوئِهِ , إِلَّا غُفِرَ لَهُ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تُصِيبُ كَفَّهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ , فَبِعَدَدِ ذَلِكَ الْقَطْرِ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ وُضُوئِهِ , إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِهِ , وَقَامَ إِلَى صَلَاتِهِ وَهِيَ نَافِلَةٌ" , قَالَ أَبُو غَالِبٍ: قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ: آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِي وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا , غَيْرَ مَرَّةٍ , وَلَا مَرَّتَيْنِ , وَلَا ثَلَاثٍ , وَلَا أَرْبَعٍ , وَلَا خَمْسٍ , وَلَا سِتٍّ , وَلَا سَبْعٍ , وَلَا ثَمَانٍ , وَلَا تِسْعٍ , وَلَا عَشْرٍ , وَعَشْرٍ وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ.
ابو غالب راسبی کہتے ہیں کہ شہر حمص میں ان کی ملاقات حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے کچھ سوالات حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھے اسی دوران حضرت ابو امام رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو بندہ مسلم نماز کے لئے اذان کی آواز سنتا ہے اور وضو کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے ہاتھوں پر پانی کا پہلا قطرہ ٹپکتے ہی اس کے گناہ معاف ہونے لگتے ہیں اور پانی کے ان قطرات کی تعداد کے اعتبار سے جب وہ وضو کر کے فارغ ہوتا ہے تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور جب وہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اس کے درجات کی بلندی کا سبب بنتی ہے۔ اور غالب نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے واقعی یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! اس ذات کی قسم جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بشیرونذیر بنا کر بھیجا تھا ایک دو مرتبہ نہیں دسیوں مرتبہ سنا ہے اور سارے اعداد ذکر کے دونوں ہاتھوں سے تالی بجائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22188]
حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى غالب
حدیث نمبر: 22189
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي , فَقَالَ: " أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا , يُصَلِّي مَعَهُ" , فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّى مَعَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَانِ جَمَاعَةٌ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو تنہا نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کوئی ہے جو اس پر صدقہ کرے یعنی اس کے ساتھ نماز میں شریک ہوجائے؟ یہ سن کر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ نماز پڑھنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دونوں جماعت ہوگئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22189]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر ضعيف، وعلي بن يزيد واهي الحديث
حدیث نمبر: 22190
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: وَحُدِّثْنَا بِهَذَا الْإِسْنَادِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَرَضَ عَلَيَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لِيَجْعَلَ لِي بَطْحَاءَ مَكَّةَ ذَهَبًا , فَقُلْتُ: لَا يَا رَبِّ وَلَكِنْ أَشْبَعُ يَوْمًا , وَأَجُوعُ يَوْمًا , أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ , فَإِذَا جُعْتُ , تَضَرَّعْتُ إِلَيْكَ وَذَكَرْتُكَ , وَإِذَا شَبِعْتُ حَمِدْتُكَ , وَشَكَرْتُكَ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پروردگار نے مجھے یہ پیشکش کی کہ وہ بطحاء مکہ کو میرے لئے سونے کا بنا دے لیکن میں نے عرض کیا کہ پروردگار! نہیں میں ایک دن بھوکا رہوں اور ایک دن سیراب ہوجاؤں تاکہ جب بھوکا رہوں تو تیری بارگاہ میں عاجزی وزاری کروں اور تجھے یاد کروں اور جب سیراب ہوں تو تیری تعریف اور شکر ادا کروں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22190]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا ، عبيدالله بن زحر ضعيف، وعلي بن يزيد واهي الحديث
حدیث نمبر: 22191
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: " أَحَبُّ مَا تَعَبَّدَنِي بِهِ عَبْدِي إِلَيَّ , النُّصْحُ لِي" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے نزدیک بندے کی سب سے پسندیدہ عبادت " جو وہ میری کرتا ہے " میرے ساتھ خیر خواہی ہے (میرے احکامات پر عمل کرنا) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22191]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف جدا ، عبيد الله بن زحر ضعيف، وعلي بن يزيد واهي الحديث
حدیث نمبر: 22192
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ بَدَأَ بِالسَّلَامِ , فَهُوَ أَوْلَى بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص سلام میں پہل کرتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22192]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر ضعيف، وعلي بن يزيد واهي الحديث
حدیث نمبر: 22193
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا أَبَانُ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي سَلَّامٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ , فَإِنَّهُ يَأْتِي شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِصَاحِبِهِ , اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ , فَإِنَّهُمَا يَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ , أَوْ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ , أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ يُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا , اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ , فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ , وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ , وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کیا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا، دو روشن سورتیں یعنی سورت بقرہ اور آل عمران کی تلاوت کیا کرو کیونکہ یہ دونوں سورتیں قیامت کے دن سائبانوں کی شکل یا پرندوں کی دو صف بستہ ٹولیوں کی شکل میں آئیں گی اور اپنے پڑھنے والوں کا دفاع کریں گی پھر فرمایا سورت بقرہ کی تلاوت کیا کرو کیونکہ اس کا حاصل کرنا برکت اور چھوڑنا حسرت ہے اور باطل (جادوگر) اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22193]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وفي سماع يحيى من زيد بن سلام خلاف
حدیث نمبر: 22194
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي طَالِبٍ الضُّبَعِيِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَأَنْ أَقْعُدَ أَذْكُرُ اللَّهَ , وَأُكَبِّرُهُ , وَأَحْمَدُهُ , وَأُسَبِّحُهُ وَأُهَلِّلُهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ , أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ رَقَبَتَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ , وَمِنْ بَعْدِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ , أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے نزدیک طلوع آفتاب کے وقت اللہ کا ذکر کرنا اللہ اکبر لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ کہنا اولاد اسماعیل علیہ السلام میں سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے اسی طرح نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کا ذکر کرنا میرے نزدیک اولاد اسماعیل علیہ السلام میں سے اتنے اتنے غلام آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22194]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 22195
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ , حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيُّ , عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , فَقَالَ: " اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ" , قَالَ: فَغَزَوْنَا , فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا , قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا ثَانِيًا , فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , قَالَ:" اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ" , قَالَ: فَغَزَوْنَا , فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا , قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا ثَالِثًا , فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَدْ أَتَيْتُكَ تَتْرَى مَرَّتَيْنِ , أَسْأَلُكَ أَنْ تَدْعُوَ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , فَقُلْتَ: اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ , يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ , فَقَالَ:" اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ" , قَالَ: فَغَزَوْنَا , فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا , ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مُرْنِي بِعَمَلٍ آخُذُهُ عَنْكَ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ , قَالَ:" عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ , فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ" , قَالَ: فَكَانَ أَبُو أُمَامَةَ , وَامْرَأَتُهُ , وَخَادِمُهُ , لَا يُلْفَوْنَ إِلَّا صِيَامًا فَإِذَا رَأَوْا نَارًا , أَوْ دُخَانًا بِالنَّهَارِ فِي مَنْزِلِهِمْ , عَرَفُوا أَنَّهُمْ اعْتَرَاهُمْ ضَيْفٌ , قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ قَدْ أَمَرْتَنِي بِأَمْرٍ , وَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ نَفَعَنِي بِهِ , فَمُرْنِي بِأَمْرٍ آخَرَ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ , قَالَ:" اعْلَمْ أَنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً , إِلَّا رَفَعَ اللَّهُ لَكَ بِهَا دَرَجَةً , أَوْ حَطَّ , أَوْ قَالَ: وَحَطَّ , شَكَّ مَهْدِيٌّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر ترتییب دیا (جس میں میں بھی تھا) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میرے حق میں اللہ سے شہادت کی دعاء کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعاء کی کہ اے اللہ! انہیں سلامت رکھ اور مال غنیمت عطاء فرما، چنانچہ ہم مال غنیمت کے ساتھ صحیح سالم واپس آگئے (دوربارہ لشکر ترتیب دیا تو پھر میں نے یہی عرض کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دعاء دی) تیسری مرتبہ جب لشکر ترتیب دیا تو میں نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! میں اس سے پہلے بھی دو مرتبہ آپ کے پاس آچکا ہوں، میں نے آپ سے یہ درخواست کی تھی کہ اللہ سے میرے حق میں شہادت کی دعاء کر دیجئے لیکن آپ نے سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے لہٰذا یا رسول اللہ! اب تو میرے لئے شہادت کی دعا فرما دیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے۔ اس کے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کسی عمل کا حکم دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے اوپر روزے کو لازم کرلو کیونکہ روزے کی حالت ہی میں ملے اور اگر دن کے وقت ان کے گھر سے دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دیتا تو لوگ سمجھ جاتے کہ آج ان کے یہاں کوئی مہمان آیا ہے۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عرصہ تک میں اس پر عمل کرتا رہا جب تک اللہ کو منظور ہوا پھر میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے مجھے روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا مجھے امید ہے کہ اللہ نے ہمیں اس کی برکتیں عطاء فرمائی ہیں اب مجھے کوئی اور عمل بتا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات پر یقین رکھو کہ اگر تم اللہ کے لئے ایک سجدہ کرو گے تو اللہ اس کی برکت سے تمہارا ایک درجہ بلند کر دے گا اور ایک گناہ معاف کر دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22195]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح