🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1075. حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23548
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: اخْتَلَفَ الْمِسْوَرُ بنُ مَخْرَمَةَ، وَابنُ عَباسٍ فِي الْمُحْرِمِ يَغْسِلُ رَأْسَهُ، فَقَالَ ابنُ عَباسٍ: يَغْسِلُ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ: لَا يَغْسِلُ، فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبي أَيُّوب ، فَسَأَلْتُهُ فَصَب عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ، ثُمَّ أَقْبلَ بيَدَيْهِ وَأَدْبرَ بهِمَا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ .
حضرت مسور اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کے درمیان ایک مرتبہ اختلاف رائے ہوگیا انہیں اس محرم کے بارے میں شک تھا جو اپنے سر پر پانی بہاتا ہے پھر انہوں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا سر کس طرح دھوتے ہوئے دیکھا ہے؟ انہوں نے فرمایا اس طرح آگے پیچھے سے راوی نے اس کی کیفیت بیان کر کے دکھائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23548]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1840، م: 1205
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23549
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَدِيِّ بنِ ثَابتٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَمَعَ بيْنَ الْمَغْرِب وَالْعِشَاءِ بالْمُزْدَلِفَةِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا فرمائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23549]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1674، م: 1287
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23550
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُثْمَانَ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ مَوْهَب ، وَأَبوهُ عُثْمَانُ بنُ عَبدِ اللَّهِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بنَ طَلْحَةَ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبرْنِي بعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، فَقَالَ الْقَوْمُ: مَا لَهُ مَا لَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَب مَا لَهُ؟" قَالَ: " تَعْبدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ، ذَرْهَا" ، قَالَ: كَأَنَّهُ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ.
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے ایک دیہاتی سامنے آیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور جہنم سے دور کر دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23550]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5983، م: 13، وقد وقع وهم فى إسناده فى محمد بن عثمان بن عبدالله، والمحفوظ: عمرو بن عثمان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23551
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْمُسَيَّب بنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بنِ الصَّلْتِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي أَرْبعَ رَكَعَاتٍ قَبلَ الظُّهْرِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ تُدِيمُ هَذِهِ الصَّلَاةَ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " إِنَّهَا سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبوَاب السَّمَاءِ، فَأَحْببتُ أَنْ يَرْتَفِعَ لِي فِيهَا عَمَلٌ صَالِحٌ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زوال کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ چار رکعتیں پڑھتے تھے ایک دن میں نے پوچھ لیا کہ یا رسول اللہ! یہ کیسی نماز ہے جس پر میں آپ کو مداومت کرتے ہوئے دیکھتا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زوال کے وقت آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اس وقت تک بند نہیں کئے جاتے جب تک ظہر کی نماز نہ ادا کرلی جائے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس وقت میرا کوئی نیک عمل آسمان پر چڑھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23551]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك، وجهالة على بن الصلت
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23552
حَدَّثَنَا أَبو عَبدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبرَنِي أَبو صَخْرٍ ، أَنَّ عَبدَ اللَّهِ بنَ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ عَبدِ اللَّهِ بنِ عُمَرَ أَخْبرَهُ، عَنْ سَالِمِ بنِ عَبدِ اللَّهِ ، أَخْبرَنِي أَبو أَيُّوب الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بهِ مَرَّ عَلَى إِبرَاهِيمَ، فَقَالَ: " مَنْ مَعَكَ يَا جِبرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا مُحَمَّدٌ، فَقَالَ لَهُ إِبرَاهِيمُ: مُرْ أُمَّتَكَ فَلْيُكْثِرُوا مِنْ غِرَاسِ الْجَنَّةِ، فَإِنَّ تُرْبتَهَا طَيِّبةٌ، وَأَرْضَهَا وَاسِعَةٌ، قَالَ: وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا باللَّهِ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شب معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گذرے تو انہوں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ تمہارے ساتھ یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اپنی امت کو تلقین کیجئے کہ وہ کثرت سے جنت کے پودے لگائیں کیونکہ جنت کی مٹی عمدہ اور زمین کشادہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ جنت کے پودوں سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ لاحول ولاقوۃ الا باللہ کہنا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23552]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عبدالله بن عبدالرحمن مجهول الحال، و معنى الحديث صحيح ثابت
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23553
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبةَ ، وَحَدَّثَنِي عَدِيُّ بنُ ثَابتٍ ، وَمُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَدِيِّ بنِ ثَابتٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبي أَيُّوب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَمَعَ بيْنَ الصَّلَاتَيْنِ بجَمْعٍ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھی ادا فرمائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23553]

حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، خ: 1674، م: 1287
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23554
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ بنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ بنِ قُدَامَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالِ بنِ يِسَافٍ ، عَنِ الرَّبيعِ بنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُعْجِب أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِي لَيْلَةٍ، فَإِنَّهُ مَنْ قَرَأَ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَيْلَةٍ، فَقَدْ قَرَأَ لَيْلَتَئِذٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ" .
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ ایک رات میں تہائی قرآن پڑھ سکے سورت اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے اس لئے جو شخص رات کے وقت تین مرتبہ سورت اخلاص پڑھ لے گویا اس نے تہائی قرآن پڑھ لیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23554]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام المرأة وللاضطراب فى سنده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23555
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ عَوْنِ بنِ أَبي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ الْبرَاءِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَجَبتْ الشَّمْسُ، قَالَ فَسَمِعَ صَوْتًا، فَقَالَ: " يَهُودُ تُعَذَّب فِي قُبورِهَا" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غروب آفتاب کے بعد باہر نکلے تو ایک آواز سنی اور فرمایا کہ یہودیوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23555]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1375، م: 2869
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23556
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ وَرْقَاءَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعْدِ بنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بنِ ثَابتٍ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، فَقَدْ صَامَ الدَّهْرَ" .
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ماہ رمضان کے روزے رکھ لے اور عیدالفطر کے بعد چھ دن کے روزے رکھ لے تو اسے پورے سال کے روزوں کا ثواب ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23556]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 11649
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 23557
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ أَبي لَيْلَى ، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ أَبي أَيُّوب ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَلْيَقُلْ الَّذِي يَرُدُّ عَلَيْهِ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَلْيَقُلْ: هُوَ يَهْدِيكَ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بالَكَ" ، قَالَ حَجَّاجٌ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بالَكُمْ.
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے الحمدللہ علی کل حال کہنا چاہئے جواب دینے والے کو " یرحمک اللہ " کہنا چاہئے اور چھینکنے والے کو " یہدیک اللہ ویصلح بالک " کہنا چاہئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23557]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ محمد بن عبدالرحمن، وكان يضطرب فى هذا الحديث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں