مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
995. وَمِنْ حَدِيثِ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 22402
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُؤْذُوا عِبَادَ اللَّهِ، وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ، وَلَا تَطْلُبُوا عَوْرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنْ طَلَبَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، طَلَبَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ حَتَّى يَفْضَحَهُ فِي بَيْتِهِ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بندوں کو مت ستایا کرو، انہیں عار مت دلایا کرو اور ان کے عیوب تلاش نہ کیا کرو کیونکہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیوب تلاش کرتا ہے اللہ اس کے عیوب کو تلاش کرنے لگتا ہے حتیٰ کہ اسے اس کے گھر کے اندر ہی رسوا کردیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22402]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22403
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر جہاد کرتا رہے گا جو ہمیشہ غالب رہے گا اور ان کی مخالفت کرنے والا کوئی شخص انہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آجائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22403]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 19020
حدیث نمبر: 22404
حَدَّثَنَا يُونُسُ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ، قَالَ: عَفَّانُ: عَنْ ثَوْبَانَ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ" , وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ ابْنُ مَهْدِيٍّ.
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب کوئی مسلمان آدمی اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے باغات کی سیر کرتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22404]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2568
حدیث نمبر: 22405
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقْ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَضْمَنُ لِي وَاحِدَةً وَأَضْمَنُ لَهُ الْجَنَّةَ؟" قَالَ: قُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" لَا تَسْأَلْ النَّاسَ شَيْئًا" , قَالَ: فَكَانَ سَوْطُ ثَوْبَانَ يَسْقُطَُ وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ، فَيُنِيخُ حَتَّى يَأْخُذَهُ، وَمَا يَقُولُ لِأَحَدٍ: نَاوِلْنِيهِ.
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھے ایک چیز کی ضمانت دے دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں؟ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں سے کسی چیز کا سوال مت کرنا انہوں نے عرض کیا ٹھیک ہے چنانچہ انہوں نے اس کے بعد کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا حتیٰ کہ اگر وہ سوار ہوتے اور ان کا کوڑا گرپڑتا تو وہ بھی کسی سے اٹھانے کے لئے نہ کہتے خود اتر کر اسے اٹھاتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22405]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، وقد توبع
حدیث نمبر: 22406
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى عِيَالِهِ، ثُمَّ عَلَى نَفْسِهِ، ثُمَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ" , قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: فَيَبْدَأُ بِالْعِيَالِ , وقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ: وَلَمْ يَرْفَعْهُ , دِينَارٌ أَنْفَقَهُ رَجُلٌ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل دینار وہ ہے جو آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے یا اللہ کے راستہ میں اپنی سواری پر خرچ کرے یا اللہ کے راستہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22406]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 994
حدیث نمبر: 22407
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی مسلمان آدمی اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے باغات کی سیر کرتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22407]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم، لكنه توبع ،
حدیث نمبر: 22408
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الطَّالَقَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ ، حَدَّثَنِي ثَوْبَانُ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ، قَالَ: " أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ" ثَلَاثًا , ثُمَّ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجِلَالِ وَالْإِكْرَامِ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے اور پھر یہ دعاء کرتے کہ اے اللہ! تو ہی حقیقی سلامتی والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی مل سکتی ہے اے بزرگی اور عزت والے! تیری ذات بڑی بابرکت ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22408]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 591
حدیث نمبر: 22409
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ مَعْدَانَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَنَا بِعُقْرِ حَوْضِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَذُودُ عَنْهُ النَّاسَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ، وَأَضْرِبُهُمْ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ عَنْهُمْ" , قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا سَعَتُهُ؟ قَالَ:" مِنْ مَقَامِي إِلَى عُمَانَ، يَغُتُّ فِيهِ مِيزَابَانِ يَمُدَّانِهِ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میں اپنے حوض کے پچھلے حصے میں ہوں گا اور اہل یمن کے لئے لوگوں کو ہٹا رہا ہوں گا اور انہیں اپنی لاٹھی سے ہٹاؤں گا یہاں تک کہ وہ چھٹ جائیں گے کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اس کی وسعت کتنی ہوگی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس جگہ سے عمان تک فاصلے کے برابر جس میں دو پرنالے گرتے ہوں گے اور اس کے پانی میں اضافہ کرتے ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22409]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2301
حدیث نمبر: 22410
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِيعِ فِي ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ بِرَجُلٍ يَحْتَجِمُ، فَقَالَ: " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ماہ رمضان کی اٹھارہ تاریخ کو جنت البقیع میں سینگی لگواتے ہوئے ایک آدمی کے پاس سے گذرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22410]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22411
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي مَعْدَانُ ، قَالَ: قُلْتُ: لِثَوْبَانَ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِّثْنَا حَدِيثًا يَنْفَعُنَا اللَّهُ بِهِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً، إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً" .
معدان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنا دیجئے جس کی برکت سے اللہ مجھے نفع عطاء فرما دے، انہوں نے فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو بندہ اللہ کی رضا کے لئے ایک سجدہ کرے گا تو اس کی برکت سے اس کا ایک درجہ بلند کر دے گا اور ایک گناہ معاف فرما دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22411]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 488