مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1049. حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 23250
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى، جُفَالُ الشَّعْرِ، مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ، فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی اس کے بال اون کی مانند ہوں گے اس کے ساتھ جنت اور جہنم بھی ہوگی لیکن اس کی جہنم، درحقیقت جنت ہوگی اور جنت درحقیقت جہنم ہوگی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23250]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 3550، م: 2934
حدیث نمبر: 23251
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " فُضِّلَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ بثَلَاثٍ: جُعِلَتْ لَهَا الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَجُعِلَتْ صُفُوفُهَا عَلَى صُفُوفِ الْمَلَائِكَة، قَالَ: كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَا وَأُعْطِيتُ هَذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ، لَمْ يُعْطَهَا نَبيٌّ قَبلِي"، قَالَ أَبو مُعَاوِيَةَ: كُلُّهُ عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے (مرفوعاً) مروی ہے کہ اس امت کو دیگر امتوں پر تین چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے اس امت کے لئے روئے زمین کو سجدہ گاہ اور باعث طہارت بنایا گیا ہے اس کی صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئی ہیں یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اور اس امت کو سورت بقرہ کی آخری آیتیں عرش الہٰی کے نیچے ایک خزانے سے دی گئی ہیں اور مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23251]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 522
حدیث نمبر: 23252
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَعْرُوفُ كُلُّهُ صَدَقَةٌ" .
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نیکی صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23252]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1005
حدیث نمبر: 23253
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ، وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبلَكُمْ يَعْمَلُ بالْمَعَاصِي، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ لِأَهْلِهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اطْحَنُونِي، ثُمَّ ذَرُّونِي فِي الْبحْرِ فِي يَوْمِ رِيحٍ عَاصِفٍ، قَالَ: فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوا، قَالَ: فَجَمَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي يَدِهِ، فقَالَ لَهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: خَوْفُكَ! قَالَ: فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَكَ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جو گناہوں کے کام کرتا تھا جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا پھر میری راکھ کو پیس لینا پھر جس دن تیز آندھی چل رہی ہو اس دن میری راکھ کو ہوا میں بکھیر دینا جب وہ مرگیا تو اس کے اہل خانہ نے اسی طرح کیا اللہ نے اسے اپنے قبضہ قدرت میں جمع کرلیا اور اس سے پوچھا کہ تجھے یہ کام کرنے پر کس نے مجبور کیا؟ اس نے کہا تیرے خوف نے اللہ نے فرمایا میں نے تجھے معاف کردیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23253]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6480
حدیث نمبر: 23254
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ أَمْرِ النُّبوَّةِ الْأُولَى، إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو پہلے امر نبوت میں سے جو کچھ حاصل ہوا ہے اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جب تم حیاء نہ کرو تو جو چاہے کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23254]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح على خلاف صحابيه
حدیث نمبر: 23255
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بنِ وَهْب ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ قَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ، حَدَّثَنَا: " أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوب الرِّجَالِ، ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ، فَعَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ وَعَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ"، ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِ الْأَمَانَةِ، فَقَالَ:" يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبهِ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْوَكْتِ، فَتُقْبضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبهِ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ، كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ تَرَاهُ مُنْتَبرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ"، قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ حَصًى فَدَحْرَجَهُ عَلَى رِجْلِه، قال:" َفَيُصْبحُ النَّاسُ يَتَبايَعُونَ لَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ حَتَّى يُقَالَ: إِنَّ فِي بنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا، حَتَّى يُقَالَ لِلرَّجُلِ: مَا أَجْلَدَهُ وَأَظْرَفَهُ وَأَعْقَلَهُ! وَمَا فِي قَلْبهِ حَبةٌ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ" ، وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَمَا أُبالِي أَيَّكُمْ بايَعْتُ، لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ دِينُهُ، وَلَئِنْ كَانَ نَصْرَانِيًّا أَوْ يَهُودِيًّا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ لِأُبايِعَ مِنْكُمْ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا..
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دو حدیثیں بیان کی ہیں جن میں سے ایک میں دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا منتظر ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کے اٹھ جانے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک آدمی سوئے گا تو اس کے دل سے امانت کو نکال لیا جائے گا اور وہ صرف ایک نقطے کے برابر اس کے دل میں باقی رہ جائے گی پھر جب دوبارہ سوئے گا تو اس کے دل سے باقی ماندہ امانت بھی نکال لی جائے گی اور وہ ایسے رہ جائے گی جیسے کسی شخص کے پاؤں پر کوئی چھالا پڑگیا ہو اور تم اس پر کوئی انگارہ ڈال دو تو تمہیں پھولا ہوا نظر آئے گا لیکن اس میں کچھ نہیں ہوتا پھر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کچھ کنکریاں لے کر اسے اپنے پاؤں پر لڑھکا کر دیکھایا۔ اس کے بعد لوگ ایک دوسرے سے خریدوفروخت کریں گے اور کوئی شخص امانت ادا کرنے والا نہیں ہوگا حتیٰ کہ یوں کہا جایا کرے گا کہ بنو فلاں میں ایک امانت دار آدمی رہتا ہے اسی طرح یوں کہا جائے گا کہ وہ کتنا مضبوط ظرف والا اور عقلمند ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہوگا اور مجھ پر ایک زمانہ ایسا گذرا ہے کہ جب میں کسی سے بھی خریدوفروخت کرنے میں کوئی پرواہ نہ کرتا تھا کیونکہ وہ مسلمان ہوتا تو وہ اپنے دین کی بنیاد پر اسے واپس لوٹا دیتا تھا اور اگر وہ عیسائی یا یہودی ہوتا تو وہ اپنے گورنر کی بنیاد پر واپس کردیتا تھا لیکن اب تو میں صرف فلاں فلاں آدمی سے ہی خریدوفروخت کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23255]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 143
حدیث نمبر: 23256
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بنِ وَهْب ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ، رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ..
گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23256]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 143
حدیث نمبر: 23257
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بنَ وَهْب يُحَدِّثُ , عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بحَدِيثَيْنِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 143
حدیث نمبر: 23258
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بنِ وَهْب ، قَالَ: دَخَلَ حُذَيْفَةُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي مِمَّا يَلِي أَبوَاب كِنْدَةَ، فَجَعَلَ لَا يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَلَا السُّجُودَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ: مُنْذُ كَمْ هَذِهِ صَلَاتُكَ؟ قَالَ: مُنْذُ أَرْبعِينَ سَنَةً، قَالَ: فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ : مَا صَلَّيْتَ مِنْ أَرْبعِينَ سَنَةً، وَلَوْ مُتَّ وَهَذِهِ صَلَاتُكَ لَمُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ الَّتِي فُطِرَ عَلَيْهَا مُحَمَّدٌ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، قَالَ: ثُمَّ أَقْبلَ عَلَيْهِ يُعَلِّمُهُ، فَقَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيُخَفِّفُ فِي صَلَاتِهِ وَإِنَّهُ لَيُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ" .
زید بن وہب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ابواب کندہ کے قریب ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے وہ رکوع و سجود کامل نہیں کر رہا تھا جب نماز سے فارغ ہوگیا تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ تم کب سے اس طرح نماز پڑھ رہے ہو؟ اس نے کہا چالیس سال سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے چالیس سال سے ایک نماز نہیں پڑھی اور اگر تم اسی نماز پر دنیا سے رخصت ہوجاتے تو تم اس فطرت پر نہ مرتے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطاء فرمائی گئی تھی پھر وہ اسے نماز سکھانے لگے اور فرمایا انسان نماز ہلکی پڑھے لیکن رکوع و سجود مکمل کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23258]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 791
حدیث نمبر: 23259
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحْصُوا لِي كَمْ يَلْفِظُ الْإِسْلَامَ"، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ مَا بيْنَ السِّتِّ مِائَةِ إِلَى السَّبعِ مِائَةِ؟! قَالَ: فَقَالَ:" إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّكُمْ أَنْ تُبتَلَوْا"، قَالَ: فَابتُلِينَا حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا لَا يُصَلِّي إِلَّا سِرًّا .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کے نام لیوا افراد شمار کر کے ان کی تعداد مجھے بتاؤ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ کو ہمارے متعلق کوئی خطرہ ہے جبکہ ہم تو چھ سے سات سو کے درمیان ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نہیں جانتے ہوسکتا ہے کہ تمہاری آزمائش کی جائے چناچہ ہمارا امتحان ہوا تو ہم میں سے ہر آدمی چھپ کر ہی نماز پڑھ سکتا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23259]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3060، م: 149