🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

976. حَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22166
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ , عَنْ جَدِّهِ مَمْطُورٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: " إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ , وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ , فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ" , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَمَا الْإِثْمُ؟ قَالَ:" إِذَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایمان کیا ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں اپنی برائی سے غم اور نیکی سے خوشی ہو تو تم مؤمن ہو اس نے پوچھا کہ گناہ کیا ہوتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی چیز تمہارے دل میں کھٹکے تو اسے چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22166]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وفي سماع يحيى من زيد بن سلام خلاف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22167
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَغْبَطَ أَوْلِيَائِي عِنْدِي مُؤْمِنٌ خَفِيفُ الْحَاذِ , ذُو حَظٍّ مِنْ صَلَاةٍ , أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ , وَكَانَ فِي النَّاسِ غَامِضًا لَا يُشَارُ عَلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ , فَعُجِّلَتْ مَنِيَّتُهُ , وَقَلَّ تُرَاثُهُ , وَقَلَّتْ بَوَاكِيهِ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نزدیک سب سے زیادہ قابل رشک دوست وہ ہے جو ہلکے پھلکے سامان والا ہو نماز کا بہت ساحصہ رکھتا ہو اپنے رب کی عمدگی سے عبادت کرتا ہو، لوگوں کی نظروں میں مخفی ہو انگلیوں سے اس کی طرف اشارے نہ کئے جاتے ہوں، اس کی موت جلدی آجائے، اس کی وراثت بھی تھوڑی ہو اور اس پر رونے والے بھی تھوڑے ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22167]

حکم دارالسلام: ضعيف جدا شبه موضوع، أبو المهلب، وعبيد الله بن زحر ضعيفان، وعلي بن يزيد واهي الحديث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22168
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا ثَوْرٌ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ , أَوْ رُفِعَتْ مَائِدَتُهُ , قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ , غَيْرَ مَكْفِيٍّ , وَلَا مُوَدَّعٍ , وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے سے فارغ ہوجاتے یا دستر خوان اٹھا لیا جاتا تو یہ دعاء پڑھتے الحمد للہ کثیرا طیبا مبارکا فیہ غیر مکفی ولا مودع ولا مستغنی عنہ ربنا عزوجل۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22168]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22169
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا خَّالدٌ الصَّفَّارُ , سَمِعَهُ مِنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ بَيْعُ الْمُغَنِّيَاتِ , وَلَا شِرَاؤُهُنَّ , وَلَا تِجَارَةٌ فِيهِنَّ , وَأَكْلُ أَثْمَانِهِنَّ حَرَامٌ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گانا گانے والی باندیوں کو پیچنا خریدنا اور ان کی تجارت کرنا جائز نہیں ہے اور ان کی قیمت (کمائی) کھانا حرام ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22169]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، عبيدالله بن زحر وعلي بن زيد ضعيفان خالد الصفار محرف، صوابه: خلاد الصفار
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22170
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ , قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُطْبَعُ الْمُؤْمِنُ عَلَى الْخِلَالِ كُلِّهَا إِلَّا الْخِيَانَةَ وَالْكَذِبَ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مؤمن کی ہر عادت پر مہر لگائی جاسکتی ہے لیکن خیانت اور جھوٹ پر نہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22170]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لإبهام الواسطة بين الأعمش وأبي امامة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22171
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ شِمْرٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ , خَرَجَتْ ذُنُوبُهُ مِنْ سَمْعِهِ , وَبَصَرِهِ , وَيَدَيْهِ , وَرِجْلَيْهِ , فَإِنْ قَعَدَ قَعَدَ مَغْفُورًا لَهُ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان وضو کرتا ہے تو اس کے کان، آنکھ ہاتھ اور پاؤں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ بیٹھتا ہے تو بخشا بخشایا ہوا بیٹھتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22171]

حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22172
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ قَتَادَةَ . وَهَاشِمٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ , أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْجَعْدِ يُحَدِّثُ , قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ: أَبُو الْجَعْدِ مَوْلًى لِبَنِي ضُبَيْعَةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ دِينَارًا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ: " كَيَّةٌ" , قَالَ: ثُمَّ تُوُفِّيَ آخَرُ , فَتَرَكَ دِينَارَيْنِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيَّتَانِ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اصحاب صفہ میں سے ایک آدمی فوت ہوگیا اور ایک دینار چھوڑ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جہنم کا ایک داغ ہے، کچھ عرصے بعد ایک اور آدمی فوت ہوگیا اور وہ دو دینار چھوڑ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دو داغ ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22172]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات من أجل أبى الجعد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22173
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ , عَنْ مَنْصُورٍ , قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا , قَالَ حَجَّاجٌ: عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ , قَالَ: ذُكِرَ لِي عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ , وَمَعَهَا صَبِيَّانِ لَهَا , فَأَعْطَاهَا ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ , فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً , قَالَ: ثُمَّ إِنَّ أَحَدَ الصَّبِيَّيْنِ بَكَى , قَالَ: فَشَقَّتْهَا , فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدٍ نِصْفًا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَامِلَاتٌ وَالِدَاتٌ رَحِيمَاتٌ بِأَوْلَادِهِنَّ , لَوْلَا مَا يَصْنَعْنَ بِأَزْوَاجِهِنَّ , لَدَخَلَ مُصَلِّيَاتُهُنَّ الْجَنَّةَ" .
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت اپنے دو بچوں کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مانگنے کے لئے آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین کھجوریں دیں، اس نے دونوں بچوں کو ایک کھجور دے دی (اور تیسری خود کھانے کے لئے اٹھائی) اتنی دیر میں ایک بچہ رونے لگا اس نے تیسری کھجور کے دو ٹکڑے کئے اور دونوں بچوں کو ایک ایک ٹکڑا دے دیا (اور خودبھو کی رہ گئی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا بچوں کو اٹھانے والی یہ مائیں اپنی اولاد پر کتنی مہربان ہوتی ہیں، اگر یہ چیز نہ ہوتی جو یہ اپنے شوہروں کے ساتھ کرتی ہیں تو ان کی نمازیں جنت میں داخل ہوجائیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22173]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف بهذه السياقة ، فهو منقطع بين سالم و أبى أمامة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22174
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْحِمْصِيِّ , قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ , فَوُجِدَ فِي مِئْزَرِهِ دِينَارٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيَّةٌ" , قَالَ: ثُمَّ تُوُفِّيَ آخَرُ , فَوُجِدَ فِي مِئْزَرِهِ دِينَارَانِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيَّتَانِ" ..
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اصحاب صفہ میں سے ایک آدمی فوت ہوگیا اور ایک دینار چھوڑ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جہنم کا ایک داغ ہے، کچھ عرصے بعد ایک اور آدمی فوت ہوگیا اور وہ دو دینار چھوڑ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دو داغ ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22174]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 22175
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22175]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں