مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1185. حَدِيثُ أُمِّ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَهِيَ أُخْتُ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
حدیث نمبر: 26878
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي رَأَيْتُ فِي مَنَامِي أَنَّ فِي بَيْتِي أَوْ حُجْرَتِي عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِكَ، قَالَ: " تَلِدُ فَاطِمَةُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غُلَامًا، فَتَكْفُلِينَهُ" , فَوَلَدَتْ فَاطِمَةُ حَسَنًا، فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهَا، فَأَرْضَعَتْهُ بِلَبَنِ قُثَمَ، وَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا أَزُورُهُ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعَهُ عَلَى صَدْرِهِ، فَبَالَ عَلَى صَدْرِهِ، فَأَصَابَ الْبَوْلُ إِزَارَهُ، فَزَخَخْتُ بِيَدِي عَلَى كَتِفَيْهِ، فَقَالَ:" أَوْجَعْتِ ابْنِي أَصْلَحَكِ اللَّهُ" أَوْ قَالَ:" رَحِمَكِ اللَّهُ" , فَقُلْتُ: أَعْطِنِي إِزَارَكَ أَغْسِلْهُ، فَقَالَ:" إِنَّمَا يُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ، وَيُصَبُّ عَلَى بَوْلِ الْغُلَامِ" .
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی عضو میرے گھر میں آگیا ہے، مجھے اس خواب سے بڑی پریشانی لاحق ہوئی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنا خواب ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اچھا خواب دیکھا ہے، فاطمہ کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوگا اور تم اپنے بیٹے قثم کے ذریعے آنے والے دودھ سے اس کی بھی پرورش کرو گی، چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت فاطمہ کے یہاں امام حسن پیدا ہوئے اور میں نے ہی انہیں دودھ پلایا یہاں تک کہ وہ چلنے پھرنے لگے اور میں نے ان کا دودھ چھڑادیا۔ پھر میں انہیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بٹھادیا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کردیا یہ دیکھ کر میں نے ان کے کندھوں کے درمیان ہلکا سا ہاتھ مارا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تم پر رحم کرے میرے بیٹے پر ترس کھاؤ! تم نے میرے بیٹے کو تکلیف دی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ اپنی یہ چادر اتاردیں اور دوسرے کپڑے پہن لیں تاکہ میں اسے دھودوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دھویا تو بچی کا پیشاب جاتا ہے، بچے کے پیشاب پر صرف چھینٹے مارلئے جاتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26878]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26879
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، أَنَّ الرَّسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ، أَوْ الْإِمْلَاجَتَانِ" .
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دو گھونٹ سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26879]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1451
حدیث نمبر: 26880
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ الْفَضْلِ ، قَالَتْ: إِنَّ آخِرَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَرَأَ فِي الْمَغْرِبِ سُورَةَ الْمُرْسَلَاتِ" .
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ میں نے سب سے آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں سورت مرسلات کی تلاوت فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26880]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4429، م: 462
حدیث نمبر: 26881
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ , حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ , أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُمْ شَكُّوا فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، " فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِلَبَنٍ، فَشَرِبَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِعَرَفَةَ عَلَى بَعِيرِهِ" .
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) عرفہ کے دن لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق شک تھا حضرت ام الفضل نے فرمایا میں ابھی تمہیں معلوم کرکے بتاتی ہوں چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ بھجوایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمالیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26881]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1988، م: 1123
حدیث نمبر: 26882
26185 حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ مُخَارِقٍ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، قَالَتْ: " أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَذَكَرَتْ مِثْلَ حَدِيثِ عَفَّانَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26882]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على سماك بن حرب
حدیث نمبر: 26883
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَالِمٍ أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ , أَنَّهُمْ تَمَارَوْا فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، " فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحٍ فِيهِ لَبَنٌ، فَشَرِبَهُ" .
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) عرفہ کے دن لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق شک تھا حضرت ام الفضل نے فرمایا میں ابھی تمہیں معلوم کر کے بتاتی ہوں چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ بھجوایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمالیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26883]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5636، م: 1123
حدیث نمبر: 26884
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ . ح وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ الْمَعْنَى، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ سَمِعَتْهُ وَهُوَ يُقْرَأُ: (وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا) , فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ، وَاللَّهِ لَقَدْ ذَكَّرْتَنِي بِقِرَاءَتِكَ هَذِهِ السُّورَةَ،" إِنَّهَا لَآخِرُ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي الْمَغْرِبِ" .
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس کی سورت مرسلات پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا واللہ پیارے بیٹے تم نے یہ سورت پڑھ کر مجھے یاددلا دیا ہے کہ یہ آخری سورت ہے جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں تلاوت فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26884]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 763، م: 462
حدیث نمبر: 26885
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّهُ أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ، قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي أُمُّ الْفَضْلِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ، أَتَتْهُ بِلَبَنٍ، فَشَرِبَهُ" .
حضرت ابن عباس کے حوالے سے مروی ہے کہ انہوں نے میدان عرفہ میں روزہ نہ رکھنے کا اظہار اس طرح کیا کہ ان کے پاس ایک انار لایا گیا جو انہوں نے کھالیا اور فرمایا کہ مجھے (میری والدہ) حضرت ام الفضل نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے دن روزہ نہیں رکھا تھا کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ لے کر حاضر ہوئی تھیں جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرما لیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26885]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1658، م: 1123
حدیث نمبر: 26886
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ، سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُحَرِّمُ الْمَصَّةُ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا" , وَقَالَ عَفَّانُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ، فَذَكَرَهُ.
حضرت ام الفضل سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تھے کہ ایک دیہاتی آگیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! کیا ایک دو گھونٹ دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت ہوجاتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دو گھونٹ سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26886]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1451