🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. ‏ بَابُ الْأَمْرِ بِغَسْلِ الْفَرْجِ مِنَ الْمَذْيِ مَعَ الْوُضُوءِ‏.‏
مذی نکلنے سے وضو کرتے وقت شرم گاہ دھونے کے حکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ: حَدَّثَنِي. ح وَقَالَ بِشْرٌ: قَالَ: حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عُمَيْلَةَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلا مَذَّاءً، فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ فِي الشِّتَاءِ حَتَّى تَشَقَّقَ ظَهْرِي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ ذُكِرَ لَهُ، فَقَالَ لِي:" لا تَفْعَلْ، إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ، وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلاةِ، فَإِذَا أَنْضَحْتَ الْمَاءَ، فَاغْتَسَلَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ: لا تَفْعَلْ: مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَقُولُ لَفْظُ زَجْرٍ، يُرِيدُ نَفْيَ إِيجَابِ ذَلِكَ الْفِعْلِ
سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں بکثرت مذی والا شخص تھا۔ میں سردی کے موسم میں غسل کرتا تھا یہاں تک کہ میری کمر سردی کی وجہ سے پھٹ گئی (اس میں درد ہونے لگا) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: یہ (غسل) نہ کرو، جب تم مذی (نکلی ہوئی) دیکھو تو شرم گاہ دھو لو اور نماز کو وضو جیسا وضو کر لو، اور جب تمہاری منی نکل جائے تو غسل کرو۔ امام ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «‏‏‏‏لا تفعل» ‏‏‏‏ نہ کرو کلمہ زجر ہے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مذی نکلنے پر غسل کرنے کے وجوب کی نفی کرنا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَحْدَاثِ الْمُوجِبَةِ لِلْوُضُوءِ/حدیث: 20]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح، سنن ابی داود، كتاب الطهارة، باب المذى: 206، النسائي، الطهارة باب الغسل من المغنى رقم: 193، عن قتبه به مسند احمد: 826»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں