مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1075. حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
حدیث نمبر: 23518
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ إِبرَاهِيمَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ يَزِيدَ بنِ جَابرٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَعِيشَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ إِذَا صَلَّى الصُّبحَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ، كُنَّ كَعَدْلِ أَرْبعِ رِقَاب، وَكُتِب لَهُ بهِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمُحِيَ عَنْهُ بهِنَّ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ بهِنَّ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَكُنَّ لَهُ حَرَسًا مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِذَا قَالَهَا بعْدَ الْمَغْرِب فَمِثْلُ ذَلِكَ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو میرے یہاں جلوہ افروز ہوئے اور مجھ سے فرمایا اے ابوایوب! کیا میں تمہیں کچھ تعلیم نہ دوں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دے گا دس گناہ معاف فرما دے گا ورنہ اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہوگا اور شام تک یہ کلمات اس کے لئے شیطان سے بچاؤ کی ڈھال بن جائیں گے اور جو شخص شام کے وقت یہ کلمات کہہ لے اس کا بھی یہی حکم ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23518]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالله بن يعيش
حدیث نمبر: 23519
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبرَنَا إِسْحَاقُ ابنُ أَخِي أَنَسٍ ، عَنْ رَافِعِ بنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّهُ قَالَ: مَا نَدْرِي كَيْفَ نَصْنَعُ بكَرَابيسِ مِصْرَ وَقَدْ" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبلَ الْقِبلَتَيْنِ وَنَسْتَدْبرَهُمَا" ، وقَالَ هَمَّامٌ: يَعْنِي الْغَائِطَ وَالْبوْلَ.
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے مصر میں ایک مرتبہ فرمایا کہ واللہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ یہاں کے بیت الخلاء کس طرح استعمال کروں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب پائخانے کے لئے جائے تو قبلہ کی جانب رخ کرے اور نہ پشت کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23519]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23520
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بنُ مَنْصُورٍ يَعْنِي الْخُرَاسَانِيَّ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ عَبدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابنَ شِهَاب ، يَقُولُ: أَشْهَدُ عَلَى عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَه، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَا مِنْ رَجُلٍ يَغْرِسُ غَرْسًا، إِلَّا كَتَب اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ قَدْرَ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرِ ذَلِكَ الْغَرْسِ" .
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک پودا لگاتا ہے تو اس سے جتنا پھل نکلتا ہے اللہ اس شخص کے لئے اتنا ہی اجر لکھ دیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23520]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن عبدالعزيز
حدیث نمبر: 23521
حَدَّثَنَا قُتَيْبةُ بنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، عَنْ أَسْلَمَ أَبي عِمْرَانَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بادِرُوا بصَلَاةِ الْمَغْرِب قَبلَ طُلُوعِ النَّجْمِ" .
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے نماز مغرب ستارے نکلنے سے پہلے پڑھنے میں سبقت کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23521]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 23522
حَدَّثَنَا قُتَيْبةُ بنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ أَبي حَبيب ، عَنْ رَاشِدٍ الْيَافِعِيِّ ، عَنْ حَبيب بنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَرَّب طَعَامًا، فَلَمْ أَرَ طَعَامًا كَانَ أَعْظَمَ برَكَةً مِنْهُ أَوَّلَ مَا أَكَلْنَا، وَلَا أَقَلَّ برَكَةً فِي آخِرِهِ، قُلْنَا: كَيْفَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " لِأَنَّا ذَكَرْنَا اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حِينَ أَكَلْنَا، ثُمَّ قَعَدَ بعْدُ مَنْ أَكَلَ وَلَمْ يُسَمِّ، فَأَكَلَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ" .
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھانا پیش کیا گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23522]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة راشد اليافعي وحبيب بن أوس، وابن لهيعة سيئ الحفظ، لكن رواية قتيبة عنه صالحة
حدیث نمبر: 23523
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ يَزِيدَ بنَ مُعَاوِيَةَ كَانَ أَمِيرًا عَلَى الْجَيْشِ الَّذِي غَزَا فِيهِ أَبو أَيُّوب، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عِنْدَ الْمَوْتِ، فَقَالَ لَهُ أَبو أَيُّوب : إِذَا مِتُّ فَاقْرَءُوا عَلَى النَّاسِ مِنِّي السَّلَامَ، فَأَخْبرُوهُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ باللَّهِ شَيْئًا، جَعَلَهُ اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ" ، وَلْيَنْطَلِقُوا بي فَلْيَبعُدُوا بي فِي أَرْضِ الرُّومِ مَا اسْتَطَاعُوا، فَحَدَّثَ النَّاسُ لَمَّا مَاتَ أَبو أَيُّوب، فَاسْتَلْأَمَ النَّاسُ، وَانْطَلَقُوا بجِنَازَتِهِ.
اہل مکہ میں سے ایک آدمی کا کہنا ہے کہ یزید بن معاویہ اس لشکر کا امیر تھا جس میں حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ بھی جہاد کے لئے شریک تھے یزید مرض الموت میں ان کی عیادت کے لئے آیا تو انہوں نے اس سے فرمایا کہ جب میں مرجاؤں تو لوگوں کو میری طرف سے سلام کہنا اور انہیں بتادینا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور مجھے لے کر چلتے رہو اور جہاں تک ممکن ہو مجھے لے کر ارض روم میں بڑھتے چلے جاؤ جب حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ فوت ہوگئے تو یزید نے لوگوں کو یہ باتیں بتائیں لوگوں نے اسلحہ زیب تن کیا اور ان کا جنازہ لے کر چل پڑے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23523]
حکم دارالسلام: صحيح بمجموع طرقه، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرجل المكي
حدیث نمبر: 23524
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ مَعْمَرُ بنُ رَاشِدٍ ، أَخْبرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْغَائِطَ، فَلَا يَسْتَقْبلَنَّ الْقِبلَةَ، وَلَكِنْ لِيُشَرِّقْ أَوْ لِيُغَرِّب" ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ وَجَدْنَا مَرَاحِيضَ جُعِلَتْ نَحْوَ الْقِبلَةِ، فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ.
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء جائے تو قبلہ کی جانب رخ نہ کرے بلکہ مشرق یا مغرب کی جانب ہوجائے لیکن جب ہم شام پہنچے تو وہاں کے بیت الخلاء سمت قبلہ میں بنے ہوئے پائے ہم ان میں رخ پھیر کر بیٹھتے تھے اور استغفار کرتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23524]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 144، م: 264
حدیث نمبر: 23525
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ سِمَاكِ بنِ حَرْب ، عَنْ جَابرِ بنِ سَمُرَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بطَعَامٍ أَكَلَ مِنْهُ، وَبعَثَ بفَضْلِهِ إِلَيَّ، وَإِنَّهُ بعَثَ يَوْمًا بقَصْعَةٍ لَمْ يَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا، فِيهَا ثُومٌ، فَسَأَلْتُهُ: أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ: " لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ"، قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ مجھے اس کی بو پسند نہیں ہے انہوں نے کہا کہ پھر جو چیز آپ کو پسند نہیں وہ مجھے بھی پسند نہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23525]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2053
حدیث نمبر: 23526
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ أَبي سَوْرَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بطَعَامٍ نَالَ مِنْهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَنَالَ، ثُمَّ يَبعَثُ بسَائِرِهِ إِلَى أَبي أَيُّوب وَفِيهِ أَثَرُ يَدِهِ، فَأُتِيَ بطَعَامٍ فِيهِ الثُّومُ، فَلَمْ يَطْعَمْ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، وَبعَثَ بهِ إِلَى أَبي أَيُّوب، فَقَالَ لَهُ أَهْلُهُ، فَقَالَ: ادْنُوهُ مِنِّي، فَإِنِّي أَحْتَاجُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا لَمْ يَرَ أَثَرَ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، كَفَّ يَدَهُ مِنْهُ، وَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبيَّ اللَّهِ، بأَبي وَأُمِّي، هَذَا الطَّعَامُ لَمْ تَأْكُلْ مِنْهُ، آكُلُ مِنْهُ؟ قَالَ: " فِيهِ تِلْكَ الثُّومَةُ فَيَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ جِبرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام"، قَالَ: فَآكُلُ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ فَكُلْ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ میرے پاس وہ آتے ہیں جو تمہارے پاس نہیں آتے (جبریل امین اور دیگر فرشتے (علیہم السلام)) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23526]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا من أجل واصل بن السائب وأبي سورة، ولا يعرف له سماع من أبى أيوب
حدیث نمبر: 23527
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ وَاصِلٍ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَبي سَوْرَةَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، وعَنْ عَطَاءٍ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَبذَا الْمُتَخَلِّلُونَ"، قِيلَ: وَمَا الْمُتَخَلِّلُونَ؟ قَالَ:" فِي الْوُضُوءِ وَالطَّعَامِ" .
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ اور عطار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خلال کرنے والے لوگ کیا خوب ہیں؟ کسی نے پوچھا کہ خلال کرنے والوں سے کون لوگ مراد ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو اور کھانے کے دوران خلال کرنے والے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23527]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا من أجل واصل بن السائب وأبي سورة، ولا يعرف له سماع من أبى أيوب، وهذا الحديث من جهة عطاء مرسل