مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1176. حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 26681
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ بِالنِّسَاءِ؟ قَالَ: " يُرْخِينَ شِبْرًا" , قُلْتُ: إِذَنْ يَنْكَشِفَ عَنْهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" فَذِرَاعٌ، لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ عورتیں اپنا دامن کتنا لٹکائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ ایک بالشت کے برابر اسے لٹکا سکتی ہو میں نے عرض کیا کہ اس طرح تو ان کی پنڈلیاں کھل جائیں گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک گز لٹکا لو اس سے زیادہ نہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26681]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على نافع
حدیث نمبر: 26682
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: جَعَلَتْ شَعَائِرَ مِنْ ذَهَبٍ فِي رَقَبَتِهَا، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْرَضَ عَنْهَا، فَقُلْتُ: أَلَا تَنْظُرُ إِلَى زِينَتِهَا؟ فَقَالَ: " عَنْ زِينَتِكِ أُعْرِضُ" , قَالَ: زَعَمُوا , أَنَّهُ قَالَ" مَا ضَرَّ إِحْدَاكُنَّ لَوْ جَعَلَتْ خُرْصًا مِنْ وَرِقٍ، ثُمَّ جَعَلَتْهُ بِزَعْفَرَانٍ" .
حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے گلے میں سونے کا ہارلٹکالیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں گئے تو ان سے اعراض فرمایا: انہوں نے عرض کیا کہ آپ اس زیب وزینت کو نہیں دیکھ رہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہاری زینت ہی سے تو اعراض کر رہا ہوں پھر فرمایا تم اسے چاندی کے ساتھ کیوں نہیں ملاتیں، پھر اسے زعفران کے ساتھ خلط ملط کرلیا کرو جس سے وہ چاندی بھی سونے کی طرح ہوجائیگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26682]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، عطاء بن أبى رباح لم يسمع من أم سلمة
حدیث نمبر: 26683
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرْتُهُ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَلَفَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ شَهْرًا، فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا عَلَيْهِمْ أَوْ رَاحَ , فَقِيلَ لَهُ: حَلَفْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهِمْ شَهْرًا؟ فَقَالَ: " إِنَّ الشَّهْرَ تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قسم کھالی کہ اپنی ازواج کے پاس ایک مہینے تک نہیں جائیں گے، جب ٢٩ دن گزر گئے تو صبح یا شام کے کسی وقت ان کے پاس چلے گئے کسی نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ ایک مہیے تک ان کے پاس نہ جائیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ بعض اوقات ٢٩ دن کا بھی ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26683]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1910، م: 1085
حدیث نمبر: 26684
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَ سَفِينَةُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ كَانَ عَامَّةُ وَصِيَّةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهِ: " الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ" , حَتَّى جَعَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَجْلِجُهَا فِي صَدْرِهِ، وَمَا يَفِيضُ بِهَا لِسَانُهُ .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا یہی کہتے کہتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ مبارک کھڑکھڑانے اور زبان رکنے لگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26684]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، قتادة لم يسمعه من سفينة
حدیث نمبر: 26685
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ، وَاهْدِنِي السَّبِيلَ الْأَقْوَمَ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء کیا کرتے تھے، کہ پروردگا مجھے معاف فرما مجھ پر رحم فرما اور سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26685]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد، والحسن البصري لم يسمع من أم سلمة
حدیث نمبر: 26686
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ وَلَدٍ لِابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , قَالَتْ: كُنْتُ امْرَأَةً لِي ذَيْلٌ طَوِيلٌ، وَكُنْتُ آتِي الْمَسْجِدَ، وَكُنْتُ أَسْحَبُهُ، فَسَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ ، قُلْتُ: إِنِّي امْرَأَةٌ ذَيْلِي طَوِيلٌ، وَإِنِّي آتِي الْمَسْجِدَ، وَإِنِّي أَسْحَبُهُ عَلَى الْمَكَانِ الْقَذِرِ، ثُمَّ أَسْحَبُهُ عَلَى الْمَكَانِ الطَّيِّبِ، فَقَالَتْ أُمَّ سَلَمَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَرَّتْ عَلَى الْمَكَانِ الْقَذِرِ، ثُمَّ مَرَّتْ عَلَى الْمَكَانِ الطَّيِّبِ، فَإِنَّ ذَلِكَ طَهُورٌ" .
ابراہیم بن عبد الرحمن کی ام ولدہ کہتی ہیں کہ میں اپنے کپڑوں کے دامن کو زمین پر گھسیٹ کر چلتی تھی، اس دوران میں ایسی جگہوں سے بھی گزرتی تھی جہاں گندگی پڑی ہوتی اور ایسی جگہوں سے بھی جو صاف ستھری ہوتیں ایک مرتبہ میں حضرت ام سلمہ کے یہاں گئی تو ان سے یہ مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بعد والی جگہ اسے صاف کردیتی ہے۔ (کوئی حرج نہیں) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26686]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام أم ولد إبراهيم بن عبدالرحمن بن عوف
حدیث نمبر: 26687
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ تَاجِرًا إِلَى بُصْرَى وَمَعَهُ نُعَيْمَانُ وَسُوَيْبِطُ بْنُ حَرْمَلَةَ، وَكِلَاهُمَا بَدْرِيٌّ، وَكَانَ سُوَيْبِطٌ عَلَى الزَّادِ، فَجَاءَهُ نُعَيْمَانُ، فَقَالَ: أَطْعِمْنِي، فَقَالَ: لَا، حَتَّى يَأْتِيَ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ نُعَيْمَانُ رَجُلًا مِضْحَاكًا مَزَّاحًا، فَقَالَ: لَأَغِيظَنَّكَ، فَذَهَبَ إِلَى أُنَاسٍ جَلَبُوا ظَهْرًا، فَقَالَ: ابْتَاعُوا مِنِّي غُلَامًا عَرَبِيًّا فَارِهًا، وَهُوَ ذُو لِسَانٍ، وَلَعَلَّهُ يَقُولُ: أَنَا حُرٌّ، فَإِنْ كُنْتُمْ تَارِكِيهِ لِذَلِكَ، فَدَعُونِي لَا تُفْسِدُوا عَلَيَّ غُلَامِي، فَقَالُوا: بَلْ نَبْتَاعُهُ مِنْكَ بِعَشْرِ قَلَائِصَ , فَأَقْبَلَ بِهَا يَسُوقُهَا، وَأَقْبَلَ بِالْقَوْمِ حَتَّى عَقَلَهَا، ثُمّ قَالَ لِلْقَوْمِ: دُونَكُمْ هُوَ هَذَا، فَجَاءَ الْقَوْمُ، فَقَالُوا: قَدْ اشْتَرَيْنَاكَ , قَالَ سُوَيْبِطٌ: هُوَ كَاذِبٌ، أَنَا رَجُلٌ حُرٌّ، فَقَالُوا: قَدْ أَخْبَرَنَا خَبَرَكَ , وَطَرَحُوا الْحَبْلَ في رقبته، فذهبوا به، فجاء أبو بكر فأخبر، فذهب هو وأصحاب له، فردوا القلائص وأخذوه، فضحك منها النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر تجارت کے سلسلے میں بصری کی طرف روانہ ہوئے ان کے ساتھ دو بدری صحابہ نعیمان اور سویبط بن حرملہ بھی تھے، زادراہ کے نگران سویبط تھے ایک موقع پر ان کے پاس نعیمان آئے اور کہنے لگے کہ مجھے کچھ کھانے کے لئے دیدو سویبط نے کہا کہ نہیں جب تک حضرت صدیق اکبر نہ آجائیں نعیمان بہت ہنس مکھ اور بہت حس مزاح رکھنے والے تھے، انہوں نے کہا کہ میں بھی تمہیں غصہ دلا کر چھوڑوں گا۔ پھر وہ کچھ لوگوں کے پاس گئے جو سواریوں پر بیرون ملک سے سامان لاد کر لا رہے تھے اور ان سے کہا کہ مجھ سے غلام خریدو گے جو عربی ہے، خوب ہوشیار ہے، بڑا زبان دان ہے، ہوسکتا ہے کہ وہ یہ بھی کہے کہ میں آزاد ہوں اگر اس بنیاد پر تم اسے چھوڑنا چاہو تو مجھے ابھی سے بتادو میرے غلام کو میرے خلاف نہ کر دینا، انہوں نے کہا ہم آپ سے دس اونٹوں کے عوض اسے خریدتے ہیں، وہ ان اونٹوں کو ہانکتے ہوئے لے آئے اور لوگوں کو بھی اپنے ساتھ لے آئے، جب اونٹوں کو رسیوں سے باندھ لیا تو نعیمان کہنے لگے یہ رہا وہ غلام لوگوں نے آگے بڑھ کر سویبط سے کہا کہ ہم نے انہیں خرید لیا ہے سویبط نے کہا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے، میں تو آزاد ہوں ان لوگوں نے کہا کہ تمہارے آقا نے ہمیں پہلے ہی تمہارے متعلق بتادیا تھا اور یہ کہہ کر ان کی گردن میں رسی ڈال دی اور انہیں لے گئے۔ ادھر حضرت ابوبکر واپس آئے تو انہیں اس واقعے کی خبر ہوئی وہ اپنے ساتھ کچھ ساتھیوں کو لے کر ان لوگوں کے پاس گئے اور ان کے اونٹ واپس لوٹاکر سویبط کو چھڑا لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اس واقعے کے یاد آنے پر ایک سال تک ہنستے رہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26687]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف زمعة بن صالح
حدیث نمبر: 26688
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي هِنْدُ ابْنَةُ الْحَارِثِ الْقُرَشِيَّةُ , أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا , " أَنَّ النِّسَاءَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ قُمْنَ، وَثَبَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبَتَ مَنْ صَلَّى مِنَ الرِّجَالِ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَامَ الرِّجَالُ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام ختم ہوتے ہی خواتین اٹھنے لگتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہونے سے پہلے کچھ دیر اپنی جگہ پر ہی رک جاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26688]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 866
حدیث نمبر: 26689
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَحَرَمِيٌّ الْمَعْنَى , قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ صَاحِبٍ لَهُ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ، فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِينَةِ هَارِبٌ إِلَى مَكَّةَ، فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِهٌ، فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، فَيُبْعَثُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنَ الشَّامِ، فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ، فَإِذَا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ، أَتَتْهُ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ الْعِرَاقِ، فَيُبَايِعُونَهُ، ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ، فَيَبْعَثُ إِلَيْهِ الْمَكِّيُّ بَعْثًا، فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ، وَذَلِكَ بَعْثُ كَلْبٍ، وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَمْ يَشْهَدْ غَنِيمَةَ كَلْبٍ، فَيَقْسِمُ الْمَالَ، وَيُعْمِلُ فِي النَّاسِ سُنَّةَ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَيُلْقِي الْإِسْلَامُ بِجِرَانِهِ إِلَى الْأَرْضِ، يَمْكُثُ تِسْعَ سِنِينَ" , قَالَ حَرَمِيٌّ:" أَوْ سَبْعَ".
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک خلیفہ کی موت کے وقت لوگوں میں نئے خلیفہ کے متعلق اختلاف پیدا ہوجائے گا اس موقع پر ایک آدمی مدینہ منورہ سے بھاگ کر مکہ مکرمہ چلا جائے گا، اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے اور اسے اس کی خواہش کے بر خلاف اسے باہر نکال کر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس سے بیعت کرلیں گے، پھر ان سے لڑنے کے لئے شام سے ایک لشکر روانہ ہوگا جسے مقام بیداء میں دھنسا دیا جائے گا جب لوگ یہ دیکھیں گے تو ان کے پاس شام کے ابدال اور اعراض کے عصائب (اولیاء کا ایک درجہ) آ کر ان سے بیعت کرلیں گے۔ پھر قریش میں سے ایک آدمی نکل کر سامنے آئے گا جس کے اخوال بنوکلب ہوں گے، وہ مکی اس قریشی کی طرف ایک لشکر بھیجے گا جو اس قریشی پر غالب آجائے گا اس لشکر یا جنگ کو بعث کلب کہا جائے گا اور وہ شخص محرم ہوگا جو اس غزوے کے مال غنیمت کی تقسم کے موقع پر موجود نہ ہوگا وہ مالت و دولت تقسم کرے گا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق عمل کرے گا اور اسلام زمین پر اپنی گردن ڈال دے گا اور وہ آدمی نوسال تک زمین میں رہے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26689]
حکم دارالسلام: حديث ضعيف لابهام صاحب أبى خليل، ولاضطراب قتادة فيه
حدیث نمبر: 26690
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ وَهُوَ يَسْتَرْجِعُ , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: " طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُخْسَفُ بِهِمْ , ثُمَّ يُبْعَثُونَ إِلَى رَجُلٍ، فَيَأْتِي مَكَّةَ، فَيَمْنَعُهُ اللَّهُ مِنْهُمْ، وَيُخْسَفُ بِهِمْ، مَصْرَعُهُمْ وَاحِدٌ، وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى" , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَكُونُ مَصْرَعُهُمْ وَاحِدًا , وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى؟ قَالَ:" إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ يُكْرَهُ، فَيَجِيءُ مُكْرَهًا" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نیند سے بیدار ہوئے تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ رہے تھے، میں نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے ایک گروہ کو زمین میں دھنسادیا جائے گا پھر وہ لوگ ایک لشکر مکہ مکرمہ میں ایک آدمی کی طرف بھیجیں گے، اللہ اس آدمی کی ان سے حفاظت فرمائے گا اور انہیں زمین میں دھنسا دے گا، وہ سب ایک ہی جگہ پچھاڑے جائیں گے، لیکن ان کے اٹھائے جانے کی جگہیں مختلف ہوں گی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیسے ہوگا؟ فرمایا ان میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہوں گے جنہیں زبردستی لشکر میں شامل کیا گیا ہوگا تو اسی حال میں آئیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26690]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد