🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. بَابُ جَامِعِ مَا جَاءَ فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ
کھانے پینے کی مختلف احادیث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1693
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ يَأْكُلُ خُبْزًا بِسَمْنٍ، فَدَعَا رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَيَتَّبِعُ بِاللُّقْمَةِ وَضَرَ الصَّحْفَةِ، فَقَالَ عُمَرُ :" كَأَنَّكَ مُقْفِرٌ؟" فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَكَلْتُ سَمْنًا وَلَا لُكْتُ أَكْلًا بِهِ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ عُمَرُ: " لَا آكُلُ السَّمْنَ حَتَّى يَحْيَا النَّاسُ مِنْ أَوَّلِ مَا يَحْيَوْنَ"
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ روٹی گھی سے لگا کر کھا رہے تھے، ایک بدو آیا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو بلایا، وہ بھی کھانے لگا اور روٹی کے ساتھ جو گھی کا میل کچیل پیالے میں لگ رہا تھا وہ بھی کھانے لگا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بڑا ندیدہ ہے (یعنی تجھ کو سالن میسر نہیں ہوا)۔ اس نے کہا: قسم اللہ کی! میں نے اتنی مدت سے گھی نہیں کھایا، نہ اس کے ساتھ کھاتے دیکھا (اس وجہ سے کہ اس زمانے میں ایک مدت سے قحط تھا، لوگ تکلیف میں مبتلا تھے)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں بھی گھی نہ کھاؤں گا جب تک کہ لوگوں کی حالت پہلے کی سی نہ ہو جائے (یعنی قحط جاتا رہے اور ارزانی ہو جائے)۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1693]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 5682، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34453، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 29»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1694
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، " يُطْرَحُ لَهُ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ فَيَأْكُلُهُ حَتَّى يَأْكُلَ حَشَفَهَا"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک صاع کھجور کا ڈالا جاتا تھا، وہ اس کو کھاتے تھے یہاں تک کہ خراب اور سوکھی کھجور بھی کھالیتے تھے، اور اس وقت آپ رضی اللہ عنہ امیرالمؤمنین تھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1694]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 5676، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34478، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 30»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1695
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنِ الْجَرَادِ، فَقَالَ: " وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي قَفْعَةً نَأْكُلُ مِنْهُ"
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ٹڈی کے بارے میں (یعنی حلال ہے یا حرام؟) پوچھا گیا۔ تو کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے: میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس ایک زنبیل ہوتی ٹڈیوں کی کہ میں ان کو کھایا کرتا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1695]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18999، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8758، 8759، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 24553، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 30»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1696
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ خُثَيْمٍ ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ بِأَرْضِهِ بِالْعَقِيقِ، فَأَتَاهُ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَلَى دَوَابٍّ فَنَزَلُوا عِنْدَهُ، قَالَ حُمَيْدٌ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ :" اذْهَبْ إِلَى أُمِّي، فَقُلْ: إِنَّ ابْنَكِ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ، وَيَقُولُ: أَطْعِمِينَا شَيْئًا"، قَالَ: فَوَضَعَتْ ثَلَاثَةَ أَقْرَاصٍ فِي صَحْفَةٍ وَشَيْئًا مِنْ زَيْتٍ وَمِلْحٍ، ثُمَّ وَضَعَتْهَا عَلَى رَأْسِي وَحَمَلْتُهَا إِلَيْهِمْ، فَلَمَّا وَضَعْتُهَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ كَبَّرَ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَشْبَعَنَا مِنَ الْخُبْزِ بَعْدَ أَنْ لَمْ يَكُنْ طَعَامُنَا إِلَّا الْأَسْوَدَيْنِ الْمَاءَ وَالتَّمْرَ"، فَلَمْ يُصِبْ الْقَوْمُ مِنَ الطَّعَامِ شَيْئًا، فَلَمَّا انْصَرَفُوا، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي " أَحْسِنْ إِلَى غَنَمِكَ وَامْسَحْ الرُّعَامَ عَنْهَا، وَأَطِبْ مُرَاحَهَا وَصَلِّ فِي نَاحِيَتِهَا، فَإِنَّهَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ تَكُونُ الثُّلَّةُ مِنَ الْغَنَمِ أَحَبَّ إِلَى صَاحِبِهَا مِنْ دَارِ مَرْوَانَ"
حضرت حمید بن مالک سے روایت ہے کہ میں بیٹھا ہوا تھا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی زمین میں جو عقیق میں تھی، اس کے پاس کچھ لوگ مدینہ کے آئے جانوروں پر سوار ہو کر وہیں اترے۔ حمید نے کہا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: میری ماں کے پاس جاؤ اور میرا سلام ان سے کہو اور کہو کچھ کھانا ہم کو کھلاؤ۔ حمید نے کہا (میں ان کی ماں کے پاس گیا): انہوں نے تین روٹیاں اور کچھ تیل زیتوں کا اور کچھ نمک دیا، اور میرے سر پر لاد دیا، میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا اور ان کے سامنے رکھ دیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دیکھ کر کہا: اللہ اکبر، اور کہا: شکر ہے اللہ کا جس نے ہم کو سیر کیا روٹی سے، اس سے پہلے ہمارا یہ حال تھا کہ سوائے کھجور کے اور پانی کے کچھ میسر نہیں تھا، وہ کھانا ان لوگوں کو پورا نہ ہوا، جب وہ چلے گئے تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: اے بیٹے میرے بھائی کے! اچھی طرح رکھ بکریوں کو، اور پونچھتا رہ ناک ان کی، اور صاف کر جگہ ان کی، اور نماز پڑھ اسی جگہ ایک کونے میں، کیونکہ وہ بہشت کے جانوروں میں سے ہیں، قسم اللہ کی! جس کے قبضے میں میری جان ہے، ایک زمانہ قریب ہے ایسے لوگوں پر آئے گا کہ اس وقت ایک چھوٹا سا گلہ بکریوں کا آدمی کو زیادہ پسند ہوگا مروان کے گھر سے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1696]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه بخاري فى «الادب المفرد» برقم: 572، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 795، 796، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1384، 1700، 1701، 2314، 2317، والترمذي فى «جامعه» برقم: 348، 349، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1431، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 768، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4426، وأحمد فى «مسنده» برقم: 9756، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 1600، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 3900، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 31»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1697
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ وَمَعَهُ رَبِيبُهُ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَمِّ اللَّهَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ"
حضرت ابونعیم وہب بن کیسان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانا آیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ربیب عمر بن ابی سلمہ تھے (سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے پہلے خاوند کے)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: اپنے سامنے سے کھا بسم اللہ کہہ کر۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1697]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5378، والنسائی فى «الكبریٰ» برقم: 6727، 10039، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19544، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 156، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 32»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1698
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ لِي يَتِيمًا وَلَهُ إِبِلٌ أَفَأَشْرَبُ مِنْ لَبَنِ إِبِلِهِ؟ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : " إِنْ كُنْتَ تَبْغِي ضَالَّةَ إِبِلِهِ، وَتَهْنَأُ جَرْبَاهَا وَتَلُطُّ حَوْضَهَا وَتَسْقِيهَا يَوْمَ وِرْدِهَا، فَاشْرَبْ غَيْرَ مُضِرٍّ بِنَسْلٍ وَلَا نَاهِكٍ فِي الْحَلْبِ"
حضرت یحییٰ بن سعید نے کہا: میں نے سنا قاسم بن محمد کہتے تھے کہ ایک شخص آیا سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس اور کہا: میرے پاس ایک یتیم لڑکا ہے، اس کے اونٹ ہیں، کیا میں دودھ ان کا پیوں؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اگر تو اس کے گُم ہوئے اونٹ ڈھونڈتا ہے، اور خارشی اونٹ میں دوا لگاتا ہے، اور ان کا حوض لیپتا پوتتا ہے، اور ان کو پانی کے دن پانی پلاتا ہے (مطلب یہ کہ محنت کرتا ہے اور اونٹوں کی خبر گیری کرتا ہے) تو دودھ ان کا پی، مگر اس طرح نہیں کہ بچے کے لئے نہ بچے (یعنی سب دودھ نہ نچوڑ کہ بچہ بھوکا رہ جائے)، اور نسل کو ضرر پہنچے، یا اس اونٹنی کو ضرر پہنچے (مثلاً خوب زور سے دوہے)۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1698]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10996، 12670، 12793، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 571، وبغوي فى «شرح السنة» ‏‏‏‏برقم: 2206، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 33»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1699
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ لَا يُؤْتَى أَبَدًا بِطَعَامٍ وَلَا شَرَابٍ حَتَّى الدَّوَاءُ فَيَطْعَمَهُ أَوْ يَشْرَبَهُ، إِلَّا قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا وَأَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَنَعَّمَنَا اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ أَلْفَتْنَا نِعْمَتُكَ بِكُلِّ شَرٍّ فَأَصْبَحْنَا مِنْهَا، وَأَمْسَيْنَا بِكُلِّ خَيْرٍ فَنَسْأَلُكَ تَمَامَهَا وَشُكْرَهَا، لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ إِلَهَ الصَّالِحِينَ وَرَبَّ الْعَالَمِينَ، الْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيمَا رَزَقْتَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ" .
حضرت عروہ بن زبیر کے سامنے جب کوئی کھانے پینے کی چیز آتی یہاں تک کہ دوا بھی تو اس کو کھاتے پیتے اور کہتے: سب خوبیاں اسی پروردگار کو لائق ہیں جس نے ہم کو ہدایت کی، اور کھلایا، اور پلایا، اور نعمتیں عطا فرمائیں، وہ اللہ بڑا ہے، اے پروردگار! تیری نعمت اس وقت آئی جب ہم سراسر برائی میں مصروف تھے، ہم نے صبح کی اور شام کی اس نعمت کی وجہ سے اچھی طرح، ہم چاہتے ہیں تو پورا کرے اس نعمت کو، اور ہمیں شکر کی توفیق دے، سوائے تیری بہتری کے کہیں بہتری نہیں ہے، کوئی معبود برحق نہیں سوائے تیرے۔ اے پروردگار نیکوں کے، اور پالنے والے سارے جہاں کے، سب خوبیاں اللہ کو زیبا ہیں، کوئی سچا معبود نہیں سوائے اس کے، جو چاہتا ہے اللہ وہی ہوتا ہے، کسی میں طاقت نہیں سوائے اللہ کے، یا اللہ برکت دے ہماری روزی میں، اور بچا ہم کو دوزخ کے عذاب سے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1699]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 24502، 29559، فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 34»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1699B1
قَالَ يَحْيَى: سُئِلَ مَالِك هَلْ تَأْكُلُ الْمَرْأَةُ مَعَ غَيْرِ ذِي مَحْرَمٍ مِنْهَا أَوْ مَعَ غُلَامِهَا؟ فَقَالَ مَالِك: لَيْسَ بِذَلِكَ بَأْسٌ، إِذَا كَانَ ذَلِكَ عَلَى وَجْهِ مَا يُعْرَفُ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَأْكُلَ مَعَهُ مِنَ الرِّجَالِ، قَالَ: وَقَدْ تَأْكُلُ الْمَرْأَةُ مَعَ زَوْجِهَا، وَمَعَ غَيْرِهِ مِمَّنْ يُؤَاكِلُهُ، أَوْ مَعَ أَخِيهَا عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ، وَيُكْرَهُ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَخْلُوَ مَعَ الرَّجُلِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا حُرْمَةٌ
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ اگر عورت غیر محرم مرد یا اپنے غلام کے ساتھ کھانا کھائے تو کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: کچھ قباحت نہیں ہے جب کہ عزت کے موافق ہو (یعنی ایسی صورت ہو جو اس عورت کے لیے بہتر ہو) اور وہ یہ کہ اس جگہ اور لوگ بھی ہوں، اور کہا کہ عورت بھی اپنے خاوند کے ساتھ کھاتی ہے، کبھی غیر کے ساتھ جس کو خاوند کھانا کھلایا کرتا ہے، کبھی بھائی کے ساتھ، اور مکروہ ہے عورت کو خلوت کرنا غیر محرم کے ساتھ۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1699B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 49 - كِتَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-ح: 35»