🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1137. (186) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي إِمَامَةِ الْمَمَالِيكِ الْأَحْرَارِ إِذَا كَانَ الْمَمَالِيكُ أَقْرَأَ مِنَ الْأَحْرَارِ.
غلام شخص کا آزاد لوگوں کو امامت کرانا درست ہے جبکہ غلام آزاد لوگوں سے زیادہ بڑا قاری اور عالم دین ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1701
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اجْتَمَعَ ثَلاثَةٌ أَمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ، وَخَبَرِ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَخَبَرِ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ الْعَبِيدَ إِذَا كَانُوا أَقْرَأَ مِنَ الأَحْرَارِ كَانُوا أَحَقَّ بِالإِمَامَةِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْتَثْنِ فِي الْخَبَرِ حُرًّا دُونَ مَمْلُوكٍ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تین افراد جمع ہو جائیں تو اُن میں سے ایک ان کی امامت کرائے، اور اُن میں امامت کا زیادہ حقدار اُن میں سے بڑا قاری اور عالم دین ہے - امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اور قتادہ سیدنا ابو قتادہ رضی الله عنہ کی سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت اور سیدنا اوس رضی اللہ عنہ کی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت میں اس بات کی دلیل ہے کہ غلام جب آزاد لوگوں سے زیادہ قرآن مجید جانتے ہوں تو وہ امامت کے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں آزاد شخص کو غلام سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔ (بلکہ سب کا حُکم ایک ہی ہے)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ صَلَاةِ النِّسَاءِ فِي الْجَمَاعَةِ/حدیث: 1701]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 672، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1508، 1701، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2132، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 781، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2608، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1289، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5206، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1070، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11360»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں