🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1176. حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26651
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ ، عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ: كُنَّا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ فَحَدَّثَ , عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيهِمَا، فَأَرْسَلَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَائِشَةَ وَأَنَا فِيهِمْ، فَسَأَلْنَاهَا، فَقَالَتْ: لَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَكِنْ حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ , فَسَأَلْتُهَا، فَحَدَّثَتْ أُمُّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أُتِيَ بِشَيْءٍ، فَجَعَلَ يَقْسِمُهُ حَتَّى حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا صَلَّاهَا، قَالَ: " هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ كُنْتُ أُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الظُّهْرِ" , فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَلَقَدْ حَدَّثْتُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُمَا , قَالَ: فَأَتَيْتُ مُعَاوِيَةَ، فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: أَلَيْسَ قَدْ صَلَّاهُمَا، لَا أَزَالُ أُصَلِّيهِمَا، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: إِنَّكَ لَمُخَالِفٌ، لَا تَزَالُ تُحِبُّ الْخِلَافَ مَا بَقِيتَ.
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ حضرت معاویہ کے پاس تھے کہ حضرت ابن زبیر نے حضرت عائشہ کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، حضرت معاویہ نے حضرت عائشہ کے پاس کچھ لوگوں کو بھیج دیا جن میں، میں بھی شامل تھا، ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے خود تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہیں سنی البتہ اس کے متعلق مجھے حضرت ام سلمہ نے بتایا تھا، حضرت معاویہ نے حضرت ام سلمہ کے پاس قاصد کو بھیج دیا، حضرت ام سلمہ نے فرمایا دراصل بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی اس دن کہیں سے مال آیا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے تقسیم کرنے کے لئے بیٹھ گئے حتی کہ مؤذن عصر کی اذان دینے لگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی اور میرے ہاں تشریف لے آئے کیونکہ اس دن میری باری تھی اور میرے یہاں دومختصر رکعتیں پڑھیں اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ دو رکعتیں کیسی ہیں جن کا آپ کو حکم دیا گیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ یہ وہ رکعتیں ہیں جو میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا لیکن مال کی تقسم میں ایسا مشغول ہوا کہ مؤذن میرے پاس عصر کی نماز کی اطلاع لے کر آگیا، میں نے انہیں چھوڑنا مناسب نہ سمجھا (اس لئے اب پڑھ لیا) یہ سن کر حضرت ابن زبیر نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک مرتبہ تو پڑھا ہے؟ واللہ میں نہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا، حضرت معاویہ نے فرمایا آپ ہمیشہ مخالفت کرتے ہیں اور جب تک زندہ رہیں گے مخالفت ہی کو پسند کریں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26651]

حکم دارالسلام: صلاة النبى ﷺ ركعتين بعد العصر صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26652
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَحَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ تُحَدِّثُ، عَنْ أُمِّهَا , أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا، فَخَافُوا عَلَى عَيْنِهَا، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الْكُحْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَكُونُ فِي بَيْتِهَا فِي أَحْلَاسِهَا أَوْ فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا فِي بَيْتِهَا حَوْلًا، فَإِذَا مَرَّ كَلْبٌ , رَمَتْ بِبَعْرَةٍ، فَخَرَجَتْ، أفَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا؟" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت جس کا خاوند فوت ہوگیا تھا کی آنکھوں میں شکایت پیدا ہوگئی انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا اور اس کی آنکھوں میں سرمہ لگانے کی اجازت چاہی اور کہنے لگے کہ ہمیں اس کی آنکھوں کے متعلق ضائع ہونے کا اندیشہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (زمانہ جاہلیت میں) تم میں سے ایک عورت ایک سال تک اپنے گھر میں گھٹیا ترین کپڑے پہن کر رہتی تھی پھر اس کے پاس سے ایک کتا گزرا جاتا تھا اور وہ مینگنیاں پھینکتی ہوئی باہر نکلتی تھی تو کیا اب چار مہینے دس دن نہیں گزار سکتی؟ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26652]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5336، م: 1488
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26653
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَريَّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ: " لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا تَامًّا يُعْلَمُ إِلَّا شَعْبَانَ، يَصِلُ بِهِ رَمَضَانَ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا، البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کو رمضان کے روزے سے ملادیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26653]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26654
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عُمَرَ أَوْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْحَرَ فِي هِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب عشرہ ذی الحجہ شروع ہوجائے اور کسی شخص کا قربانی کا ارادہ ہو تو اسے اپنے (سر کے) بال یا جسم کے کسی حصے (کے بالوں) کو ہاتھ نہیں لگانا (کاٹنا اور تراشنا) چاہئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26654]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1977
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26655
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26655]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1977، وإسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26656
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ نَبْهَانَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا وَجَدَ الْمُكَاتَبُ مَا يُؤَدِّي، فَاحْتَجِبْنَ مِنْهُ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم خواتین میں سے کسی کا کوئی غلام مکاتب ہو اور اس کے پاس اتنا بدل کتابت ہو کہ وہ اسے اپنے مالک کے حوالے کرکے خود آزادی حاصل کرسکتے تو اس عورت کو اپنے غلام سے پردہ کرنا چاہئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26656]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة نبهان، ومما يدل على ضعف هذا الحديث عمل السيدة عائشة بخلافه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26657
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حُضِرَ، جَعَلَ يَقُولُ: " الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ" , فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِهَا، وَمَا يَكَادُ يَفِيضُ بِهَا لِسَانُهُ .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا یہی کہتے کہتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ مبارک کھڑکھڑانے اور زبان رکنے لگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26657]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، أبو الخليل لم يسمع من سفينة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26658
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَحَجَّاجٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ رَبِّهِ بْنَ سَعِيدٍ ، قَالَ حَجَّاجٌ: وَعَبْدَ رَبِّهِ بْنَ سَعِيدٍ، أَخَا يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: اخْتَلَفَ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: تُزَوَّجُ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَبْعَدَ الْأَجَلَيْنِ , قَالَ: فَبَعَثُوا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ: تُوُفِّيَ زَوْجُ سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَوَلَدَتْ بَعْدَ وَفَاتِهِ بِخَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً , فَخَطَبَهَا رَجُلَانِ، قَالَ: فَحَطَّتْ بِنَفْسِهَا إِلَى أَحَدِهِمَا، فَلَمَّا خَشُوا أَنْ تَفْتَاتَ بِنَفْسِهَا إِلَى أَحَدِهِمَا، قَالُوا: إِنَّكِ لَمْ تَحِلِّي، فَانْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَدْ حَلَلْتِ، فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ" .
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ اور ابن عباس کے درمیان اس عورت کے متعلق اختلاف رائے ہوگیا جس کا شوہر فوت ہوجائے اور اس کے یہاں بچہ پیدا ہوجائے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ وضع حمل کے بعد وہ نکاح کرسکتی ہے، حضرت ابن عباس کا کہنا تھا کہ وہ دو میں سے ایک طویل مدت کی عدت گزارے گی، پھر انہوں نے حضرت ام سلمہ کے پاس ایک قاصد بھیجا تو انہوں نے فرمایا کہ سبیعہ بنت حارث کے شوہر فوت ہوگئے تھے، ان کی وفات کے صرف پندرہ دن یعنی آدھ مہینہ بعد ہی ان کے یہاں بچہ پیدا ہوگیا پھر دو آدمیوں نے سبیعہ کے پاس پیغام نکاح بھیجا اور ایک آدمی کی طرف ان کا جھکاؤ بھی ہوگیا، جب لوگوں کو محسوس ہوا کہ وہ ان میں سے کسی ایک کی طرف متوجہ ہوجائے گی تو وہ کہنے لگے کہ ابھی تم حلال نہیں ہوئیں، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم حلال ہوچکی ہو اس لئے جس سے چاہو نکاح کرسکتی ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26658]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26659
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ مِنْ أَصْحَابِي لَمَنْ لَا يَرَانِي بَعْدَ أَنْ أَمُوتَ أَبَدًا" , قَالَ: فَخَرَجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مِنْ عِنْدِهَا مَذْعُورًا حَتَّى دَخَلَ عَلَى عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ: اسْمَعْ مَا تَقُولُ أُمُّكَ، فَقَامَ عُمَرُ حَتَّى أَتَاهَا، فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَسَأَلَهَا، ثُمَّ قَالَ: أَنْشُدُكِ بِاللَّهِ، أَمِنْهُمْ أَنَا؟ فَقَالَتْ: لَا، وَلَنْ أُبَرِّئَ بَعْدَكَ أَحَدًا.
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ان کے پاس آئے اور کہنے لگے اماں جان مجھے اندیشہ ہے کہ مال کی کثرت مجھے ہلاک نہ کردے۔ کیونکہ میں قریش میں سب سے زیادہ مالدار ہوں انہوں نے جواب دیا کہ بیٹا اسے خرچ کرو کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے بعض ساتھی ایسے بھی ہوں گے کہ میری ان سے جدائی ہونے کے بعد وہ مجھے دوبارہ کبھی نہ دیکھ سکیں گے، حضرت عبدالرحمن بن عوف جب باہر نکلے تو راستے میں حضرت عمر سے ملاقات ہوگئی انہوں نے حضرت عمر کو یہ بات بتائی حضرت عمر خود حضرت ام سلمہ کے پاس پہنچے اور گھر میں داخل ہو کر فرمایا اللہ کی قسم کھا کر بتائیے کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ انہوں نے فرمایا نہیں لیکن آپ کے بعد میں کسی کے متعلق یہ بات نہیں کہہ سکتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26659]

حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد خالف فيه عاصم الأعمش، وشريك سييء الحفظ، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26660
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، أَنَّ أُمَّهُ زَيْنَبَ ابْنَةَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَقُولُ: " أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ أَحَدًا بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ، وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ: وَاللَّهِ مَا نُرَى هَذَا إِلَّا رُخْصَةً أَرْخَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ خَاصَّةً، فَمَا هُوَ بِدَاخِلٍ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ، وَلَا رَائِينَا" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات اس بات سے انکار کرتی ہیں کہ بڑی عمر کے کسی آدمی کو دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے اور ایسا کوئی آدمی ان کے پاس آسکتا ہے، ان سب نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی کہا تھا کہ ہمارے خیال میں یہ رخصت تھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف سالم کو خصوصیت کے ساتھ دی تھی لہذا اس رضاعت کی بنیاد پر ہمارے پاس کوئی آسکتا ہے اور نہ ہی ہمیں دیکھ سکتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26660]

حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1454
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں