صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1137. (186) باب الرخصة فى إمامة المماليك الأحرار إذا كان المماليك أقرأ من الأحرار.
غلام شخص کا آزاد لوگوں کو امامت کرانا درست ہے جبکہ غلام آزاد لوگوں سے زیادہ بڑا قاری اور عالم دین ہو
حدیث نمبر: 1701
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اجْتَمَعَ ثَلاثَةٌ أَمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ، وَخَبَرِ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَخَبَرِ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ الْعَبِيدَ إِذَا كَانُوا أَقْرَأَ مِنَ الأَحْرَارِ كَانُوا أَحَقَّ بِالإِمَامَةِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْتَثْنِ فِي الْخَبَرِ حُرًّا دُونَ مَمْلُوكٍ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تین افراد جمع ہو جائیں تو اُن میں سے ایک ان کی امامت کرائے، اور اُن میں امامت کا زیادہ حقدار اُن میں سے بڑا قاری اور عالم دین ہے -“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اور قتادہ سیدنا ابو قتادہ رضی الله عنہ کی سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت اور سیدنا اوس رضی اللہ عنہ کی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت میں اس بات کی دلیل ہے کہ غلام جب آزاد لوگوں سے زیادہ قرآن مجید جانتے ہوں تو وہ امامت کے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں آزاد شخص کو غلام سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔ (بلکہ سب کا حُکم ایک ہی ہے)۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة النساء فى الجماعة/حدیث: 1701]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 672، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1508، 1701، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2132، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 781، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2608، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1289، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5206، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1070، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11360»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1701 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1701
فوائد:
اس حدیث کی وضاحت حدیث 1500 کے تحت بیان ہو چکی ہے۔
اس حدیث کی وضاحت حدیث 1500 کے تحت بیان ہو چکی ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1701]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1701 in Urdu
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري