🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1075. حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23508
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا بقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي بحِيرُ بنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بنِ مَعْدِي كَرِب ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبارَكْ لَكُمْ فِيهِ" . حَدَّثَنَا عَبدُ الْجَبارِ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا بقِيَّةُ ، عَنْ بحِيرٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا غلہ ناپ کر لین دین کیا کرو تمہارے لئے اس میں برکت ڈال دی جائے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23508]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا سند حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بقية
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23509
حَدَّثَنَا عَبدُ الْجَبارِ بنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا بقِيَّةُ عَنْ بحِيرٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23509]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا سند حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بقية
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23510
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ يَعْنِي ابنَ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا ابنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بحِيرِ بنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بنِ مَعْدِي كَرِب ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبارَكْ لَكُمْ فِيهِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا غلہ ناپ کر لین دین کیا کرو تمہارے لئے اس میں برکت ڈال دی جائے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23510]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23511
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبرَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبيْدِ اللَّهِ بنِ أَبي جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبرَنَا عَبدُ اللَّهِ ، أَخْبرَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبيْدِ اللَّهِ بنِ أَبي جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ , عَنْ عَمْرِو بنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَدُ اللَّهِ مَعَ الْقَاضِي حِينَ يَقْضِي، وَيَدُ اللَّهِ مَعَ الْقَاسِمِ حِينَ يَقْسِمُ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قاضی جب فیصلہ کرتا ہے تو اللہ کی تائید اس کے ساتھ ہوتی ہے اور قاسم جب کوئی چیز تقسیم کرتا ہے تو اللہ کی تائید اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23511]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، تفرد به ابن لهيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23512
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، أَخْبرَنِي عَمْرُو بنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بكَيْرٍ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ مَوْلَى بنِي هَاشِمٍ حَدَثَهُ , أَنَّهُمْ ذَكَرُوا يَوْمًا مَا يُنْتَبذُ فِيهِ، فَتَنَازَعُوا فِي الْقَرْعِ، فَمَرَّ بهِمْ أَبو أَيُّوب الْأَنْصَارِيُّ، فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ إِنْسَانًا، فَقَالَ: يَا أَبا أَيُّوب ، الْقَرْعُ يُنْتَبذُ فِيهِ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنْ كُلِّ مُزَفَّتٍ يُنْتَبذُ فِيهِ" ، فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَرْعَ، فَرَدَّ أَبا أَيُّوب مِثْلَ قَوْلِهِ الْأَوَّلِ.
ابواسحق کہتے ہیں کہ ایک دن لوگ اس بات کا مذاکرہ کرنے لگے کہ کن برتنوں میں نبیذ بنائی جاسکتی ہے دوران گفتگو کدو کے برتن میں نبیذ سے متعلق اختلاف رائے ہوگیا اتفاقاً وہاں سے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا گذر ہوا تو انہوں نے ایک آدمی بھیج کر اس کے متعلق دریافت کیا کہ اے ابوایوب! کدو کے برتن میں نبیذ کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر اس برتن میں نبیذ پینے یا بنانے سے منع فرمایا ہے جسے لک لگی ہوئی ہو سائل نے کدو کے متعلق پوچھا تو انہوں نے پھر یہی جواب دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23512]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف رشدين، وقد توبع ، وأبو إسحاق مجهول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23513
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنِي حُيَيُّ بنُ عَبدِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنْ يَحْصَب، عَنْ أَبي عَبدِ الرَّحْمَنِ الْحُبلِيِّ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ فَرَّقَ بيْنَ الْوَلَدِ وَوَالِدِهِ فِي الْبيْعِ، فَرَّقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بيْنَهُ وَبيْنَ أَحِبتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص والد اور اس کی اولاد میں تفریق کرتا ہے قیامت کے دن اللہ اس کے اور اس کے پیاروں کے درمیان تفریق کر دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23513]

حکم دارالسلام: حسن بمجموع طرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين وحيي بن عبدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23514
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ عِيسَى ، أَخْبرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، عَنْ رَافِعِ بنِ إِسْحَاقَ مَوْلَى أَبي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبا أَيُّوب الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ وَهُوَ بمِصْرَ: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بهَذِهِ الْكَرَابيسِ يَعْنِي الْكُنُفَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا ذَهَب أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ، أَوْ الْبوْلِ، فَلَا يَسْتَقْبلْ الْقِبلَةَ وَلَا يَسْتَدْبرْهَا" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے مصر میں ایک مرتبہ فرمایا کہ واللہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہاں کے بیت الخلاء کس طرح استعمال کروں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب پائخانے کے لئے جائے تو قبلہ کی جانب رخ کرے اور نہ پشت کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23514]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 144، م: 264
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23515
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بنُ قَيْسٍ قَاصُّ عُمَرَ بنِ عَبدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبي صِرْمَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ: قَدْ كُنْتُ كَتَمْتُ عَنْكُمْ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَوْلَا أَنَّكُمْ تُذْنِبونَ، لَخَلَقَ اللَّهُ تَبارَكَ وَتَعَالَى قَوْمًا يُذْنِبونَ، فَيَغْفِرُ لَهُمْ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی جو اب تک میں نے تم سے چھپا رکھی تھی اور وہ یہ کہ اگر تم گناہ نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پیدا فرما دے گا جو گناہ کریں گے اور اللہ انہیں بخشے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23515]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2748
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23516
حَدَّثَنَا أَبو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ، أَخْبرَنَا عَبادُ بنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ سَعِيدِ بنِ إِيَاسٍ ، عَنْ أَبي الْوَرْدِ ، عَنْ أَبي مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ نَزَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ لِي:" يَا أَبا أَيُّوب، أَلَا أُعَلِّمُكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: بلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " مَا مِنْ عَبدٍ يَقُولُ حِينَ يُصْبحُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، إِلَّا كَتَب اللَّهُ لَهُ بهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَمَحَا عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ، وَإِلَّا كُنَّ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَدْلَ عَشْرِ رِقَاب مُحَرَّرِينَ، وَإِلَّا كَانَ فِي جُنَّةٍ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَلَا قَالَهَا حِينَ يُمْسِي إِلَّا كَذَلِكَ" ، قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبي مُحَمَّدٍ: أَنْتَ سَمِعْتَهَا مِنْ أَبي أَيُّوب؟ قَالَ: آللَّهِ لَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبي أَيُّوب يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو میرے یہاں جلوہ افروز ہوئے اور مجھ سے فرمایا اے ابوایوب! کیا میں تمہیں کچھ تعلیم نہ دوں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دے گا دس گناہ معاف فرما دے گا ورنہ اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہوگا اور شام تک یہ کلمات اس کے لئے شیطان سے بچاؤ کی ڈھال بن جائیں گے اور جو شخص شام کے وقت یہ کلمات کہہ لے اس کا بھی یہی حکم ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23516]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: تحت حديث: 6404، تعليقا، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الورد، وأبي محمد الحضرمي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23517
حَدَّثَنَا أَبو سَعِيدٍ مَوْلَى بنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا ثَابتٌ يَعْنِي أَبا زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَفْلَحَ مَوْلَى أَبي أَيُّوب، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِ، فَنَزَلَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلَ، وَأَبو أَيُّوب فِي الْعُلُوِّ، فَانْتَبهَ أَبو أَيُّوب ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَالَ: نَمْشِي فَوْقَ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! فَتَحَوَّلَ فَباتُوا فِي جَانِب، فَلَمَّا أَصْبحَ ذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " السُّفْلُ أَرْفَقُ بي"، فَقَالَ أَبو أَيُّوب: لَا أَعْلُو سَقِيفَةً أَنْتَ تَحْتَهَا، فَتَحَوَّلَ أَبو أَيُّوب فِي السُّفْلِ، وَالنَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُلُوِّ، فَكَانَ يَصْنَعُ طَعَامَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبعَثُ إِلَيْهِ، فَإِذَا رُدَّ إِلَيْهِ سَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَصَابعِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتَّبعُ أَثَرَ أَصَابعِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْكُلُ مِنْ حَيْثُ أَثَرِ أَصَابعِهِ، فَصَنَعَ ذَاتَ يَوْمٍ طَعَامًا فِيهِ ثُومٌ، فَأَرْسَلَ بهِ إِلَيْهِ، فَسَأَلَ عَنْ مَوْضِعِ أَثَرِ أَصَابعِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: لَمْ يَأْكُلْ، فَصَعِدَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَحَرَامٌ هُوَ؟ فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكْرَهُهُ"، قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا تَكْرَهُ، أَوْ مَا كَرِهْتَهُ، وَكَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں فروکش ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے کی منزل میں رہتے اور حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اوپر کی منزل میں ایک مرتبہ رات کے وقت انہیں خیال آیا کہ ہم تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر ہو کر چلتے ہیں چناچہ وہ ساری رات انہوں نے ایک کونے میں گذار دی صبح ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے نچلی منزل زیادہ موافق ہے وہ کہنے لگے کہ میں تو اس چھت پر نہیں چڑھوں گا جس کے نیچے آپ ہوں اس طرح حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نیچے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اوپر چلے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ میرے پاس وہ آتے ہیں جو تمہارے پاس نہیں آتے (جبریل امین اور دیگر فرشتے (علیہم السلام)) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23517]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2053
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں