مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
995. وَمِنْ حَدِيثِ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 22412
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ الذِّمَارِيِّ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ فَشَهْرٌ بِعَشَرَةِ أَشْهُرٍ، وَصِيَامُ سِتَّةِ أَيَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ فَذَلِكَ تَمَامُ صِيَامِ السَّنَةِ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھ لے تو وہ ایک مہینہ دس مہنیوں کے برابر ہوگا اور عیدالفطر کے بعد چھ دن کے روزے رکھ لینے سے پورے سال کے روزوں کا ثواب ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22412]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22413
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ، وَلَا يَزِيدُ فِي الْعُمُرِ إِلَّا الْبِرُّ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تقدیر کو دعاء کے علاوہ کوئی چیز نہیں ٹال سکتی اور عمر میں نیکی کے علاوہ کوئی چیز اضافہ نہیں کرسکتی اور انسان بعض اوقات اس گناہ کی وجہ سے بھی رزق سے محروم ہوجاتا ہے جو اس سے صادرہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22413]
حکم دارالسلام: حسن لغيره دون قوله: وإن العبد ليحرم الرزق ....، وهذا إسناد ضعيف، عندالله بن أبى الجعد مجهول، ولم يسمع من ثوبان
حدیث نمبر: 22414
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ , وَعِصَامُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اسْتَقِيمُوا تُفْلِحُوا، وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةُ، وَلَنْ يُحَافِظَ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ" , وَقَالَ عِصَامٌ:" وَلَا يُحَافِظُ".
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ثابت قدم رہو کامیاب ہوجاؤ گے تمہارا سب سے بہترین عمل نماز ہے اور وضو کی پابندی وہی کرتا ہے جو مؤمن ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22414]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عبدالرحمن بن ميسرة لم يسمع من ثوبان
حدیث نمبر: 22415
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَحِلُّ لَامْرِئٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَنْظُرَ فِي جَوْفِ بَيْتِ امْرِئٍ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ، فَإِنْ نَظَرَ فَقَدْ دَخَلَ، وَلَا يَؤُمَّ قَوْمًا فَيَخْتَصَّ نَفْسَهُ بِدُعَاءٍ دُونَهُمْ، فَإِنْ فَعَلَ فَقَدْ خَانَهُمْ، وَلَا يُصَلِّ وَهُوَ حَقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ" ..
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان آدمی کے لئے حلال نہیں ہے کہ اجازت لئے بغیر کسی شخص کے گھر میں نظر بھی ڈالے اگر اس نے دیکھ لیا تو گویا داخل ہوگیا اور کوئی ایسا شخص جو کچھ لوگوں کی امامت کرتا ہو مقتدیوں کو چھوڑ کر صرف اپنے لئے دعاء نہ کیا کرے کیونکہ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو ان کے ساتھ خیانت کرتا ہے اور کوئی آدمی پیشاب وغیرہ کا تقاضا دبا کر نماز نہ پڑھے بلکہ پہلے ہلکا پھلکا ہوجائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22415]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قصة دعاء الإمام لنفسه، وقد تفرد بها يزيد بن شريح وهو ممن يعتبر به فى المتابعات والشواهد، وقد اختلف على يزيد بن شريح فى إسناد هذا الحديث
حدیث نمبر: 22416
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْخَطَّابِيَّ , حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ بِإِسْنَادِهِ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22416]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قصة دعاء الإمام لنفسه، وهذا إسناد ضعيف لضعف بقية، و يزيد بن شريح قد اضطرب فى هذا الحديث
حدیث نمبر: 22417
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَلَاعِيِّ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لِكُلِّ سَهْوٍ سَجْدَتَانِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر سہو کے لئے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22417]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف زهير
حدیث نمبر: 22418
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ ، قَالَ شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ : مَرِضَ ثَوْبَانُ بِحِمْصَ، وَعَلَيْهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ الْأَزْدِيُّ، فَلَمْ يَعُدْهُ، فَدَخَلَ عَلَى ثَوْبَانَ رَجُلٌ مِنَ الْكَلَاعِيِّينَ عَائِدًا، فَقَالَ لَهُ ثَوْبَانُ: أَتَكْتُبُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ , فَقَالَ: اكْتُبْ فَكَتَبَ لِلْأَمِير عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ: مِنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ لِمُوسَى وَعِيسَى مَوْلًى بِحَضْرَتِكَ لَعُدْتَهُ ثُمَّ طَوَى الْكِتَابَ، وَقَالَ لَهُ: أَتُبَلِّغُهُ إِيَّاهُ؟ فَقَالَ: نَعَمْ , فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ بِكِتَابِهِ، فَدَفَعَهُ إِلَى ابْنِ قُرْطٍ، فَلَمَّا قَرَأَهُ قَامَ فَزِعًا، فَقَالَ النَّاسُ: مَا شَأْنُهُ؟ أَحَدَثَ أَمْرٌ؟ فَأَتَى ثَوْبَانَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ فَعَادَهُ وَجَلَسَ عِنْدَهُ سَاعَةً، ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ ثَوْبَانُ بِرِدَائِهِ، وَقَالَ اجْلِسْ حَتَّى أُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ، مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا" .
شریح بن عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ شہر " حمص " میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے اس زمانے میں حمص کے گورنر حضرت عبداللہ بن قرط ازدی رضی اللہ عنہ تھے وہ حضترت ثوبان رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے نہیں آئے اسی دوران کلاعیین کا ایک آدمی حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے آیا تو انہوں نے اس سے پوچھا کیا تم لکھنا جانتے ہو؟ اس نے کہا جی ہاں! حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے فرمایا لکھو، چنانچہ اس نے گورنر حمص حضرت عبداللہ بن قرط ازدی رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان کی طرف سے اما بعد! اگر تمہارے علاقے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی غلام ہوتا تو تم اس کی عیادت کو ضرور جاتے پھر خط لپیٹ کر فرمایا کیا تم یہ خط انہیں پہنچا دوگے؟ اس نے حامی بھرلی اور وہ خط لے جا کر حضرت عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کردیا۔ وہ خط پڑھتے ہی گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے لوگ جسے دیکھ کر حیرانگی سے کہنے لگے کہ انہیں کیا ہوا؟ کوئی عجیب واقعہ پیش آیا ہے؟ وہ وہاں سے سیدھے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کے ہاں پہنچے گھر میں داخل ہوئے ان کی عیادت کی اور تھوڑی دیر بیٹھ کر اٹھ کھڑے ہوئے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے ان کی چادر پکڑ کر فرمایا بیٹھ جائیے تاکہ میں آپ کو ایک حدیث سنا دوں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کے ستر ہزار ایسے آدمی جنت میں ضرور داخل ہوں گے جن کا کوئی حساب ہوگا اور نہ عذاب اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار افراد مزید ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22418]
حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح لغيره، وفي سماع شريح بن عبيد من ثوبان نظر
حدیث نمبر: 22419
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عُتْبَةَ أَبِي أُمَيَّةَ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنَّهُ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَعَلَى الْخِمَارِ" , يَعْنِي: الْعِمَامَةِ.
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کے دوران موزوں پر، اوڑھنی پر اور عمامے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22419]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عتبة مجهول، وأبو سلام لم يسمع من ثوبان
حدیث نمبر: 22420
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَةً وَهُوَ عَنْهَا غَنِيٌّ، كَانَتْ شَيْئًا فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی سے سوال کرتا ہو جبکہ وہ اس کا ضرورت مند نہ ہو تو یہ قیامت کے دن اس کے چہرے پر داغ ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22420]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف ، عبدالملك بن عبدالله لم يوجد له ترجمة، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22421
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُضْحِيَّةً لَهُ، ثُمَّ قَالَ لِي:" يَا ثَوْبَانُ، أَصْلِحْ لَحْمَ هَذِهِ الشَّاةِ" , قَالَ: فَمَا زِلْتُ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ.
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا جانور ذبح کیا اور فرمایا ثوبان! اس بکری کا گوشت خوب اچھی طرح سنبھال لو چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ تشریف آوری تک اس کا گوشت کھلاتا رہا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22421]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1975