🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1049. حَدِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23270
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَبيب بنِ سُلَيْمٍ الْعَبسِيِّ ، عَنْ بلَالِ بنِ يَحْيَى الْعَبسِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّعْيِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے مرنے کا چیخ و پکار کے ساتھ اعلان کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23270]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، بلال بن يحيى لم يسمع من حذيفة، وحبيب ابن سليم مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23271
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، قَالَ: " باسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا"، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ، قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت جب اپنے بستر پر آتے تو یوں کہتے اے اللہ! ہم تیرے ہی نام سے جیتے مرتے ہیں اور جب بیدار ہوتے تو یوں فرماتے " اس اللہ کا شکر جس نے ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کے یہاں جمع ہونا ہے۔ " [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23271]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6312
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23272
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: جَاءَ السَّيِّدُ، وَالْعَاقِب إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابعَثْ مَعَنَا أَمِينَكَ، وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً: أَمِينًا، قَالَ: " سَأَبعَثُ مَعَكُمْ أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ"، قَالَ: فَتَشَرَّفَ لَهَا النَّاسُ، فَبعَثَ أَبا عُبيْدَةَ بنَ الْجَرَّاحِ .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نجران سے ایک مرتبہ عاقب اور سید نامی دو آدمی آئے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ ہمارے ساتھ کسی امانت دار آدمی کو بھیج دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے ساتھ ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو واقعی امین کہلانے کا حق دار ہوگا یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سر اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23272]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4381، م: 2420
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23273
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ بنِ مُهَاجِر ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ لَمْ يَكْذِبنِي يَعْنِي حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " لَقِيَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ، فَقَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبعَةِ أَحْرُفٍ، فَمَنْ قَرَأَ مِنْهُمْ عَلَى حَرْفٍ، فَلْيَقْرَأْ كَمَا عَلِمَ وَلَا يَرْجِعْ عَنْهُ" ، قَالَ أَبي: وَقَالَ ابنُ مَهْدِيٍّ : إِنَّ مِنْ أُمَّتِكَ الضَّعِيفَ، فَمَنْ قَرَأَ عَلَى حَرْفٍ فَلَا يَتَحَوَّلْ مِنْهُ إِلَى غَيْرِهِ رَغْبةً عَنْهُ.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل امین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لئے آئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم احجارالمراء نامی جگہ میں تھے اور عرض کیا کہ آپ کی امت کے لوگ قرآن کریم کو سات حروف پر پڑھ سکتے ہیں ان میں سے جو شخص کسی خاص قرأت کے مطابق اسے پڑھنا چاہے تو اسی طرح پڑھے جیسے اسے سکھایا گیا ہو اور اس سے رجوع نہ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23273]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، إبراهيم بن مهاجر ليس بذاك القوي. ولم يتابع عليه بهذا اللفظ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23274
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا، فَمَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ بيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ إِلَّا ذَكَرَهُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ، حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ" ، قَالَ حُذَيْفَةُ: فَإِنِّي لَأَرَى أَشْيَاءَ قَدْ كُنْتُ نُسِّيتُهَا فَأَعْرِفُهَا كَمَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ، قَدْ كَانَ غَائِبا عَنْهُ، يَرَاهُ فَيَعْرِفُهُ. وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً: فَرَآهُ فَعَرَفَهُ.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور قیامت تک پیش آنے والا کوئی واقعہ ایسا نہ چھوڑا جو اسی جگہ کھڑے کھڑے بیان نہ کردیا ہو جس نے اسے یاد رکھا سو یاد رکھا اور جو بھول گیا سو بھول گیا اور میں بہت سی ایسی چیزیں دیکھتا ہوں جو میں بھول چکا ہوتا ہوں لیکن پھر انہیں دیکھ کر پہچان لیتا ہوں جیسے کوئی آدمی غائب ہو اور دوسرا آدمی اسے دیکھ کر اسے اس کے چہرے سے ہی پہچان لیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23274]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2891
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23275
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ شَيْخٍ يُقَالُ لَهُ: هِلَالٌ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى عَنْ مَسْحِ الْحَصَى، فَقَالَ: " وَاحِدَةً أَوْ دَعْ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر چیز کے متعلق سوال پوچھا ہے حتیٰ کہ کنکریوں کو دوران نماز برابر کرنے کا مسئلہ بھی پوچھا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ اسے برابر کرلو ورنہ چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23275]

حکم دارالسلام: حديث صحيح لكن من حديث أبى ذر الغفاري، فقد اختلف على محمد بن عبدالرحمن ابن أبى ليلى فيه، وهو سيئ الحفظ، و هلال مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23276
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مَوْلًى لِرِبعِيٍّ ، عَنْ رِبعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا، فَقَالَ: " إِنِّي لَا أَدْرِي مَا قَدْرُ بقَائِي فِيكُمْ، فَاقْتَدُوا باللَّذَيْنِ مِنْ بعْدِي، وَأَشَارَ إِلَى أَبي بكْرٍ، وَعُمَرَ، وَتَمَسَّكُوا بعَهْدِ عَمَّارٍ، وَمَا حَدَّثَكُمْ ابنُ مَسْعُودٍ، فَصَدِّقُوهُ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کتنا عرصہ رہوں گا اس لئے ان دو آدمیوں کی پیروی کرنا جو میرے بعد ہوں گے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا اور عمار کے طریقے کو مضبوطی سے تھامو اور ابن مسعود تم سے جو بات بیان کریں اس کی تصدیق کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23276]

حکم دارالسلام: حسن بطرقه وشواهده دون قوله: "تمسكوا بعهد عمار"، وهذا اسناد ضعيف لجهالة مولي ربعي، لكنه توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23277
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبو الْعُمَيْسِ ، عَنْ أَبي بكْرِ بنِ عَمْرِو بنِ عُتْبةَ ، عَنِ ابنٍ لِحُذَيْفَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا دَعَا لِرَجُلٍ، أَصَابتْهُ وَأَصَابتْ وَلَدَهُ وَوَلَدَ وَلَدِهِ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کے لئے دعا فرماتے تھے تو اس دعاء کے اثرات اسے اس کی اولاد کو اور اس کے پوتوں تک کو پہنچتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23277]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال أبى بكر بن عمرو
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23278
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا رَزِينُ بنُ حَبيب الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَبي الرُّقَادِ الْعَبسِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: " إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَتَكَلَّمُ بالْكَلِمَةِ عَلَى عَهْدِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَصِيرُ بهَا مُنَافِقًا، وَإِنِّي لَأَسْمَعُهَا مِنْ أَحَدِكُمْ الْيَوْمَ فِي الْمَجْلِسِ عَشْرَ مَرَّاتٍ" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں بعض اوقات انسان کوئی جملہ بولتا تھا اور اس کی وجہ سے منافق ہوجاتا تھا اور اب ایک ایک مجلس میں اس طرح کے دسیوں کلمات میں روزانہ سنتا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23278]

حکم دارالسلام: أثر حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبى الرقاد العبسي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23279
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بنُ هَارُونَ ، أَخْبرَنَا أَبو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ سَعْدُ بنُ طَارِقٍ , حَدَّثَنَا رِبعِيُّ بنُ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأَنَا أَعْلَمُ بمَا مَعَ الدَّجَّالِ مِنَ الدِّجَّالِ، مَعَهُ نَهْرَانِ يَجْرِيَانِ: أَحَدُهُمَا رَأْيَ الْعَيْنِ مَاءٌ أَبيَضُ، وَالْآخَرُ رَأْيَ الْعَيْنِ نَارٌ تَأَجَّجُ، فَإِنْ أَدْرَكَنَّ وَاحِد مِنْكُمْ، فَلْيَأْتِ النَّهَرَ الَّذِي يَرَاهُ نَارًا، فَلْيُغْمِضْ ثُمَّ لِيُطَأْطِئْ رَأْسَهُ فَلْيَشْرَب، فَإِنَّهُ مَاءٌ بارِدٌ، وَإِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى، عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ، مَكْتُوب بيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِب وَغَيْرُ كَاتِب" .
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں یہ بات دجال سے بھی زیادہ جانتا ہوں کہ اس کے ساتھ کیا ہوگا اس کے ساتھ بہتی ہوئی دو نہریں ہوں گی جن میں سے ایک دیکھنے میں سفید پانی کی ہوگی اور دوسری دیکھنے میں بھڑکتی ہوگی اگر تم میں سے کوئی شخص اس دور کو پائے تو اس نہر میں داخل ہوجائے جو اسے آگ نظر آرہی ہو اس میں غوطہ زنی کرے پھر سر جھکا کر اس کا پانی پی لے کیونکہ وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور دجال کی بائیں آنکھ کسی نے پونچھ دی ہوگی اس پر ایک موٹا ناخنہ ہوگا اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان " کافر " لکھا ہوگا جسے ہر کاتب وغیرکاتب مسلمان پڑھ لے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23279]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3450، م: 2934
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں