مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1186. حَدِيثُ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَاسْمُهَا فَاخِتَةُ
حدیث نمبر: 26887
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ بِأَعْلَى مَكَّةَ، فَأَتَيْتُهُ، فَجَاءَ أَبُو ذَرٍّ بِجَفْنَةٍ فِيهَا مَاءٌ , قَالَتْ: إِنِّي لَأَرَى فِيهَا أَثَرَ الْعَجِينِ. قَالَتْ: فَسَتَرَهُ يَعْنِي أَبَا ذَرٍّ " فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، وَذَلِكَ فِي الضُّحَى" .
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بالائی حصے میں پڑاؤ ڈالا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اسی دوران حضرت ابوذر ایک پیالہ لے کر آئے جس میں پانی تھا اور اس پر آٹے کے اثرات لگے ہوئے مجھے نظر آرہے تھے حضرت ابوذر نے آڑ کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمالیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ چاشت کا وقت تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26887]
حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قصة أبى ذر مع النبى ، والثابت أن فاطمة هي التى كانت تستر النبى ، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الملطب بن عبدالله لم يلق أم هاني
حدیث نمبر: 26888
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ , قَالَتْ: دَخَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ، فَوَجَدْتُهُ قَدْ " اغْتَسَلَ بِمَاءٍ كَانَ فِي صَحْفَةٍ، إِنِّي لَأَرَى فِيهَا أَثَرَ الْعَجِينِ، فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي ضُحًى" , قُلْتُ: إِخَالُ خَبَرَ أُمِّ هَانِئٍ هَذَا ثَبَتَ؟ قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: ابْنُ بَكْرٍ: الضُّحَى.
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بالائی حصے میں پڑاؤ ڈالا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اسی دوران حضرت ابوذر ایک پیالہ لے کر آئے جس میں پانی تھا اور اس پر آٹے کے اثرات لگے ہوئے مجھے نظر آرہے تھے حضرت ابوذرنے آڑ کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمالیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ چاشت کا وقت تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26888]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عطاء لم يسمع من أم هاني
حدیث نمبر: 26889
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ وَكَانَ نَازِلًا عَلَيْهَا , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ " سُتِرَ عَلَيْهِ، فَاغْتَسَلَ فِي الضُّحَى، فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، لَا يُدْرَى، أَقِيَامُهَا أَطْوَلُ أَمْ سُجُودُهَا؟" .
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بالائی حصے میں پڑاؤ ڈالا، حضرت ابوذر نے آڑ کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمالیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ چاشت کا وقت تھا، یہ معلوم نہیں کہ ان کا قیام لمبا تھا یا سجدہ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26889]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الزهري
حدیث نمبر: 26890
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ: " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ مَرَّةً، وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ" .
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مکہ مکرمہ تشریف لائے تو اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے چار حصے چار مینڈھیوں کی طرح تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26890]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه ، مجاهد لم يسمع من أم هانئ
حدیث نمبر: 26891
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ . ح وَرَوْحٌ قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، قَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِهِ , حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ ، قَالَتْ لِي: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ سورة العنكبوت آية 29 , قَالَ: " كَانُوا يَخْذِفُونَ أَهْلَ الطَّرِيقِ وَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ، فَذَاكَ الْمُنْكَرُ الَّذِي كَانُوا يَأْتُونَ" , قَالَ رَوْحٌ: فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ سورة العنكبوت آية 29.
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اس ارشاد باری تعالیٰ وتاتو ن فی نادیکم المنکر سے کیا مراد ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قوم لوط کا یہ کام تھا کہ وہ راستے میں چلنے والوں پر کنکریاں اچھالتے تھے اور ان کی ہنسی اڑاتے تھے، یہ ہے وہ ناپسندیدہ کام جو وہ کیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26891]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى صالح مولى أم هانئ
حدیث نمبر: 26892
حَدَّثَنَا زيدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ، أَجَرْتُ حَمْوَيْنِ لِي مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِذْ طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَيْهِ رَهْجَةُ الْغُبَارِ فِي مِلْحَفَةٍ مُتَوَشِّحًا بِهَا، فَلَمَّا رَآنِي، قَالَ:" مَرْحَبًا بِفَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَجَرْتُ حَمْوَيْنِ لِي مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: " قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ، وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ" , ثُمَّ أَمَرَ فَاطِمَةَ، فَسَكَبَتْ لَهُ مَاءً، فَتَغَسَّلَ بِهِ، فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي الثَّوْبِ مُتَلَبِّبًا بِهِ، وَذَلِكَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ضُحًى .
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں نے اپنے دو دیوروں کو جو مشرکین میں سے تھے پناہ دیدی اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم گرد و غبار میں اٹے ہوئے ایک لحاف میں لپٹے ہوئے تشریف لائے مجھے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فاختہ ام ہانی کو خوش آمدید کہو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے اپنے دو دیوروں کو جو مشرکین میں سے ہیں پناہ دیدی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسے تم نے پناہ دیدی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں جسے تم نے امن دیا اسے ہم بھی امن دیتے ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ کو حکم دیا انہوں نے پانی رکھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے غسل فرمایا پھر ایک کپڑے میں اچھی طرح لپٹ کر آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ فتح مکہ کے دن چاشت کے وقت کی بات ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26892]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26893
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَعْدَةَ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَدَعَا بِشَرَابٍ، فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَهَا فَشَرِبَتْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَمَا إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِيرُ نَفْسِهِ، إِنْ شَاءَ صَامَ، وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ" , قَالَ: قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَهُ أَنْتَ مِنْ أُمِّ هَانِئٍ؟ قَالَ: لَا، حَدَّثَنِيهِ أَبُو صَالِحٍ وَأَهْلُنَا، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: كُنْتُ أَسْمَعُ سِمَاكًا , يَقُولُ: حَدَّثَنَا ابْنَ أُمِّ هَانِئٍ، فَأَتَيْتُ أَنَا خَيْرَهُمَا وَأَفْضَلَهُمَا، فسألته، وكان يقال له: جعدة.
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور ان سے پانی منگوا کر اسے نوش فرمایا پھر وہ برتن انہیں پکڑا دیا انہوں نے بھی اس کا پانی پی لیا پھر یاد آیا تو کہنے لگیں یا رسول اللہ! میں تو روزے سے تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نفلی روزہ رکھنے والا اپنی ذات پر خود امیر ہوتا ہے چاہے تو روزہ برقرار رکھے اور چاہے تو روزہ ختم کردے۔ ابن ام ہانی کہتے ہیں کہ میں ان دونوں میں سے بہترین اور سب سے افضل کے پاس گیا اور ان سے مذکورہ حدیث کی تصدیق کی ان کا نام جعدہ تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26893]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة جعدة، وأبو صالح ضعيف
حدیث نمبر: 26894
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ يَعْنِي ابْنَ خَبَّابٍ , قَالَ: نَزَلْتُ أَنَا وَمُجَاهِدٌ عَلَى يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ بْنِ أُمِّ هَانِئٍ فَحَدَّثَنَا , عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ: " أَنَا أَسْمَعُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، وَأَنَا عَلَى عَرِيشِي هَذَا، وَهُوَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ" .
ابن خباب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور مجاہد یحییٰ بن جعدہ کے پاس گئے تو انہوں نے حضرت ام ہانی کے حوالے سے ہمیں یہ حدیث سنائی کہ میں رات کے آدھے حصے میں نبی علیہ السلا کی قرأت سن رہی تھی اس وقت میں اپنے اسی گھر کی چھت پر تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے قریب تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26894]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26895
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو , وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ: " اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ" .
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت میمونہ نے ایک ہی برتن سے غسل فرمایا وہ ایک پیالہ تھا جس میں آٹے کے اثرات واضح تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26895]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهو فى الحقيقة حديثان جمعا معا، أما الأول - وهو قصة اغتساله ﷺ و ميمونة من إناء واحد - فثابت من حديث ميمونة، وأما الثاني - وهو قصة اغتساله ﷺ... فهو ثابت من حديث ام هاني
حدیث نمبر: 26896
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُرَّةَ وَكَانَ شَيْخًا قَدْ أَدْرَكَ أُمَّ هَانِئٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَجَرْتُ حَمْوَيْنِ لِي، فَزَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتَلَهُ تَعْنِي عَلِيًّا، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ" , وَصُبَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءٌ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبٍ عَلَيْهِ، وَخَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقِهِ، فَصَلَّى الضُّحَى، ثَمَانِي رَكَعَاتٍ" .
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں نے اپنے دو دیوروں کو جو مشرکین میں سے تھے،، پناہ دیدی اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم گرد و غبار میں اٹے ہوئے ایک لحاف میں لپٹے ہوئے تشریف لائے مجھے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فاختہ ام ہانی کو خوش آمدید، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے اپنے دودیوروں کو جو مشرکین میں سے ہیں پناہ دیدی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسے تم نے پناہ دیدی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں، جسے تم نے امن دیا اسے ہم بھی امن دیتے ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ کو حکم دیا انہوں نے پانی رکھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے غسل فرمایا پھر ایک کپڑے میں اچھی طرح لپٹ کر آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ فتح مکہ کے دن چاشت کے وقت کی بات ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26896]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن