🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. ‏ بَابُ ذِكْرِ وُجُوبِ الْوُضُوءِ مِنَ الْمَذْيِ،
مذی سے وضو کے واجب ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q18
وَهُوَ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي قَدْ أَعْلَمْتُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ يُوجِبُ الْحُكْمَ فِي كِتَابِهِ بِشَرْطٍ، وَيُوجِبُهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَيْرِ ذَلِكَ الشَّرْطِ، إِذِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَذْكُرْ فِي آيَةِ الْوُضُوءِ الْمَذْيَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَوْجَبَ الْوُضُوءَ مِنَ الْمَذْيِ، وَاتَّفَقَ عُلَمَاءُ الْأَمْصَارِ قَدِيمًا وَحَدِيثًا عَلَى إِيجَابِ الْوُضُوءِ مِنَ الْمَذْيِ
یہ حکم اسی قسم سے ہے جسے میں نے بیان کیا تھا کہ کبھی اللہ تعالیٰ ایک حکم کو اپنی کتاب میں مشروط واجب کرتا ہے پھر اسی حکم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے غیر مشروط واجب کر دیتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آیتِ وضو میں مذی کا ذکر نہیں کیا جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مذی سے وضو واجب قرار دیا ہے۔ تمام شہروں کے قدیم و جدید علماء کا اتفاق ہے کہ مذی سے وضو واجب ہو جاتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَحْدَاثِ الْمُوجِبَةِ لِلْوُضُوءِ/حدیث: Q18]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، وَفُضَالَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْكُوفِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ: قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ ، وَقَالَ الآخَرُونَ: عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلا مَذَّاءً، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لأَنَّ ابْنَتَهُ كَانَتْ عِنْدِي، فَأَمَرْتُ رَجُلا فَسَأَلَهُ، فَقَالَ:" مِنْهُ الْوُضُوءُ"
سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں بہت زیادہ مذی والا شخص تھا، میں نے (اس بارے میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پُوچھنے میں شرم محسوس کی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھی، میں نے ایک آدمی کو (یہ مسئلہ پوچھنے کا) حکم دیا تو اُس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہ مسئلہ) پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مذی (نکلنے) سے وضو کرنا ہو گا۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَحْدَاثِ الْمُوجِبَةِ لِلْوُضُوءِ/حدیث: 18]
تخریج الحدیث: «صحیح بخارى، كتاب العلم، باب من استحيا فامر غيره بالسؤال رقم: 132، 178، 269، سنن نسائی، رقم: 152، مسند: احمد: 125/1، امن طريق أبى حصین، ابن ماجه رقم: 504، ارواء الغليل 47 - 125»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ وَهُوَ الأَعْمَشُ يُحَدِّثُ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَذْيِ مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ، فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" فِيهِ الْوُضُوءُ"
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے مذی کے متعلق مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے شرم محسوس کی تو میں نے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو (یہ مسئلہ پوچھنے کا) حکم دیا۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس(مذی) میں وضو کرنا (واجب) ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَحْدَاثِ الْمُوجِبَةِ لِلْوُضُوءِ/حدیث: 19]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، کتاب الحيض، باب المذى: 303، سنن نسائی، رقم الحديث: 157، مسند احمد: 1121»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں