مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
976. حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
حدیث نمبر: 22156
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ الْخَبَائِرِيِّ , وَأَبِي الْيَمَانِ الْهَوْزَنِيِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ" , فَقَالَ يَزِيدُ بْنُ الْأَخْنسَ السُّلَمِيُّ: وَاللَّهِ مَا أُولَئِكَ فِي أُمَّتِكَ إِلَّا كَالذُّبَابِ الْأَصْهَبِ فِي الذِّبَّانِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَعَدَنِي سَبْعِينَ أَلْفًا مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا , وَزَادَنِي ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ" , قَالَ: فَمَا سِعَةُ حَوْضِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: " كَمَا بَيْنَ عَدَنَ إِلَى عُمَانَ , وَأَوْسَعَ , وَأَوْسَعَ" يُشِيرُ بِيَدِهِ , قَالَ:" فِيهِ مَثْعَبَانِ مِنْ ذَهَبٍ , وَفِضَّةٍ" , قَالَ: فَمَا حَوْضُكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ , وَأَحْلَى مَذَاقَةً مِنَ الْعَسَلِ , وَأَطْيَبُ رَائِحَةً مِنَ الْمِسْكِ , مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا , وَلَمْ يَسْوَدَّ وَجْهُهُ أَبَدًا" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میری امت کے ستر ہزار آدمیوں کو بلاحساب کتاب جنت میں داخل فرمائے گا، یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ یہ سن کر کہنے لگے بخدا! یہ تو آپ کی امت میں سے صرف اتنے ہی لوگ ہوں گے جیسے مکھیوں میں سرخ مکھی ہوتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے رب نے مجھ سے ستر ہزار کا وعدہ اس طرح کیا ہے کہ ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے اور اس پر تین گنا کا مزید اضافہ ہوگا، یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ نے پوچھا اے اللہ کے نبی! آپ کے حوض کی وسعت کتنی ہوگی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنی عدن اور عمان کے درمیان ہے اس سے بھی دوگنی جس میں سونے چاندی کے دو پرنالوں سے پانی گرتا ہوگا، انہوں نے پوچھا اے اللہ کے نبی! آپ کے حوض کا پانی کیسا ہوگا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ شیرین اور مشک سے زیادہ مہکتا ہوا جو شخص ایک مرتبہ اس کا پانی پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا اور اس کے چہرے کا رنگ کبھی سیاہ نہ ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22156]
حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 22157
قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ , وَقَدْ ضَرَبَ عَلَيْهِ , فَظَنَنْتُ أَنَّهُ قَدْ ضَرَبَ عَلَيْهِ لِأَنَّهُ خَطَأٌ , إِنَّمَا هُوَ: عَنْ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي سَلَّامٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ , فَإِنَّهُ شَافِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , تَعَلَّمُوا الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ , تَعَلَّمُوا الزَّهْرَاوَيْنِ , فَإِنَّهُمَا يَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ , أَوْ غَيَايَتَانِ , أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ , يُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا , تَعَلَّمُوا الْبَقَرَةَ فَإِنَّ تَعْلِيمَهَا بَرَكَةٌ , وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ , وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ" .
امام احمد رحمہ اللہ کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ یہ حدیث میں نے اپنے والد صاحب کی تحریرات میں ان کی اپنی لکھائی سے لکھی ہوئی پائی ہے لیکن اس پر انہوں نے نشان لگایا ہوا تھا جس کی وجہ سے میرے خیال کے مطابق سند کی غلطی ہے، یہ حدیث زید نے ابو سلام کے حوالے سے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی تھی، وہ حدیث یہ ہے۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم کو سیکھو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا دو روشن سورتیں یعنی سورت بقرہ اور آل عمران کو سیکھو، کیونکہ یہ دونوں سورتیں قیامت کے دن سائبانوں کی شکل یا پرندوں کی دو صف بستہ ٹولیوں کی شکل میں آئیں گی اور اپنے پڑھنے والوں کا دفاع کریں گی پھر فرمایا سورت بقرہ کو سیکھو کیونکہ اس کا حاصل کرنا برکت اور چھوڑنا حسرت ہے اور باطل (جادوگر) اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22157]
حکم دارالسلام: حديث صحيح ممعر أخطأ فيه، فقال: عن يحيى عن أبى سلمة، وإنما هو عن يحيى، عن زيد بن سلام، عن جده أبى سلام، أو عن يحيى عن أبى سلام
حدیث نمبر: 22158
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَتَشٍ , حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ , عَنْ مُعَلَّى يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الْجِهَادِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهُ حَتَّى إِذَا رَمَى الثَّانِيَةَ , عَرَضَ لَهُ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الْجِهَادِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهُ , ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا اعْتَرَضَ فِي الْجَمْرَةِ الثَّالِثَةِ , عَرَضَ لَهُ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الْجِهَادِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: " كَلِمَةُ حَقٍّ تُقَالُ لِإِمَامٍ جَائِرٍ" , قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ فِي حَدِيثِهِ: وَكَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ: لِإِمَامٍ ظَالِمٍ.
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جمرات کو کنکریاں مار رہے تھے اس نے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ! سب سے زیادہ پسندیدہ جہاد اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون سا جہاد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر وہ جمرہ ثانیہ کے پاس دوبارہ حاضر ہوا اور یہی سوال دہرایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر خاموش رہے پھر وہ جمرہ ثالثہ کے پاس دوبارہ حاضر ہوا اور یہی سوال دہرایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حق بات جو کسی ظالم بادشاہ کے سامنے کہی جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22158]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، وحديث أبى أمامة هذا فيه أبو غالب البصري، وهو ممن يعتبر به فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 22159
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا رَبَاحٌ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: مَا الْإِثْمُ؟ فَقَالَ: " إِذَا حَكَّ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ" , قَالَ: فَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ:" إِذَا سَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ , وَسَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ , فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایمان کیا ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں اپنی برائی سے غم اور نیکی سے خوشی ہو تو تم مؤمن ہو گناہ کیا ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی چیز تمہارے دل میں کھٹکے تو اسے چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22159]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وفي سماع يحيى بن أبى كثير من زيد بن سلام خلاف، وقد توبع
حدیث نمبر: 22160
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ حَبِيبٍ حَدَّثَهُمْ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لتُنْقَضَنَّ عُرَى الْإِسْلَامِ , عُرْوَةً عُرْوَةً , فَكُلَّمَا انْتَقَضَتْ عُرْوَةٌ , تَشَبَّثَ النَّاسُ بِالَّتِي تَلِيهَا , وَأَوَّلُهُنّ نَقْضًا الْحُكْمُ , وَآخِرُهُنَّ الصَّلَاةُ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسلام کی ایک ایک رسی کو چن چن کر توڑ دیا جائے گا اور جب ایک رسی ٹوٹ جایا کرے گی تو لوگ دوسری کے پیچھے پڑجایا کریں گے سب سے پہلے ٹوٹنے والی رسی انصاف کی ہوگی اور سب سے آخر میں ٹوٹنے والی نماز ہوگی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22160]
حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 22161
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ , حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ عَلَى الْجَدْعَاءِ , وَاضِعٌ رِجْلَهُ فِي غَرَازِ الرَّحْلِ يَتَطَاوَلُ , يَقُولُ:" أَلَا تَسْمَعُونَ؟" , فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آخِرِ الْقَوْمِ: مَا تَقُولُ؟ قَالَ: " اعْبُدُوا رَبَّكُمْ , وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ , وَصُومُوا شَهْرَكُمْ , وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ , وَأَطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ , تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ" , قُلْتُ لَهُ: فَمُذْ كَمْ سَمِعْتَ هَذَا الْحَدِيثَ يَا أَبَا أُمَامَةَ؟ قَالَ: وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثِينَ سَنَةً.
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ حجۃ الوداع سنا ہے بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور پاؤں سواری کی رکاب میں رکھے ہوئے تھے جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونچے ہوگئے تھے اور فرما رہے تھے کیا تم سنتے نہیں؟ تو سب سے آخری آدمی نے کہا کہ آپ کیا فرمانا چاہتے ہیں (ہم تک آواز پہنچ رہی ہے اور ہم سن رہے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے رب کی عبادت کرو، پنج گانہ نماز ادا کرو، ایک مہینے کے روزے رکھو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرو اپنے امیر کی اطاعت کرو اور اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ۔ راوی نے حضرت امامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ یہ حدیث آپ نے کس عمر میں سنی تھی تو انہوں نے فرمایا کہ جب میں تیس سال کا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22161]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22162
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , وَعَبْدِ الْوَهَّابِ , عَنْ هِشَامٍ , وَأَزْهَرَ بْنِ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: أَبُو أُمَامَةَ الْحِمْصِيُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْوُضُوءُ يُكَفِّرُ مَا قَبْلَهُ , ثُمَّ تَصِيرُ الصَّلَاةُ نَافِلَةً" , فَقِيلَ لَهُ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ , غَيْرَ مَرَّةٍ , وَلَا مَرَّتَيْنِ , وَلَا ثَلَاثٍ , وَلَا أَرْبَعٍ , وَلَا خَمْسٍ.
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو گزشتہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور نماز انعامات کا سبب بنتی ہے کسی نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! ایک دو یا تین چار اور پانچ مرتبہ نہیں (بےشمار مرتبہ سنی ہے) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22162]
حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذه الأسانيد وإن كان مدارها على شهر، وهو ضعيف، وقد توبع
حدیث نمبر: 22163
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ الْيَمَامِيُّ , عَنْ شَدَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ , فَجَاءَهُ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ , قَالَ: فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ , قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا فَرَغَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَتَبِعَهُ الرَّجُلُ , وَتَبِعْتُهُ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللَّهِ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَيْسَ خَرَجْتَ مِنْ مَنْزِلِكَ , تَوَضَّأْتَ فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوءَ , وَصَلَّيْتَ مَعَنَا؟" , قَالَ الرَّجُلُ: بَلَى , قَالَ:" فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَفَرَ لَكَ حَدَّكَ" أَوْ" ذَنْبَكَ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! مجھ سے گناہ سرزد ہوگیا ہے لہٰذا مجھے کتاب اللہ کی روشنی میں سزا دے دیجئے اسی دوران نماز کھڑی ہوگئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور فراغت کے بعد جب واپس جانے لگے تو وہ آدمی بھی پیچھے پیچھے چلا گیا میں بھی اس کے پیچھے چلا گیا، اس نے پھر اپنی بات دہرائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا ایسا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ نے تمہارا گناہ معاف کردیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22163]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2765، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22164
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ , حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ , عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا ضَلَّ قَوْمٌ بَعْدَ هُدًى كَانُوا عَلَيْهِ إِلَّا أُوتُوا الْجَدَلَ" , ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلا جَدَلا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ سورة الزخرف آية 58 .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہدایت پر گامزن ہونے کے بعد جو قوم بھی دوبارہ گمراہ ہوتی ہے وہ لڑائی جھگڑوں میں پڑجاتی ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی یہ لوگ آپ کے سامنے جھگڑے کے علاوہ کچھ نہیں رکھتے بلکہ یہ تو جھگڑالو لوگ ہیں " [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22164]
حکم دارالسلام: حديث حسن بطرقه وشواهده، أبو غالب يعتبر به فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 22165
حَدَّثَنَا يَزِيد ُهُوَ ابْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ , عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحُمَّى مِنْ كِيرِ جَهَنَّمَ , فَمَا أَصَابَ الْمُؤْمِنَ مِنْهَا كَانَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخار جہنم کی بھٹی کا اثر ہوتا ہے اگر مسلمان کو بخار ہوتا ہے تو وہ جہنم سے اس کا حصہ ہوتا ہے (جو دنیا میں اسے دے دیا جاتا ہے اور آخرت میں اسے جہنم سے پچالیا جاتا ہے) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22165]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، أبو حصين إن كان هو مروان بن رؤبة الشامي فهو ثقة، وإن كان هو راو آخر فهو مجهول