صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جمعہ کے دن غسل فضیلت کا باعث ہے فرض نہیں ہے
حدیث نمبر: 1756
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ يَعْقُوبُ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، وَقَالَ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ: عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَدَنَا وَأَنْصَتَ , وَاسْتَمَعَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ , وَمَنْ مَسَّ الْحَصَا فَقَدْ لَغَا"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے جمعہ کے دن وضو کیا اور خوب اچھا وضو کیا، پھر جمعہ کے لئے آیا (تو امام کے) قریب ہوکر بیٹھا، خاموش رہا اور اُس نے بڑے غور سے خطبہ سُنا تو اُس کے اس جمعہ کے اور گز شتہ جمعہ کے درمیانی گناہ اور مزید تین دن کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور جس شخص نے کنکریوں کو چھوا تو اُس نے لغو کام کیا۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1756]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 857، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1756، 1762، 1803، 1818، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1231، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1049، وأبو داود فى (سننه) برقم: 343، والترمذي فى (جامعه) برقم: 498، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1025، 1090، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5765، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9615»
حدیث نمبر: 1757
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَبِهَا وَنِعْمَتْ , وَمَنِ اغْتَسَلَ فَذَاكَ أَفْضَلُ"
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے وضو کیا تو وہ بہت اچھا اور عمدہ ہے۔ اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل و اعلیٰ ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1757]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 314، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1757، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1379، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1696، وأبو داود فى (سننه) برقم: 354، والترمذي فى (جامعه) برقم: 497، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1581، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1428، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20406»