🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

32. بَابُ إِذَا لَطَمَ الْمُسْلِمُ يَهُودِيًّا عِنْدَ الْغَضَبِ:
باب: جب مسلمان غصہ میں یہودی کو تھپڑ مار ڈالے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q6916
رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
‏‏‏‏ اس کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: Q6916]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6916
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے، انہوں نے عمرو بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو اور پیغمبروں سے مجھ کو فضیلت مت دو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 6916]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء علیہم السلام کے مابین ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 6916]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6917
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبيه، عَنْ أَبي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِكَ مِنَ الَأنْصَارِ قَدْ لَطَمَ وَجْهِي، قَالَ: أَدْعُوهُ، فَدَعَوْهُ، قَالَ: لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ؟، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي مَرَرْتُ بِالْيَهُودِ، فَسَمِعْتَهُ يَقُولُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ، قَالَ: قُلْتُ: وَعَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: فَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ، فَلَطَمْتُهُ، قَالَ: لَا تُخَيِّرُونِي مِنْ بَيْنِ الْأنْبِيَاءِ، فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ يَوْمَ القِيَامَةٍ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي أَمْ جُوزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ".
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے انہوں نے اپنے والد (یحییٰ بن عمارہ) سے، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا یہود میں سے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کو کسی نے طمانچہ لگایا تھا۔ کہنے لگا: اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہارے اصحاب میں سے ایک انصاری شخص نے مجھ کو طمانچہ مارا۔ آپ نے لوگوں سے فرمایا اس کو بلاؤ تو انہوں نے بلایا (وہ حاضر ہوا) آپ نے پوچھا تو نے اس کے منہ پر طمانچہ کیوں مارا۔ وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! ایسا ہوا کہ میں یہودیوں کے پاس سے گزرا، میں نے سنا یہ یہودی یوں قسم کھا رہا تھا قسم اس پروردگار کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو سارے آدمیوں میں سے چن لیا۔ میں نے کہا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی وہ افضل ہیں؟ اور اس وقت مجھے غصہ آ گیا۔ میں نے ایک طمانچہ لگا دیا (غصے میں یہ خطا مجھ سے ہو گئی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (دیکھو خیال رکھو) اور پیغمبروں پر مجھ کو فضیلت نہ دو قیامت کے دن ایسا ہو گا سب لوگ (ہیبت خداوندی سے) بیہوش ہو جائیں گے پھر میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا۔ کیا دیکھوں گا موسیٰ علیہ السلام (مجھ سے بھی پہلے) عرش کا ایک کونہ تھامے کھڑے ہیں۔ اب یہ میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ جائیں گے یا کوہ طور پر جو (دنیا میں) بیہوش ہو چکے تھے اس کے بدل وہ آخرت میں بیہوش ہی نہ ہوں گے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 6917]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ اسے کسی نے طمانچہ لگایا تھا۔ اس نے کہا: یا محمد! تمہارے اصحاب میں سے ایک انصاری نے مجھ کو طمانچہ مارا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بلاؤ۔ لوگوں نے اس کو بلایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس کو چہرے پر طمانچہ مارا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں یہودیوں کے پاس سے گزرا تو میں نے سنا کہ یہ (یہودی) کہہ رہا تھا: مجھے اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے! میں نے کہا: وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی افضل ہیں؟ مجھے اس وقت غصہ آیا تو میں نے اس کے منہ پر طمانچہ رسید کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دوسرے انبیاء علیہ السلام پر برتری نہ دیا کرو، کیونکہ لوگ قیامت کے دن بے ہوش ہو جائیں گے، پھر مجھے سب سے پہلے ہوش آئے گا تو اچانک موسیٰ علیہ السلام عرش کا پایہ پکڑے ہوں گے، نہ معلوم وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے یا کوہِ طور پر جو بے ہوش ہو چکے تھے اس کے بدلے وہ آخرت میں بے ہوش ہی نہ ہوئے ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 6917]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں