صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1136. (185) بَابُ ذِكْرِ بَعْضِ أَحْدَاثِ نِسَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ الَّذِي مِنْ أَجْلِهِ مُنِعْنَ الْمَسَاجِدَ.
بنی اسرائیل کی عورتوں کے کچھ فتنوں کا بیان جن کی وجہ سے انہیں مساجد میں آںے سے روک دیا گیا تھا
حدیث نمبر: 1699
نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ الإِيَادِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الدُّنْيَا، فَقَالَ:" إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَاتَّقُوهَا، وَاتَّقُوا النِّسَاءَ"، ثُمَّ ذَكَرَ نِسْوَةً ثَلاثًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ: امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ تُعْرَفَانِ، وَامْرَأَةً قَصِيرَةً لا تُعْرَفُ، فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ، وَصَاغَتْ خَاتَمًا، فَحَشَتْهُ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ الْمِسْكِ، وَجَعَلَتْ لَهُ غُلْفًا، فَإِذَا مَرَّتِ الْمَسْجِدَ أَوْ بِالْمَلإِ قَالَتْ بِهِ فَفَتَحَتْهُ، فَفَاحَ رِيحُهُ، قَالَ الْمُسْتَمِرُّ بِخِنْصَرِهِ الْيُسْرَى: فَأَشْخَصَهَا دُونَ أَصَابِعِهِ الثَّلاثِ شَيْئًا، وَقَبَضَ الثَّلاثَ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کا تذکرہ کیا تو فرمایا: ”بلاشبہ دنیا سرسبز و دلکش اور شیریں و لذیذ ہے لہٰذا اس (کے فتنوں) سے بچو اور عورتوں (کے فتنے) سے بچ کر رہنا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کی تین عورتوں کا ذکر کیا، دو عورتیں دراز قد تھیں (اس لئے) مشہور و معروف تھیں اور ایک عورت پست قد تھی جو معروف نہ تھی تو اُس نے (شہرت حاصل کرنے کے لئے) لکڑی کی دو (اونچی ایڑھی والی) جوتیاں بنوائیں اور ایک انگوٹھی بنوائی اور اسے بہترین خوشبو کستوری سے بھر دیا اور اُس کا ایک غلاف بھی بنوایا۔ لہٰذا جب وہ مسجد میں جاتی یا کسی مجلس کے پاس سے گزرتی تو اس غلاف کو ہٹا دیتی جس سے خوشبو کھل جاتی اور ہر طرف اس کی مہک پھیل جاتی۔ جناب مستمر فرماتے ہیں کہ وہ اپنی چھنگلی انگلی کے ساتھ خوشبو بکھیرتی تھی۔ انہوں نے تین انگلیوں کو بند کر کے چھنگلی انگلی کو تھوڑا سا جھکا کر دکھایا کہ اس طرح کر تی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ صَلَاةِ النِّسَاءِ فِي الْجَمَاعَةِ/حدیث: 1699]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1738، وابن الجارود فى "المنتقى"، 945، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1699، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 275، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1339، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1904، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3158، 4344، والترمذي فى (جامعه) برقم: 991، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2873، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6607، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11173»
حدیث نمبر: 1700
نا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، كَانَ إِذَا رَأَى النِّسَاءَ، قَالَ: " أَخِّرُوهُنَّ حَيْثُ جَعَلَهُنَّ اللَّهُ"، وَقَالَ:" إِنَّهُنَّ مَعَ بَنِي إِسْرَائِيلَ يَصْفُفْنَ مَعَ الرِّجَالِ، كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَلْبَسُ الْقَالِبَ فَتَطَالُ لِخَلِيلِهَا، فَسُلِّطَتْ عَلَيْهِنَّ الْحَيْضَةُ، وَحُرِّمَتْ عَلَيْهِنَّ الْمَسَاجِدُ" . وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا رَآهُنَّ، قَالَ: أَخِّرُوهُنَّ حَيْثُ جَعَلَهُنَّ اللَّهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الْخَبَرُ مَوْقُوفٌ غَيْرُ مُسْنَدٍ
جناب عبدالرحمٰن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب عورتوں کو دیکھتے تو فرماتے کہ انہیں پیچھے رکھو جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کا مقام و مرتبہ رکھا ہے اور فرماتے، یہ عورتیں بنی اسرائیل کے مردوں کے ساتھ (نماز میں) صفیں بناتی تھیں۔ ایک عورت (لمبی ہونے کے لئے) سانچہ پہن لیتی تاکہ اپنے آشنا کے لئے اونچی ہوسکے (اس جرم کی سزا میں) ان پر حیض مسلط کر دیا گیا اور ان پر مساجد میں آنا حرام قرار دے دیا گیا۔ اور حضرت عبداللہ جب انہیں دیکھتے تو فرماتے کہ انہیں اسی جگہ مؤخر رکھو جہاں انہیں اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ روایت موقوف ہے مسند نہیں ہے - [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ صَلَاةِ النِّسَاءِ فِي الْجَمَاعَةِ/حدیث: 1700]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح موقوف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1700، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 391، وأخرجه عبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 5115، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 9483، 9484»