🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1176. حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26471
حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ سُبَيْعَةَ ابْنَةَ الْحَارِثِ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِعِشْرِينَ لَيْلَةً، أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ، وَأَرَادَتْ التَّزْوِيجَ، فَقَالَ لَهَا أَبُو السَّنَابِلِ: لَيْسَ لَكِ ذَلِكَ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَيْكِ آخِرُ الْأَجَلَيْنِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " تَزَوَّجُ إِذَا شَاءَتْ" .
حضرت ابوالسنابل سے مروی ہے کہ سبیعہ کے یہاں اپنے شوہر کی وفات کے صرف ٢٣ یا ٢٥ دن بعد ہی بچے کی ولادت ہوگئی اور وہ دوسرے رشتے کے لئے تیار ہونے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی نے آکر اس کی خبردی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ ایسا کرتی ہے تو (ٹھیک ہے کیونکہ) اس کی عدت گزر چکی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26471]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سليمان بن يسار لم يسمع هذا الحديث من ام سلمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26472
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ , قُلْتُ: غَرِيبٌ وَمَاتَ بِأَرْضِ غُرْبَةٍ، فَأَفَضْتُ بُكَاءً، فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي مِنَ الصَّعِيدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا قَدْ أَخْرَجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ؟" قَالَتْ: فَلَمْ أَبْكِ عَلَيْهِ .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب میرے شوہر حضرت ابوسلمہ فوت ہوگئے تو یہ سوچ کر کہ وہ مسافر تھے اور ایک اجنبی علاقے میں فوت ہوگئے میں نے خواب آہ وبکاء کی اسی دوران ایک عورت میرے پاس مدینہ منورہ کے بالائی علاقے سے میرے ساتھ رونے کے لئے آگئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کیا تم اپنے گھر میں شیطان کو داخل کرنا چاہتی ہو جسے اللہ نے یہاں سے نکال دیا تھا حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ پھر میں اپنے شوہر پر نہیں روئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26472]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 922
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26473
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَبْهَانَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ذَكَرَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَانَ لِإِحْدَاكُنَّ مُكَاتَبٌ، فَكَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي، فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم خواتین میں سے کسی کا کوئی غلام مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا بدل کتابت ہو کہ وہ اسے اپنے مالک کے حوالے کر کے خود آزادی حاصل کرسکتے تو اس عورت کو اپنے غلام سے پردہ کرنا چاہئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26473]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة نبهان، ومما يدل على ضعف هذا الحديث عمل السيدة عائشة بخلافه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26474
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَتْ الْعَشْرُ، فَأَرَادَ رَجُلٌ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ، وَلَا مِنْ بَشَرِهِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب عشرہ ذی الحجہ شروع ہوجائے اور کسی شخص کا قربانی کا ارادہ ہو تو اسے اپنے (سرکے) بال یا جسم کے کسی حصے (کے بالوں) کو ہاتھ نہیں لگانا (کاٹنا اور تراشنا) چاہئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26474]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1977
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26475
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ سُوقَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَيْشَ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِمْ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: لَعَلَّ فِيهِمْ الْمُكْرَهَ، فَقَالَ: " إِنَّهُمْ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لشکرکا تذکرہ کیا جسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا تو حضرت ام سلمہ نے عرض کیا کہ ہوسکتا ہے اس لشکر میں ایسے لوگ بھی ہوں جنہیں زبردستی اس میں شامل کرلیا گیا ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26475]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف على ابن سوقة فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26476
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمَّارٍ يَعْنِي الدُّهْنِيَّ , سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُخْبِرُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَوَائِمُ مِنْبَرِي رَوَاتِبُ فِي الْجَنَّةِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے منبر کے پائے جنت میں گاڑے جائیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26476]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26477
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، وَهُوَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، كَذَا قَالَ سُفْيَانُ , أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي , قَالَ: " يُجْزِئُكِ أَنْ تَصُبِّي عَلَيْهِ الْمَاءَ ثَلَاثًا" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ میں ایسی عورت ہوں کہ اپنے سر کے بال (زیادہ لمبے ہونے سے) چوٹی بنا کر رکھنے پڑتے ہیں (تو کیا غسل کرتے وقت انہیں ضرور کھولا کروں؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لئے یہی کافی ہے کہ اس پر تین مرتبہ اچھی طرح پانی بہا لو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26477]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 330
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26478
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْكُمْ، وَأَنْتُمْ أَشَدُّ تَعْجِيلًا لِلْعَصْرِ مِنْهُ" .
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کی نسبت ظہر کی نماز جلدی پڑھ لیا کرتے تھے اور تم لوگ ان کی نسبت عصر کی نماز زیادہ جلدی پڑھ لیتے ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26478]

حکم دارالسلام: تعجيل النبى ﷺ صلاة الظهر صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لعنعنة ابن جريج، وهو مدلس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26479
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ: سُئِلَتْ عَائِشَةُ وَأُمُّ سَلَمَةَ : أَيُّ كان أعجب إلى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ:" مَا دَامَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ" .
حضرت عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کون سا تھا انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26479]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، أبو صالح وإن كان قد أدرك عائشة وأم سلمة إلا أنه لم يذكر ما يفيد السماع منهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26480
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَسَأَلْتُهَا عَنِ الصِّيَامِ، فَقَالَتْ: كَانَ النبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، أَوَّلُهَا الِاثْنَيْنِ، وَالْجُمُعَةُ، وَالْخَمِيسُ .
ہنیدہ کی والدہ کہتی ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت ام سلمہ کے پاس حاضر ہوئی اور ان سے روزے کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ہر مہینے میں تین روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے جن میں سے پہلا روزہ پیر کے دن ہوتا تھا پھر جمعرات اور جمعہ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26480]

حکم دارالسلام: ضعيف لاضطرابه، والحديث عند مسلم عن عائشة: أن النبى ﷺ كان يصوم من كل شهر ثلاثة ايام، ولم يكن يبالي من اي ايام الشهر يصوم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں